بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 106 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، أَبِي زُرْعَةَ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ "، قَالَ: فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَ مِرَارًا، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا، وَخَسِرُوا، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزرعہ سے خرشہ بن حر سے انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا، نہ قیامت کے روز ان کی طرف سے دیکھے گا اور نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اسے تین دفعہ پڑھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ناکام ہو گئے اور نقصان سے دوچار ہوئے، اے اللہ کے رسول! یہ کون ہیں؟ فرمایا: اپنا کپڑا (ٹخنوں سے) نیچے لٹکانے والا، احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کی مانگ بڑھانے والا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 293]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 293 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، أَبِي زُرْعَةَ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ "، قَالَ: فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَ مِرَارًا، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا، وَخَسِرُوا، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزرعہ سے خرشہ بن حر سے انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا، نہ قیامت کے روز ان کی طرف سے دیکھے گا اور نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اسے تین دفعہ پڑھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ناکام ہو گئے اور نقصان سے دوچار ہوئے، اے اللہ کے رسول! یہ کون ہیں؟ فرمایا: اپنا کپڑا (ٹخنوں سے) نیچے لٹکانے والا، احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کی مانگ بڑھانے والا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 293]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 106 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے کہا: ہمیں سلیمان اعمش نے سلیمان بن مسہر سے حدیث سنائی، انہوں نے خرشہ بن حر سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں، قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا: منان، یعنی جو احسان جتلانے کے لیے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے۔ وہ جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنے سامان کی مانگ بڑھاتا ہے اور جو اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 294]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 294 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، سُفْيَانُ ، سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے کہا: ہمیں سلیمان اعمش نے سلیمان بن مسہر سے حدیث سنائی، انہوں نے خرشہ بن حر سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں، قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا: منان، یعنی جو احسان جتلانے کے لیے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے۔ وہ جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنے سامان کی مانگ بڑھاتا ہے اور جو اپنا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 294]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 106 صحیح مسلم
بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، سُلَيْمَانَ
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(سفیان کے بجائے) شعبہ نے سلیمان اعمش سے یہی روایت انہی کی سند سے بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین (لوگوں) سے اللہ گفتگو نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 295]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 295 صحیح مسلم
بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، سُلَيْمَانَ
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(سفیان کے بجائے) شعبہ نے سلیمان اعمش سے یہی روایت انہی کی سند سے بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین (لوگوں) سے اللہ گفتگو نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 295]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 107 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: " وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، شَيْخٌ زَانٍ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک فرمائے گا (ابومعاویہ نے کہا: نہ ان کی طرف دیکھے گا) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران اور تکبر کرنے والا عیال دار محتاج۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 296]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 296 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: " وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، شَيْخٌ زَانٍ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابومعاویہ اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک فرمائے گا (ابومعاویہ نے کہا: نہ ان کی طرف دیکھے گا) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران اور تکبر کرنے والا عیال دار محتاج۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 296]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 108 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَفَى وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب دونوں نے کہا کہ ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (اور یہ الفاظ ابوبکر کی حدیث کے ہیں) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ایک) وہ آدمی جو بیابان میں ضرورت سے زائد پانی رکھتا ہے لیکن وہ مسافر کو اس سے روکتا ہے، (دوسرا) وہ جس نے کسی آدمی کے ساتھ عصر کے بعد (عین انسانوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جانے کے وقت) سامان کا سودا کیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے یہ سامان اتنی رقم میں لیا ہے جبکہ اس نے اتنے کا نہیں لیا۔ اور خریدار اس کی بات مان لیتا ہے۔ اور (تیسرا) وہ آدمی جس نے حکمران کی بیعت کی اور صرف دنیا کے لیے کی (دین کی سربلندی مقصود نہ تھی۔) اگر اس نے اسے اس (دنیا) میں سے کچھ دے دیا تو (اس نے) وفا کی اور اگر نہیں دیا تو وفادار نہ رہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 297]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 297 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا، وَفَى وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب دونوں نے کہا کہ ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (اور یہ الفاظ ابوبکر کی حدیث کے ہیں) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ایک) وہ آدمی جو بیابان میں ضرورت سے زائد پانی رکھتا ہے لیکن وہ مسافر کو اس سے روکتا ہے، (دوسرا) وہ جس نے کسی آدمی کے ساتھ عصر کے بعد (عین انسانوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جانے کے وقت) سامان کا سودا کیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے یہ سامان اتنی رقم میں لیا ہے جبکہ اس نے اتنے کا نہیں لیا۔ اور خریدار اس کی بات مان لیتا ہے۔ اور (تیسرا) وہ آدمی جس نے حکمران کی بیعت کی اور صرف دنیا کے لیے کی (دین کی سربلندی مقصود نہ تھی۔) اگر اس نے اسے اس (دنیا) میں سے کچھ دے دیا تو (اس نے) وفا کی اور اگر نہیں دیا تو وفادار نہ رہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 297]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 108 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، عَبْثَرٌ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر اور عبثر دونوں نے اپنی اپنی سند سے اعمش سے مذکورہ بالا روایت بیان کی، البتہ جریر کی روایت میں (سودا کیا کے بجائے) یہ الفاظ ہیں: ایک آدمی جس نے دوسرے آدمی کے ساتھ سامان کا بھاؤ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 298]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 298 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، عَبْثَرٌ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر اور عبثر دونوں نے اپنی اپنی سند سے اعمش سے مذکورہ بالا روایت بیان کی، البتہ جریر کی روایت میں (سودا کیا کے بجائے) یہ الفاظ ہیں: ایک آدمی جس نے دوسرے آدمی کے ساتھ سامان کا بھاؤ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 298]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 108 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُرَاهُ مَرْفُوعًا، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ، وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الأَعْمَشِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہوں (ابوصالح) نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی) آپ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، ایک آدمی جس نے عصر کے بعد مسلمان کے مال کے لیے قسم اٹھائی اور اس کا حق مار لیا۔ حدیث کا باقی حصہ اعمش کی حدیث جیسا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 299]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 299 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُرَاهُ مَرْفُوعًا، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ، وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الأَعْمَشِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہوں (ابوصالح) نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی) آپ نے فرمایا: تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، ایک آدمی جس نے عصر کے بعد مسلمان کے مال کے لیے قسم اٹھائی اور اس کا حق مار لیا۔ حدیث کا باقی حصہ اعمش کی حدیث جیسا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 299]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة