بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: لوگوں کو شہادتین کی طرف بلانے اور اسلام کے ارکان کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: لوگوں کو شہادتین کی طرف بلانے اور اسلام کے ارکان کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 19 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٍ ، زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رُبَّمَا، قَالَ وَكِيعٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاذًا، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی شیبہ، ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے وکیع سے حدیث سنائی۔ ابوبکر نے کہا: وکیع نے ہمیں زکریا بن اسحاق سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابومعبدسے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی (ابوبکر نے کہا: بعض اوقات وکیع کہا) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھیجا اور فرمایا: تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، انہیں اس کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ اس میں (تمہاری) اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ (زکاۃ) فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا اور ان کے محتاجوں کو واپس کیا جائے گا، پھر اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے احتراز کرنا (زکاۃ میں سب سے اچھا مال وصول نہ کرنا) اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس (بددعا) کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 121]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 121 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٍ ، زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رُبَّمَا، قَالَ وَكِيعٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاذًا، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی شیبہ، ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے وکیع سے حدیث سنائی۔ ابوبکر نے کہا: وکیع نے ہمیں زکریا بن اسحاق سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابومعبدسے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی (ابوبکر نے کہا: بعض اوقات وکیع کہا) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھیجا اور فرمایا: تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، انہیں اس کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ اس میں (تمہاری) اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ (زکاۃ) فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا اور ان کے محتاجوں کو واپس کیا جائے گا، پھر اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے احتراز کرنا (زکاۃ میں سب سے اچھا مال وصول نہ کرنا) اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس (بددعا) کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 121]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 19 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق . ح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن سری اور ابوعاصم نے زکریا بن اسحاق سے خبر دی کہ یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابومعبدسے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جناب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو گے۔ آگے وکیع کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 122]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 122 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق . ح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن سری اور ابوعاصم نے زکریا بن اسحاق سے خبر دی کہ یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابومعبدسے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جناب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو گے۔ آگے وکیع کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 122]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 19 صحیح مسلم
أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن امیہ نے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی سے، انہوں نے ابومعبدسے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے (جو) اہل کتاب ہیں۔ تو سب سے پہلی بات جس کی طرف تم ان کو دعوت دو گے، اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے (مالداروں کے) اموال سے لے کر ان کے فقراء کو دی جائے گی۔ جب وہ اس کو مان لیں تو ان سے (زکاۃ) لینا اور ان کے زیادہ قیمتی اموال سے احتراز کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 123]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 123 صحیح مسلم
أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا فَعَلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن امیہ نے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی سے، انہوں نے ابومعبدسے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے (جو) اہل کتاب ہیں۔ تو سب سے پہلی بات جس کی طرف تم ان کو دعوت دو گے، اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے (مالداروں کے) اموال سے لے کر ان کے فقراء کو دی جائے گی۔ جب وہ اس کو مان لیں تو ان سے (زکاۃ) لینا اور ان کے زیادہ قیمتی اموال سے احتراز کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 123]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة