بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 132 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے، آپ نے پوچھا: کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: یہی صریح ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 340 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے، آپ نے پوچھا: کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: یہی صریح ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 340]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 132 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 341 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 341]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 133 صحیح مسلم
يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْوَسَةِ، قَالَ: " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہی تو خالص ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 342 صحیح مسلم
يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، مُغِيرَةَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْوَسَةِ، قَالَ: " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہی تو خالص ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 342]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 134 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ، حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہشام سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے (فضول) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 343 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ، حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہشام سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے (فضول) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 343]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 134 صحیح مسلم
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ، مَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟، فَيَقُولُ: اللَّهُ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ وَرُسُلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسعید مؤدب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے اللہ نے ..... پھر اوپر والی روایت کی طرح بیان کی اور اس کے رسولوں پر (ایمان لایا) کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 344 صحیح مسلم
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ، مَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟، فَيَقُولُ: اللَّهُ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ وَرُسُلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسعید مؤدب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے اللہ نے ..... پھر اوپر والی روایت کی طرح بیان کی اور اس کے رسولوں پر (ایمان لایا) کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 134 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولَ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے اپنے چچا (محمد بن مسلم زہری) سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ اس سے کہتا ہے: تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب بات یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے اور (مزید سوچنے سے) رک جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 345 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولَ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے اپنے چچا (محمد بن مسلم زہری) سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ اس سے کہتا ہے: تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب بات یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے اور (مزید سوچنے سے) رک جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 134 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ " مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل بن خالد نے کہا کہ ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بندے کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ حتیٰ کہ اس سے کہتا ہے: تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ سو جب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے۔ (یہ حدیث) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 346 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ " مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل بن خالد نے کہا کہ ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بندے کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ حتیٰ کہ اس سے کہتا ہے: تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ سو جب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے۔ (یہ حدیث) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 135 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، جَدِّي ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ، حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ "، قَالَ: وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ، أَوَ قَالَ: سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے: اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابن سیرین نے کہا: اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے دو (آدمیوں) نے (یہی) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے (یا کہا:) مجھ سے ایک (آدمی) نے (پہلے یہ) سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 347]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 347 صحیح مسلم
عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، أَبِي ، جَدِّي ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ، حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ "، قَالَ: وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ، أَوَ قَالَ: سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے: اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابن سیرین نے کہا: اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے دو (آدمیوں) نے (یہی) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے (یا کہا:) مجھ سے ایک (آدمی) نے (پہلے یہ) سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 347]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 135 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْنَادِ، وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے .... باقی حدیث عبدالوارث کی حدیث کی مانند ہے۔ تاہم انہوں نے سند میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نہیں کیا، لیکن آخر میں یہ کہا ہے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 348]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 348 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْنَادِ، وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے .... باقی حدیث عبدالوارث کی حدیث کی مانند ہے۔ تاہم انہوں نے سند میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نہیں کیا، لیکن آخر میں یہ کہا ہے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 348]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 135 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا: " هَذَا اللَّهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ "، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا اللَّهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ قَالَ: فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا قُومُوا، صَدَقَ خَلِيلِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہیں گے: یہ (ہر چیز کا خالق) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر (ایک دفعہ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے: اے ابوہریرہ! یہ اللہ ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ (ابوسلمہ نے) کہا: تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا: اٹھو اٹھو! (یہاں سے جاؤ) میرے خلیل (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے بالکل سچ فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 349]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 349 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا: " هَذَا اللَّهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ "، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا اللَّهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ قَالَ: فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا قُومُوا، صَدَقَ خَلِيلِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہیں گے: یہ (ہر چیز کا خالق) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر (ایک دفعہ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے: اے ابوہریرہ! یہ اللہ ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ (ابوسلمہ نے) کہا: تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا: اٹھو اٹھو! (یہاں سے جاؤ) میرے خلیل (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے بالکل سچ فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 349]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة