بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 184 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِي ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ: انْظُرُوا، مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدِ امْتَحَشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ أَوِ الْحَيَا، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً؟ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا، اور دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالے گا، پھر فرمائے گا: دیکھو (اور) جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان پاؤ اس کو نکال لو، (ایسے) لوگ اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں زندگی یا شادابی کی نہر میں ڈالا جائے گا تو اس میں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح گھاس پھونس کا چھوٹا سا بیج سیلاب کے کنارے میں اگتا ہے تم نے اسے دیکھا نہیں کس طرح زرد، لپٹا ہوا، اگتا ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 457]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 457 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِي ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ بِرَحْمَتِهِ، وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ: انْظُرُوا، مَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنَ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا حُمَمًا قَدِ امْتَحَشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ أَوِ الْحَيَا، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ إِلَى جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَوْهَا كَيْفَ تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً؟ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اہل جنت میں سے جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا، اور دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالے گا، پھر فرمائے گا: دیکھو (اور) جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان پاؤ اس کو نکال لو، (ایسے) لوگ اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل بھن کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں زندگی یا شادابی کی نہر میں ڈالا جائے گا تو اس میں وہ اس طرح اگیں گے جس طرح گھاس پھونس کا چھوٹا سا بیج سیلاب کے کنارے میں اگتا ہے تم نے اسے دیکھا نہیں کس طرح زرد، لپٹا ہوا، اگتا ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 457]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 184 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدٌ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَا: فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ: الْحَيَاةُ، وَلَمْ يَشُكَّا، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ، أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہیب اور خالد دونوں نے عمرو بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ اس میں ہے: انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے الحیاۃ کہا جاتا ہے۔ اور دونوں نے (پچھلی روایت کی طرح اس لفظ میں) کوئی شک نہیں کیا۔ خالد کی روایت میں (یہ) ہے: جس طرح کوڑا کرکٹ (سیلاب میں بہ کر آنے والے مختلف قسم کے بیج) سیلاب کے کنارے اگتے ہیں۔ اور وہیب کی روایت میں ہے: جس طرح چھوٹا سا بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 458]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 458 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدٌ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَا: فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ: الْحَيَاةُ، وَلَمْ يَشُكَّا، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ، أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہیب اور خالد دونوں نے عمرو بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ اس میں ہے: انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے الحیاۃ کہا جاتا ہے۔ اور دونوں نے (پچھلی روایت کی طرح اس لفظ میں) کوئی شک نہیں کیا۔ خالد کی روایت میں (یہ) ہے: جس طرح کوڑا کرکٹ (سیلاب میں بہ کر آنے والے مختلف قسم کے بیج) سیلاب کے کنارے اگتے ہیں۔ اور وہیب کی روایت میں ہے: جس طرح چھوٹا سا بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 458]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 185 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ، أَوَ قَالَ: " بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً، حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا، أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن مفضل نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک دوزخ والوں کی بات ہے تو وہ لوگ جو (ہمیشہ کے لیے) اس کے باشندے ہیں نہ تو اس میں مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن تم (اہل ایمان) میں سے جن لوگوں کو گناہوں کی پاداش میں (یا آپ نے فرمایا: خطاؤں کی بنا پر) آگ کی مصیبت لاحق ہو گی تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک طرح کی موت طاری کر دے گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو سفارش کی اجازت دے دی جائے گی، پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے اہل جنت! ان پر پانی ڈالو تو وہ اس میں بیج کی طرح اگ آئیں گے جو سیلاب کے خس و خاشاک میں ہوتا ہے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ایسا لگتا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحرائی آبادی میں رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 459]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 459 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
وحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ، أَوَ قَالَ: " بِخَطَايَاهُمْ فَأَمَاتَهُمْ إِمَاتَةً، حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا، أُذِنَ بِالشَّفَاعَةِ، فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ قِيلَ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كَانَ بِالْبَادِيَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن مفضل نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک دوزخ والوں کی بات ہے تو وہ لوگ جو (ہمیشہ کے لیے) اس کے باشندے ہیں نہ تو اس میں مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن تم (اہل ایمان) میں سے جن لوگوں کو گناہوں کی پاداش میں (یا آپ نے فرمایا: خطاؤں کی بنا پر) آگ کی مصیبت لاحق ہو گی تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک طرح کی موت طاری کر دے گا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو سفارش کی اجازت دے دی جائے گی، پھر انہیں گروہ در گروہ لایا جائے گا اور انہیں جنت کی نہروں پر پھیلا دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے اہل جنت! ان پر پانی ڈالو تو وہ اس میں بیج کی طرح اگ آئیں گے جو سیلاب کے خس و خاشاک میں ہوتا ہے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ایسا لگتا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحرائی آبادی میں رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 459]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 185 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَى قَوْلِهِ: فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(بشر کے بجائے) شعبہ نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی کہا، میں نے ابونضرہ سے سنا، (انہوں نے) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی جیسی روایت میں «فِي حَمِيلِ السَّيْلِ» سیلاب کے خس و خاشاک میں (کے جملے) تک بیان کی اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 460]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 460 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبَا نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، إِلَى قَوْلِهِ: فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(بشر کے بجائے) شعبہ نے ابومسلمہ سے حدیث سنائی کہا، میں نے ابونضرہ سے سنا، (انہوں نے) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی جیسی روایت میں «فِي حَمِيلِ السَّيْلِ» سیلاب کے خس و خاشاک میں (کے جملے) تک بیان کی اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 460]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة