بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: جنتوں میں سب سے کم تر درجہ والے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 188 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنَ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ، أَكُونُ فِي ظِلِّهَا "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ، وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہو گا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی، وہ کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں‘ ..... آگے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے.....‘ البتہ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا: اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلاتا جائے گا: ’فلاں چیز مانگ، فلاں چیز طلب کر۔‘ اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’یہ سب کچھ تمہارا ہے اور اس سے دس گنا اور بھی۔‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا اور خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: ’اللہ کی حمد جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندگی دی۔‘ آپ نے فرمایا: تو وہ کہے گا: ’جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے ایسا کسی کو نہیں دیا گیا۔‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 464]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 464 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنَ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ، وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ، أَكُونُ فِي ظِلِّهَا "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ، وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہو گا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی، وہ کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں‘ ..... آگے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے.....‘ البتہ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا: اور اللہ تعالیٰ اسے یاد دلاتا جائے گا: ’فلاں چیز مانگ، فلاں چیز طلب کر۔‘ اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’یہ سب کچھ تمہارا ہے اور اس سے دس گنا اور بھی۔‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا اور خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی: ’اللہ کی حمد جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندگی دی۔‘ آپ نے فرمایا: تو وہ کہے گا: ’جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے ایسا کسی کو نہیں دیا گیا۔‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 464]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 189 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُطَرِّفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، الشَّعْبِيِّ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ ، الشعبي ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُطَرِّفٌ ، وَابْنُ أَبْجَرَ ، الشعبي ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سمعا الشعبي يخبر، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، وَابْنُ أَبْجَرَ ، سمعا الشعبي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ سُفْيَانُ: رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا، أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ، قَالَ: " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ: مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ كَيْفَ؟ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، فَقَالَ: فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً، قَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ: وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 الآيَة ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سعید بن عمر اشعثی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف اور (عبدالملک) ابن ابجر سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، ان شاء اللہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کردہ) روایت کے طور پر سنا، نیز ابن ابی عمر نے سفیان سے، انہوں نے مطرف اور عبدالملک بن سعید سے اور ان دونوں نے شعبی سے سن کر حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خبر دی، کہا: میں نے ان سے منبر پر سنا، وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے تھے، نیز بشر بن حکم نے مجھ سے بیان کیا (روایت کے الفاظ انہی کے ہیں) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مطرف اور ابن ابجر نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے شعبی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو (یہ) حدیث سنا رہے تھے۔ سفیان نے کہا: ان دونوں (استادوں) میں سے ایک (میرا خیال ہے ابن ابجر) نے اس روایت کو مرفوعاً (جسے صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہو) بیان کیا، آپ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے رب تعالیٰ سے پوچھا: ’جنت میں سب سے کم درجے کا (جنتی) کون ہو گا؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’وہ (ایسا) آدمی ہو گا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! کیسے؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جو لینا تھا سب کچھ لے چکے ہیں۔‘ تو اس سے کہا جائے گا: ’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ اللہ فرمائے گا: ’وہ (ملک) تمہارا ہوا، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور۔‘ پانچویں بار وہ آدمی (بے اختیار) کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہو گیا۔‘ اللہ عز وجل فرمائے گا: ’یہ (سب بھی) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ پھر (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ’اے پروردگار! تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی (جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا۔) (عزت کا) وہ (مقام) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔‘ فرمایا: اس کا مصداق اللہ عز وجل کی کتاب میں موجود ہے: کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 465]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 465 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُطَرِّفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، الشَّعْبِيِّ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ ، الشعبي ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُطَرِّفٌ ، وَابْنُ أَبْجَرَ ، الشعبي ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رِوَايَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدٍ، سمعا الشعبي يخبر، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، وَابْنُ أَبْجَرَ ، سمعا الشعبي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ سُفْيَانُ: رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا، أُرَاهُ ابْنَ أَبْجَرَ، قَالَ: " سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ: مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: هُوَ رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ كَيْفَ؟ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا؟ فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: لَكَ ذَلِكَ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، وَمِثْلُهُ، فَقَالَ: فِي الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ، فَيَقُولُ: هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: رَبِّ فَأَعْلَاهُمْ مَنْزِلَةً، قَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ، وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ: وَمِصْدَاقُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 الآيَة ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں سعید بن عمر اشعثی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، انہوں نے مطرف اور (عبدالملک) ابن ابجر سے، انہوں نے شعبی سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، ان شاء اللہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کردہ) روایت کے طور پر سنا، نیز ابن ابی عمر نے سفیان سے، انہوں نے مطرف اور عبدالملک بن سعید سے اور ان دونوں نے شعبی سے سن کر حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خبر دی، کہا: میں نے ان سے منبر پر سنا، وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے تھے، نیز بشر بن حکم نے مجھ سے بیان کیا (روایت کے الفاظ انہی کے ہیں) سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مطرف اور ابن ابجر نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے شعبی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے سنا، وہ منبر پر لوگوں کو (یہ) حدیث سنا رہے تھے۔ سفیان نے کہا: ان دونوں (استادوں) میں سے ایک (میرا خیال ہے ابن ابجر) نے اس روایت کو مرفوعاً (جسے صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہو) بیان کیا، آپ نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے رب تعالیٰ سے پوچھا: ’جنت میں سب سے کم درجے کا (جنتی) کون ہو گا؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’وہ (ایسا) آدمی ہو گا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! کیسے؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جو لینا تھا سب کچھ لے چکے ہیں۔‘ تو اس سے کہا جائے گا: ’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ملک کے برابر مل جائے؟‘ وہ کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ اللہ فرمائے گا: ’وہ (ملک) تمہارا ہوا، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور۔‘ پانچویں بار وہ آدمی (بے اختیار) کہے گا: ’میرے رب! میں راضی ہو گیا۔‘ اللہ عز وجل فرمائے گا: ’یہ (سب بھی) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو بھائے۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں راضی ہوں۔‘ پھر (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: ’اے پروردگار! تو وہ سب سے اونچے درجے کا ہے؟‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’یہی لوگ ہیں جو میری مراد ہیں، ان کی عزت و کرامت کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور اس پر مہر لگا دی (جس کے لیے چاہا محفوظ کر لیا۔) (عزت کا) وہ (مقام) نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔‘ فرمایا: اس کا مصداق اللہ عز وجل کی کتاب میں موجود ہے: کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 465]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 189 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، الشَّعْبِيَّ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(سفیان کے بجائے) عبیداللہ اشجعی نے عبدالملک بن ابجر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر کہہ رہے تھے: بے شک موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عز وجل سے اہل جنت میں سے سب سے کم حصہ پانے والے کے بارے میں پوچھا..... اور سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 466]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 466 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، الشَّعْبِيَّ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، سَأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ عَنْ أَخَسِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْهَا حَظًّا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(سفیان کے بجائے) عبیداللہ اشجعی نے عبدالملک بن ابجر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ منبر پر کہہ رہے تھے: بے شک موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عز وجل سے اہل جنت میں سے سب سے کم حصہ پانے والے کے بارے میں پوچھا..... اور سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 466]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 190 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الأَعْمَشُ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ، فَيُقَالُ: عَمِلْتَ يَوْمَ، كَذَا، وَكَذَا، كَذَا، وَكَذَا، وَعَمِلْتَ يَوْمَ، كَذَا، وَكَذَا، كَذَا، وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا "، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اہل جنت میں سے سب کے بعد جنت میں جانے والے اور اہل دوزخ میں سے سب سے آخر میں اس سے نکلنے والے کو جانتا ہوں، وہ ایک آدمی ہے جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: ’اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو (ایک طرف ہٹا دو۔)‘ تو اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کہا جائے گا: ’فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے۔‘ وہ کہے گا: ’ہاں،‘ وہ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے خوفزدہ ہو گا، (اس وقت) اسے کہا جائے گا: ’تمہارے لیے ہر برائی کے عوض ایک نیکی ہے۔‘ تو وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں نے بہت سے ایسے (برے) کام کیے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔‘ میں (ابوذر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نمایاں ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 467]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 467 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، الأَعْمَشُ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَتُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ، فَيُقَالُ: عَمِلْتَ يَوْمَ، كَذَا، وَكَذَا، كَذَا، وَكَذَا، وَعَمِلْتَ يَوْمَ، كَذَا، وَكَذَا، كَذَا، وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَا هُنَا "، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اہل جنت میں سے سب کے بعد جنت میں جانے والے اور اہل دوزخ میں سے سب سے آخر میں اس سے نکلنے والے کو جانتا ہوں، وہ ایک آدمی ہے جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائے گا: ’اس کے سامنے اس کے چھوٹے گناہ پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اٹھا رکھو (ایک طرف ہٹا دو۔)‘ تو اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور کہا جائے گا: ’فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے اور فلاں فلاں دن تو نے فلاں فلاں کام کیے۔‘ وہ کہے گا: ’ہاں،‘ وہ انکار نہیں کر سکے گا اور وہ اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے خوفزدہ ہو گا، (اس وقت) اسے کہا جائے گا: ’تمہارے لیے ہر برائی کے عوض ایک نیکی ہے۔‘ تو وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں نے بہت سے ایسے (برے) کام کیے جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔‘ میں (ابوذر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نمایاں ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 467]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 190 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش کے دو شاگردوں ابومعاویہ اور وکیع نے اپنی اپنی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 468]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 468 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش کے دو شاگردوں ابومعاویہ اور وکیع نے اپنی اپنی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 468]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 191 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، رَوْحٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كلاهما، عَنْ رَوْحٍ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ: نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا، وَكَذَا، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ، قَالَ: فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ، وَيَتَّبِعُونَهُ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ، أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ، وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ، كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ كَذَلِكَ، ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ، حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ، ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے (جنت اور جہنم میں) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ہم قیامت کے دن فلاں فلاں (سمت) سے آئیں گے (دیکھو)، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کے اوپر ہے۔ کہا: سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن (معبودوں) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی، ایک کے بعد ایک، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا: ’تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟‘ تو وہ کہیں گے: ’ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔‘ وہ فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ تو سب کہیں گے: ’(اس وقت) جب ہم تمہیں دیکھ لیں۔‘ تو وہ ہنستا ہوا ان کے سامنے جلوہ افروز ہو گا۔ انہوں نے کہا: وہ انہیں لے کر جائے گا اور وہ اس کے پیچھے ہوں گے، ان میں ہر انسان کو، منافق ہو یا مومن، ایک نور دیا جائے گا، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ جو نجات پائے گا، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے، (وہ) ستر ہزار ہوں گے، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اسی طرح (درجہ بدرجہ۔) اس کے بعد پھر شفاعت کا مرحلہ آئے گا اور (شفاعت کرنے والے) شفاعت کریں گے حتیٰ کہ ہر وہ شخص جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا ہو گا اور جس کے دل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی (ایمان) ہو گی، انہیں جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتیٰ کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس (کے جسم) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتیٰ کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 469]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 469 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، رَوْحٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كلاهما، عَنْ رَوْحٍ ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، " يُسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ، فَقَالَ: نَجِيءُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كَذَا، وَكَذَا، انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ، قَالَ: فَتُدْعَى الأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا، وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: مَنْ تَنْظُرُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَنْظُرُ رَبَّنَا، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ، وَيَتَّبِعُونَهُ، وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ، أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ وَعَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ، وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ، ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ، كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ كَذَلِكَ، ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ، وَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً، فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ، حَتَّى يَنْبُتُوا نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حُرَاقُهُ، ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے (جنت اور جہنم میں) وارد ہونے کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: ہم قیامت کے دن فلاں فلاں (سمت) سے آئیں گے (دیکھو)، یعنی اس سمت سے جو لوگوں کے اوپر ہے۔ کہا: سب امتیں اپنے اپنے بتوں اور جن (معبودوں) کی بندگی کرتی تھیں ان کے ساتھ بلائی جائیں گی، ایک کے بعد ایک، پھر اس کے بعد ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا اور پوچھے گا: ’تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟‘ تو وہ کہیں گے: ’ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔‘ وہ فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ تو سب کہیں گے: ’(اس وقت) جب ہم تمہیں دیکھ لیں۔‘ تو وہ ہنستا ہوا ان کے سامنے جلوہ افروز ہو گا۔ انہوں نے کہا: وہ انہیں لے کر جائے گا اور وہ اس کے پیچھے ہوں گے، ان میں ہر انسان کو، منافق ہو یا مومن، ایک نور دیا جائے گا، وہ اس نور کے پیچھے چلیں گے۔ اور جہنم کے پل پر کئی نوکوں والے کنڈے اور لوہے کے سخت کانٹے ہوں گے اور جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ اسے پکڑ لیں گے، پھر منافقوں کا نور بجھا دیا جائے گا اور مومن نجات پائیں گے تو سب سے پہلا گروہ جو نجات پائے گا، ان کے چہرے چودہویں کے چاند جیسے ہوں گے، (وہ) ستر ہزار ہوں گے، ان کا حساب نہیں کیا جائے گا، پھر جو لوگ ان کے بعد ہوں گے، ان کے چہرے آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گے، پھر اسی طرح (درجہ بدرجہ۔) اس کے بعد پھر شفاعت کا مرحلہ آئے گا اور (شفاعت کرنے والے) شفاعت کریں گے حتیٰ کہ ہر وہ شخص جس نے ’لا إله إلا الله‘ کہا ہو گا اور جس کے دل میں جو کے وزن کے برابر بھی نیکی (ایمان) ہو گی، انہیں جنت کے آگے کے میدان میں ڈال دیا جائے گا اور اہل جنت ان پر پانی چھڑکنا شروع کر دیں گے حتیٰ کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے کوئی چیز سیلاب میں اگ آتی ہے اور اس (کے جسم) کا جلا ہوا حصہ ختم ہو جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا حتیٰ کہ اس کو دنیا اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید عطا کر دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 469]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 191 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِهِ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انہوں نے اپنے دونوں کانوں سے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 470]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 470 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِهِ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ نَاسًا مِنَ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُمُ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: انہوں نے اپنے دونوں کانوں سے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو آگ سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 470]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 191 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، لِعَمْرِو بْنِ دِينَار ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَار : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ "، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے کہا: میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو شفاعت کے ذریعے سے آگ میں سے نکالے گا؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 471]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 471 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، لِعَمْرِو بْنِ دِينَار ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَار : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُخْرِجُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ "، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے کہا: میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو شفاعت کے ذریعے سے آگ میں سے نکالے گا؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 471]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 191 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ، يَحْتَرِقُونَ فِيهَا، إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ، حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قیس بن سلیم عنبری نے کہا: یزید الفقیر نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ کچھ لوگ آگ میں سے نکالے جائیں گے، وہ اپنے چہروں کے علاوہ (پورے کے پورے) اس میں جل چکے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 472]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 472 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمًا يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ، يَحْتَرِقُونَ فِيهَا، إِلَّا دَارَاتِ وُجُوهِهِمْ، حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قیس بن سلیم عنبری نے کہا: یزید الفقیر نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ کچھ لوگ آگ میں سے نکالے جائیں گے، وہ اپنے چہروں کے علاوہ (پورے کے پورے) اس میں جل چکے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 472]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 191 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، قَالَ: " كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ، نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ! وَاللَّهُ يَقُولُ: إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192، وَ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا سورة السجدة آية 20، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ، قَالَ: ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ، وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ، قَالَ: وَأَخَافُ أَنْ لَا أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ، قَالَ: غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ، أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا، قَالَ: يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ " فَرَجَعْنَا، قُلْنَا: وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْنَا، فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ، أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ابی ایوب نے کہا: مجھے یزید الفقیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: کہ خارجیوں کے نظریات میں سے ایک بات میرے دل میں گھر کر گئی تھی۔ ہم ایک جماعت میں نکلے جس کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں اور پھر لوگوں کے خلاف خروج کریں (جنگ کریں۔) ہم مدینہ سے گزرے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (ایک ستون کے پاس بیٹھے) لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث سنا رہے ہیں، انہوں نے اچانک ’الجہمیین‘ (جہنم سے نکل کر جنت میں پہنچنے والے لوگوں) کا تذکرہ کیا تو میں نے ان سے پوچھا: ’اے رسول اللہ کے ساتھی! یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ فرماتا ہے: «إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ» بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا اس کو رسوا کر دیا۔ اور: «كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا» وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔ تو یہ کیا بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں؟‘ (یزید نے) کہا: انہوں نے (جواب میں) کہا: ’کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟‘ میں نے عرض کی: ’ہاں!‘ انہوں نے کہا: ’کیا تم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقام کے بارے میں سنا ہے، یعنی وہ مقام جس پر قیامت کے دن آپ کو مبعوث کیا جائے گا؟‘ میں نے کہا: ’ہاں!‘ انہوں نے کہا: ’بے شک وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقام محمود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں (جہنم سے) نکالنا ہو گا نکالے گا۔‘ پھر انہوں نے (جہنم پر) پل رکھے جانے اور اس پر سے لوگوں کے گزرنے کا منظر بیان کیا۔ (یزید نے) کہا: مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا ہوں، سوائے اس کے کہ انہوں نے بتایا: کچھ لوگ جہنم میں چلے جانے کے بعد اس سے نکلیں گے، یعنی انہوں نے کہا: وہ اس طرح نکلیں گے جیسے وہ ’تلوں‘ (کے پودوں) کی لکڑیاں ہوں، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں نہائیں گے، پھر اس میں سے (کورے) کاغذوں کی طرح (ہو کر) نکلیں گے، پھر (یہ حدیث سن کر) ہم واپس آئے اور ہم نے کہا: ’تم پر افسوس! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بوڑھا (صحابی حضرت جابر رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ باندھ رہا ہے؟‘ اور ہم نے (سابقہ رائے سے) رجوع کر لیا۔ اللہ کی قسم! ہم میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے خروج نہ کیا، یا جس طرح (کے الفاظ میں) ابونعیم نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 473]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 473 صحیح مسلم
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، قَالَ: " كُنْتُ قَدْ شَغَفَنِي رَأْيٌ مِنْ رَأْيِ الْخَوَارِجِ، فَخَرَجْنَا فِي عِصَابَةٍ ذَوِي عَدَدٍ، نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ، ثُمَّ نَخْرُجَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: فَمَرَرْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَإِذَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَالِسٌ إِلَى سَارِيَةٍ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ قَدْ ذَكَرَ الْجَهَنَّمِيِّينَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُونَ! وَاللَّهُ يَقُولُ: إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192، وَ كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا سورة السجدة آية 20، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُونَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ سَمِعْتَ بِمَقَامِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي الَّذِي يَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ مَقَامُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَحْمُودُ الَّذِي يُخْرِجُ اللَّهُ بِهِ مَنْ يُخْرِجُ، قَالَ: ثُمَّ نَعَتَ وَضْعَ الصِّرَاطِ، وَمَرَّ النَّاسِ عَلَيْهِ، قَالَ: وَأَخَافُ أَنْ لَا أَكُونَ أَحْفَظُ ذَاكَ، قَالَ: غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ زَعَمَ، أَنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، بَعْدَ أَنْ يَكُونُوا فِيهَا، قَالَ: يَعْنِي فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمْ عِيدَانُ السَّمَاسِمِ، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ نَهَرًا مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ فَيَخْرُجُونَ كَأَنَّهُمُ الْقَرَاطِيسُ " فَرَجَعْنَا، قُلْنَا: وَيْحَكُمْ أَتُرَوْنَ الشَّيْخَ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْنَا، فَلَا وَاللَّهِ مَا خَرَجَ مِنَّا غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ، أَوْ كَمَا قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ابی ایوب نے کہا: مجھے یزید الفقیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: کہ خارجیوں کے نظریات میں سے ایک بات میرے دل میں گھر کر گئی تھی۔ ہم ایک جماعت میں نکلے جس کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ ہمارا ارادہ تھا کہ حج کریں اور پھر لوگوں کے خلاف خروج کریں (جنگ کریں۔) ہم مدینہ سے گزرے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (ایک ستون کے پاس بیٹھے) لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث سنا رہے ہیں، انہوں نے اچانک ’الجہمیین‘ (جہنم سے نکل کر جنت میں پہنچنے والے لوگوں) کا تذکرہ کیا تو میں نے ان سے پوچھا: ’اے رسول اللہ کے ساتھی! یہ آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ فرماتا ہے: «إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ» بے شک جس کو تو نے آگ میں داخل کر دیا اس کو رسوا کر دیا۔ اور: «كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا» وہ جب بھی اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔ تو یہ کیا بات ہے جو آپ کہہ رہے ہیں؟‘ (یزید نے) کہا: انہوں نے (جواب میں) کہا: ’کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟‘ میں نے عرض کی: ’ہاں!‘ انہوں نے کہا: ’کیا تم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقام کے بارے میں سنا ہے، یعنی وہ مقام جس پر قیامت کے دن آپ کو مبعوث کیا جائے گا؟‘ میں نے کہا: ’ہاں!‘ انہوں نے کہا: ’بے شک وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقام محمود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں (جہنم سے) نکالنا ہو گا نکالے گا۔‘ پھر انہوں نے (جہنم پر) پل رکھے جانے اور اس پر سے لوگوں کے گزرنے کا منظر بیان کیا۔ (یزید نے) کہا: مجھے ڈر ہے کہ میں اس کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکا ہوں، سوائے اس کے کہ انہوں نے بتایا: کچھ لوگ جہنم میں چلے جانے کے بعد اس سے نکلیں گے، یعنی انہوں نے کہا: وہ اس طرح نکلیں گے جیسے وہ ’تلوں‘ (کے پودوں) کی لکڑیاں ہوں، وہ جنت کی نہروں میں سے ایک نہر میں داخل ہوں گے اور اس میں نہائیں گے، پھر اس میں سے (کورے) کاغذوں کی طرح (ہو کر) نکلیں گے، پھر (یہ حدیث سن کر) ہم واپس آئے اور ہم نے کہا: ’تم پر افسوس! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ بوڑھا (صحابی حضرت جابر رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ باندھ رہا ہے؟‘ اور ہم نے (سابقہ رائے سے) رجوع کر لیا۔ اللہ کی قسم! ہم میں سے ایک آدمی کے سوا کسی نے خروج نہ کیا، یا جس طرح (کے الفاظ میں) ابونعیم نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 473]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة