بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: کافر کو لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 95 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْتُلْهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا، أَفَأَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو، وہ مجھ سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 274]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 274 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي، فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْتُلْهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا، أَفَأَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ابن شہاب (زہری) سے، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبیداللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو، وہ مجھ سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 274]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 95 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الأَوْزَاعِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَمَّا الأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ، وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ: فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کے ساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں (لیث کی) سابقہ حدیث کی طرح «أسلمت للہ» میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے «لا إلہ إلا اللہ» کہہ دیا۔ (دونوں کا حاصل ایک ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 275]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 275 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الأَوْزَاعِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَمَّا الأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ، وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ: فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کے ساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں (لیث کی) سابقہ حدیث کی طرح «أسلمت للہ» میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے «لا إلہ إلا اللہ» کہہ دیا۔ (دونوں کا حاصل ایک ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 275]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 95 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ِ أَخْبَرَهُ، أَنّ َ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر دی کہ حضرت مقداد بن عمرو (ابن اسود) کندی رضی اللہ عنہ نے، جو بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (غزوہ) بدر میں شرکت کی تھی، عرض کی: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کافروں میں سے ایک آدمی سے میرا سامنا ہو جائے ..... آگے ایسے ہی ہے جیسے لیث کی (روایت کردہ) سابقہ حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 276]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 276 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ِ أَخْبَرَهُ، أَنّ َ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيَّ ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ؟ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر دی کہ حضرت مقداد بن عمرو (ابن اسود) کندی رضی اللہ عنہ نے، جو بنو زہرہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (غزوہ) بدر میں شرکت کی تھی، عرض کی: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کافروں میں سے ایک آدمی سے میرا سامنا ہو جائے ..... آگے ایسے ہی ہے جیسے لیث کی (روایت کردہ) سابقہ حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 276]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 96 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي ظِبْيَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ، قَالَ: " أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ، حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟ " فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ، وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونُ فِتْنَةٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے اور ان دونوں (ابومعاویہ اور ابوخالد) نے اعمش سے، انہوں نے ابوظبیان سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی (حدیث کے الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک چھوٹے لشکر میں (جنگ کے لیے) بھیجا، ہم نے صبح صبح قبیلہ جہینہ کی شاخ حرقات پر حملہ کیا، میں ایک آدمی پر قابوپا لیا تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار دیا، اس بات سے میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے «لا إله إلا اللہ» کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے اسلحے کے ڈر سے کلمہ پڑھا، آپ نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نے (دل سے) کہا ہے یا نہیں۔ پھر آپ میرے سامنے مسلسل یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ (کاش) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا (اور اسلام لانے کی وجہ سے اس کلمہ گو کے قتل کے عظیم گناہ سے بری ہو جاتا۔) ابوظبیان نے کہا: (اس پر) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اور میں اللہ کی قسم! کسی اسلام لانے والے کو قتل نہیں کروں گا جب تک ذوالبطین، یعنی اسامہ اسے قتل کرنے پر تیار نہ ہوں۔ ابوظبیان نے کہا: اس پر ایک آدمی کہنے لگا: کیا اللہ کا یہ فرمان نہیں: اور ان سے جنگ لڑو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا اللہ کا ہو جائے۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم فتنہ ختم کرنے کی خاطر جنگ لڑتے تھے جبکہ تم اور تمہارے ساتھی فتنہ برپا کرنے کی خاطر لڑنا چاہتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 277]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 277 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي ظِبْيَانَ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَأَدْرَكْتُ رَجُلًا، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ، قَالَ: " أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ، حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا؟ " فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ، وَأَنْتَ، وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونُ فِتْنَةٌ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے حدیث سنائی اور ابوکریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابومعاویہ سے اور ان دونوں (ابومعاویہ اور ابوخالد) نے اعمش سے، انہوں نے ابوظبیان سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی (حدیث کے الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک چھوٹے لشکر میں (جنگ کے لیے) بھیجا، ہم نے صبح صبح قبیلہ جہینہ کی شاخ حرقات پر حملہ کیا، میں ایک آدمی پر قابوپا لیا تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار دیا، اس بات سے میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے «لا إله إلا اللہ» کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس نے اسلحے کے ڈر سے کلمہ پڑھا، آپ نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نے (دل سے) کہا ہے یا نہیں۔ پھر آپ میرے سامنے مسلسل یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ (کاش) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا (اور اسلام لانے کی وجہ سے اس کلمہ گو کے قتل کے عظیم گناہ سے بری ہو جاتا۔) ابوظبیان نے کہا: (اس پر) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اور میں اللہ کی قسم! کسی اسلام لانے والے کو قتل نہیں کروں گا جب تک ذوالبطین، یعنی اسامہ اسے قتل کرنے پر تیار نہ ہوں۔ ابوظبیان نے کہا: اس پر ایک آدمی کہنے لگا: کیا اللہ کا یہ فرمان نہیں: اور ان سے جنگ لڑو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا اللہ کا ہو جائے۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم فتنہ ختم کرنے کی خاطر جنگ لڑتے تھے جبکہ تم اور تمہارے ساتھی فتنہ برپا کرنے کی خاطر لڑنا چاہتے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 277]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 96 صحیح مسلم
يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، أَبُو ظِبْيَانَ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، يُحَدِّثُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، رَجُلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِينَاهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيَّ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: فَقَالَ: " أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ " قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حصین نے کہا: ہمیں ابوظبیان نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جہینہ کی شاخ (یا آبادی) حرقہ کی طرف بھیجا، ہم نے ان لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی، جنگ کے دوران میں ایک انصاری اور میں ان میں سے ایک آدمی تک پہنچ گئے جب ہم نے اسے گھیر لیا (اور وہ حملے کی زد میں آ گیا) تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ انہوں نے کہا: انصاری اس پر حملہ کرنے سے رک گیا اور میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچ گئی، اس پر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے اسامہ! کیا تو نے اس کے «لا إله إلا اللہ» کہنے کے بعد اسے قتل کر دیا؟ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ تو (اس کلمے کے ذریعے سے) محض پناہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ کہا: تو آپ نے فرمایا: کیا تو نے اسے «لا إله إلا اللہ» کہنے کے بعد قتل کر دیا؟ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی (کاش) میں آج کے دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 278]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 278 صحیح مسلم
يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، أَبُو ظِبْيَانَ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، يُحَدِّثُ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، رَجُلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِينَاهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيَّ، وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا، قَالَ: فَقَالَ: " أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ " قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حصین نے کہا: ہمیں ابوظبیان نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جہینہ کی شاخ (یا آبادی) حرقہ کی طرف بھیجا، ہم نے ان لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی، جنگ کے دوران میں ایک انصاری اور میں ان میں سے ایک آدمی تک پہنچ گئے جب ہم نے اسے گھیر لیا (اور وہ حملے کی زد میں آ گیا) تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ انہوں نے کہا: انصاری اس پر حملہ کرنے سے رک گیا اور میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچ گئی، اس پر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے اسامہ! کیا تو نے اس کے «لا إله إلا اللہ» کہنے کے بعد اسے قتل کر دیا؟ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ تو (اس کلمے کے ذریعے سے) محض پناہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ کہا: تو آپ نے فرمایا: کیا تو نے اسے «لا إله إلا اللہ» کہنے کے بعد قتل کر دیا؟ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی (کاش) میں آج کے دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 278]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 97 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، مُعْتَمِر ، أَبِي ، خَالِدًا الأَثْبَجَ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا، جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ، فَقَالَ: تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ، حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ، حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ، قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهَ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا: میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفر (نفر سے دس تک کی جماعت) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں: چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب وہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئے آئے اور کہا: جو باتیں تم کر رہے تھے، وہ کرتے رہو۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا۔ جب بات ان تک پہنچی (ان کے بولنے کی باری آئی) تو انہوں نے اپنے سر سے لمبی ٹوپی اتار دی اور کہا: میں تمہارے پاس آیا تھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں (لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنے سامنے ہوا۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس (مشرک) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا، (جندب بن عبداللہ نے) کہا: ہم ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فتح کی خوشخبری دینے والا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے (حالات کے متعلق) پوچھا، اس نے آپ کو حالات بتائے حتیٰ کہ اس آدمی (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں نے کیا کیا۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا: تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے، (پھر کہا:) میں اس پر حملہ کیا، اس نے جب تلوار دیکھی تو «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ (اسامہ رضی اللہ عنہ) کہا: جی ہاں! فرمایا: قیامت کے دن جب «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟ (اسامہ رضی اللہ عنہ نے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے۔ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن (تمہارے سامنے کلمہ) «لا إله إلا اللہ» آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟ (جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے، یہی کہہ رہے تھے: قیامت کے دن «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کیا کرو گے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 279]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 279 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، مُعْتَمِر ، أَبِي ، خَالِدًا الأَثْبَجَ ، صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدًا الأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، بَعَثَ إِلَى عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِكَ حَتَّى أُحَدِّثَهُمْ، فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا، جَاءَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ، فَقَالَ: تَحَدَّثُوا بِمَا كُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ، حَتَّى دَارَ الْحَدِيثُ، فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ، حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَتَيْتُكُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ عَنْ نَبِيِّكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّهُمُ الْتَقَوْا، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذَا شَاءَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ، قَالَ: وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ حَتَّى أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ، فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهَ، أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا، وَسَمَّى لَهُ نَفَرًا، وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى السَّيْفَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا: میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفر (نفر سے دس تک کی جماعت) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں: چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب وہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئے آئے اور کہا: جو باتیں تم کر رہے تھے، وہ کرتے رہو۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا۔ جب بات ان تک پہنچی (ان کے بولنے کی باری آئی) تو انہوں نے اپنے سر سے لمبی ٹوپی اتار دی اور کہا: میں تمہارے پاس آیا تھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں (لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنے سامنے ہوا۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس (مشرک) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا، (جندب بن عبداللہ نے) کہا: ہم ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ فتح کی خوشخبری دینے والا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے (حالات کے متعلق) پوچھا، اس نے آپ کو حالات بتائے حتیٰ کہ اس آدمی (حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں نے کیا کیا۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا: تم نے اسے کیوں قتل کیا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے، (پھر کہا:) میں اس پر حملہ کیا، اس نے جب تلوار دیکھی تو «لا إله إلا اللہ» کہہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ (اسامہ رضی اللہ عنہ) کہا: جی ہاں! فرمایا: قیامت کے دن جب «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟ (اسامہ رضی اللہ عنہ نے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے۔ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن (تمہارے سامنے کلمہ) «لا إله إلا اللہ» آئے گا تو اس کا کیا کرو گے؟ (جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے، یہی کہہ رہے تھے: قیامت کے دن «لا إله إلا اللہ» (تمہارے سامنے) آئے گا تو اس کیا کرو گے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 279]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة