مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرًا ، الْقَعْقَاعِ ، أَبِيكَ ، سُفْيَانُ ، سُهَيْلٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، تَمِيمٍ الدَّارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِسُهَيْلٍ: إِنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا، عَنْ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِيكَ ، قَالَ: وَرَجَوْتُ أَنْ يُسْقِطَ عَنِّي رَجُلًا، قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي، كَانَ صَدِيقًا لَهُ بِالشَّامِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الدِّينُ النَّصِيحَةُ، قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے سہیل سے کہا کہ عمرو نے ہمیں قعقاع کے واسطے سے آپ کے والد سے حدیث سنائی (سفیان نے کہا:) مجھے امید تھی کہ وہ (مجھے خود روایت سنا کر) ایک راوی کم کر دے گا (چنانچہ سہیل نے کہا) میں نے اسی سے یہ روایت سنی جس سے میرے والد نے سنی، وہ شام میں ان کا دوست تھا۔ (محمد بن عباد نے کہا) پھر سفیان نے ہمیں سہیل کے واسطے سے عطاء بن یزید کی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دین خیر خواہی کا نام ہے۔“ ہم (صحابہ رضی اللہ عنہم) نے پوچھا: کس کی (خیر خواہی؟) آپ نے فرمایا: ”اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانوں کی (خیر خواہی۔)“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 196]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة