عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَسْتَفْتِحُ، فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: بِكَ أُمِرْتُ، لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا۔ جنت کا دربان پوچھے گا: ’آپ کون ہیں؟‘ میں جواب دوں گا: ’محمد!‘ وہ کہے گا: ’مجھے آپ ہی کے بارے میں حکم ملا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔‘“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 486]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة