بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 20 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْر بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا، كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے (اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما چکے ہیں: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ «لا الٰه الا الله» کا اقرار کر لیں، پس جو کوئی «لا الٰه الا الله» کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس ( «لا الٰه الا الله») کا حق ہو، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کریں گے، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اللہ کی قسم! اصل بات اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا، تو میں جان گیا کہ حق یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 124 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، أَبُو بَكْرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْر بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا، كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: فَوَاللَّهِ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جناب عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وفات پائی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے (اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما چکے ہیں: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ «لا الٰه الا الله» کا اقرار کر لیں، پس جو کوئی «لا الٰه الا الله» کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس ( «لا الٰه الا الله») کا حق ہو، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کریں گے، کیونکہ زکاۃ مال (میں اللہ) کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ (اونٹ کا) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اللہ کی قسم! اصل بات اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا، تو میں جان گیا کہ حق یہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 21 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا الٰه الا الله» کے قائل ہو جائیں، چنانچہ جو «لا الٰه الا الله» کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی، الا یہ کہ اس (اقرار) کا حق ہو، اور اس شخص کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 125 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمَ مِنِّي، مَالَهُ، وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ» مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا الٰه الا الله» کے قائل ہو جائیں، چنانچہ جو «لا الٰه الا الله» کا قائل ہو گیا، اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی، الا یہ کہ اس (اقرار) کا حق ہو، اور اس شخص کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 21 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، 3 الْعَلَاءِ ، أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ 3 الْعَلَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمن بن یعقوب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیں اور مجھ پر اور جو دین میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں، چنانچہ جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے میری طرف سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس شہادت کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 126 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، 3 الْعَلَاءِ ، أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، رَوْحٌ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ 3 الْعَلَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمن بن یعقوب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیں اور مجھ پر اور جو دین میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں، چنانچہ جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے میری طرف سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس شہادت کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 21 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش ہی نے ابوصالح سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم) دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے... سعید بن مسیب کی حدیث کی طرح جو انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 127 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ " بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوسفیان سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، نیز اعمش ہی نے ابوصالح سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم) دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے... سعید بن مسیب کی حدیث کی طرح جو انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 21 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ "، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ {21} لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ {22} سورة الغاشية آية 21-22.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں گے تو انہوں نے میری طرف سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے، الا یہ کہ اس (کلمے کے) حق کا (تقاضا) ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی: «إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ» آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 128]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 128 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ "، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ {21} لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ {22} سورة الغاشية آية 21-22.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کے قائل ہو جائیں گے تو انہوں نے میری طرف سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے، الا یہ کہ اس (کلمے کے) حق کا (تقاضا) ہو، اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ پھر آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی: «إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ» آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 128]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 22 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، شُعْبَةَ ، وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوغسان مسمعی، مالک بن عبدالواحد، عبدالملک بن الصباح، شعبہ، واقد بن محمد بن زید بن عناللہ بن عمر، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ «لا إله إلا الله محمد رسول الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں اور نماز قائم نہ کر لیں اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے شروع کر لیں، اگر وہ ایسا کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنا جان و مال بچا لیا، مگر حق پر ان کا جان اور مال تعرض نہیں کیا جائے گا، ان کے دل کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 129]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 129 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، شُعْبَةَ ، وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوغسان مسمعی، مالک بن عبدالواحد، عبدالملک بن الصباح، شعبہ، واقد بن محمد بن زید بن عناللہ بن عمر، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ «لا إله إلا الله محمد رسول الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں اور نماز قائم نہ کر لیں اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے شروع کر لیں، اگر وہ ایسا کر لیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنا جان و مال بچا لیا، مگر حق پر ان کا جان اور مال تعرض نہیں کیا جائے گا، ان کے دل کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 129]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 23 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، أَبِي مَالِكٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان فزاری نے ابومالک (سعد بن طارق اشجعی) سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (طارق بن اشیم) سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے «لا إله إلا الله» کہا اور اللہ کے سوا جن کی بندگی کی جاتی ہے، ان (سب) کا انکار کیا تو اس کا مال و جان محفوظ ہو گیا اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 130]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 130 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، أَبِي مَالِكٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان فزاری نے ابومالک (سعد بن طارق اشجعی) سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (طارق بن اشیم) سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے «لا إله إلا الله» کہا اور اللہ کے سوا جن کی بندگی کی جاتی ہے، ان (سب) کا انکار کیا تو اس کا مال و جان محفوظ ہو گیا اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 130]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 23 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبِي مَالِكٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخالد احمر اور یزید بن ہارون نے ابومالک سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کو یکتا قرار دیا ...... پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 131 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبِي مَالِكٍ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ . ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخالد احمر اور یزید بن ہارون نے ابومالک سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کو یکتا قرار دیا ...... پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 131]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة