بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 298 — باب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے، احسان جتلانے، اور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے کے سخت حرمت کا بیان، اور ان تین قسم کے لوگوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ حدیث 298
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، عَبْثَرٌ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر اور عبثر دونوں نے اپنی اپنی سند سے اعمش سے مذکورہ بالا روایت بیان کی، البتہ جریر کی روایت میں (سودا کیا کے بجائے) یہ الفاظ ہیں: ایک آدمی جس نے دوسرے آدمی کے ساتھ سامان کا بھاؤ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 298]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (297) باب پر واپس اگلی حدیث (299) →