بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 174 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، الشَّيْبَانِيُّ ، زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عباد بن عوام نے کہا: ہمیں شیبانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ» وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے۔ زر نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 432]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 432 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، الشَّيْبَانِيُّ ، زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عباد بن عوام نے کہا: ہمیں شیبانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ» وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے۔ زر نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 432]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 174 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے زر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» جھوٹ نہ دیکھا دل نے، جو دیکھا پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 433]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 433 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے زر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» جھوٹ نہ دیکھا دل نے، جو دیکھا پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 433]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 174 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے سلیمان شیبانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے زر بن حبیش سے سنا، کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت: «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو ان کی (اصل) صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 434]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 434 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے سلیمان شیبانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے زر بن حبیش سے سنا، کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت: «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو ان کی (اصل) صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 434]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 175 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (اللہ کے فرمان) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے دیکھا (کے بارے میں کہا): آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 435]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 435 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (اللہ کے فرمان) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے دیکھا (کے بارے میں کہا): آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبریل کو دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 435]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 176 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " رَآهُ بِقَلْبِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) دل سے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 436]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 436 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " رَآهُ بِقَلْبِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) دل سے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 436]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 176 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الأَعْمَشُ ، زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، قَالَ: " رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے زیاد بن حصین ابوجہمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا اور «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا (کے بارے میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) اپنے دل سے دو بار دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 437]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 437 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الأَعْمَشُ ، زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، قَالَ: " رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے زیاد بن حصین ابوجہمہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا اور «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا (کے بارے میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے (رب تعالیٰ کو) اپنے دل سے دو بار دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 437]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 176 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الأَعْمَشِ ، أَبُو جَهْمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(وکیع کے بجائے) حفص بن غیاث نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوجہمہ (زیاد بن حصین) نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 438]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 438 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، الأَعْمَشِ ، أَبُو جَهْمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(وکیع کے بجائے) حفص بن غیاث نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوجہمہ (زیاد بن حصین) نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 438]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 177 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَت: يَا أَبَا عَائِشَةَ، ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، قَالَ: وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي، أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، فَقَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الأُمَّةِ، سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ، لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا، غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ، سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ "، فَقَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103؟ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ سورة الشورى آية 51؟ قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، وَاللَّهُ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ سورة المائدة آية 67، قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ، أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَة، وَاللَّهُ يَقُولُ: قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابوعائشہ! (یہ مسروق کی کنیت ہے) تین چیزیں ہیں، جس نے ان میں سے کوئی بات کہی، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ میں نے پوچھا: وہ باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ انہوں نے کہا: میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو (یہ بات سنتے ہی) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے (بات کرنے کا) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» بے شک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا (اسی طرح) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’وہ یقیناً جبریل ہیں، میں انہیں اس شکل میں، جس میں پیدا کیے گئے، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا: ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا۔‘ پھر ام المؤمنین نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا: «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ» اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانے والے (فرشتے) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے، بلاشبہ وہ بہت بلند اور دانا ہے۔ (ام المؤمنین نے) فرمایا: جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ» اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا (فریضہ رسالت ادا نہ کیا۔) (اور) انہوں نے فرمایا: اور جو شخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ» (اے نبی!) فرما دیجیے! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے، غیب نہیں جانتا، سوائے اللہ کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 439]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 439 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَت: يَا أَبَا عَائِشَةَ، ثَلَاثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالَتْ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، قَالَ: وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي، أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13، فَقَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الأُمَّةِ، سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ، لَمْ أَرَهُ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا، غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ، سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ "، فَقَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ سورة الأنعام آية 103؟ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ سورة الشورى آية 51؟ قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَتَمَ شَيْئًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ، وَاللَّهُ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ سورة المائدة آية 67، قَالَتْ: وَمَنْ زَعَمَ، أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَكُونُ فِي غَدٍ، فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَة، وَاللَّهُ يَقُولُ: قُلْ لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ الْغَيْبَ إِلا اللَّهُ سورة النمل آية 65،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابوعائشہ! (یہ مسروق کی کنیت ہے) تین چیزیں ہیں، جس نے ان میں سے کوئی بات کہی، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ میں نے پوچھا: وہ باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ انہوں نے کہا: میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو (یہ بات سنتے ہی) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے (بات کرنے کا) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» بے شک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا (اسی طرح) «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’وہ یقیناً جبریل ہیں، میں انہیں اس شکل میں، جس میں پیدا کیے گئے، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا: ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا۔‘ پھر ام المؤمنین نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا: «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ» اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانے والے (فرشتے) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے، بلاشبہ وہ بہت بلند اور دانا ہے۔ (ام المؤمنین نے) فرمایا: جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ» اے رسول! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا (فریضہ رسالت ادا نہ کیا۔) (اور) انہوں نے فرمایا: اور جو شخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ» (اے نبی!) فرما دیجیے! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے، غیب نہیں جانتا، سوائے اللہ کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 439]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 177 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، دَاوُدُ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ، قَالَتْ: " وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ سورة الأحزاب آية 37 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(اسماعیل کے بجائے) عبدالوہاب نے کہا: ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی (اسماعیل بن ابراہیم) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی، چھپانے والے ہوتے، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے: «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ» اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے (بھی) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا، آپ لوگوں (کے طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 440]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 440 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ ، دَاوُدُ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ، قَالَتْ: " وَلَوْ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ سورة الأحزاب آية 37 "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(اسماعیل کے بجائے) عبدالوہاب نے کہا: ہمیں داود نے اسی طرح حدیث سنائی (اسماعیل بن ابراہیم) ابن علیہ سے بیان کی اور اس میں اضافہ کیا کہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی، چھپانے والے ہوتے، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے: «وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ» اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے (بھی) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا، آپ لوگوں (کے طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 440]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 177 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، إِسْمَاعِيل ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصته وحديث داود، أتم، وأطول.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل (بن ابی خالد) نے (عامر بن شراحیل) شعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! جو تم نے کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ پھر (اسماعیل نے) پورے قصے سمیت حدیث بیان کی لیکن داود کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 441]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 441 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، إِسْمَاعِيل ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ؟ فَقَالَتْ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصته وحديث داود، أتم، وأطول.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل (بن ابی خالد) نے (عامر بن شراحیل) شعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! جو تم نے کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ پھر (اسماعیل نے) پورے قصے سمیت حدیث بیان کی لیکن داود کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 441]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة