بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: غیر کا مال ناحق چھیننے والے کا خون رائیگان ہے اور اگر وہ اس لڑائی کے دوران قتل ہو جائے تو جہنمی ہے اور جو مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے تو وہ شہید ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 140 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: قَاتِلْهُ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: فَأَنْتَ شَهِيدٌ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: هُوَ فِي النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو؟ فرمایا: تم اس سے لڑائی کرو۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو؟ آپ نے فرمایا: تم شہید ہو گے۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: وہ دوزخی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 360]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 360 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: قَاتِلْهُ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: فَأَنْتَ شَهِيدٌ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: هُوَ فِي النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر کوئی آدمی آ کر میرا مال چھیننا چاہے (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو؟ فرمایا: تم اس سے لڑائی کرو۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ مجھے قتل کر دے تو؟ آپ نے فرمایا: تم شہید ہو گے۔ اس نے پوچھا: آپ کی کیا رائے ہے اگر میں اسے قتل کر دوں؟ فرمایا: وہ دوزخی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 360]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 141 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، ثَابِتًا ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے سلیمان احول نے خبر دی کہ عمر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام ثابت نے انہیں بتایا کہ عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان وہ (جھگڑا) ہوا جو ہوا، تو وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے، اس وقت (ان کے چچا) خالد بن عاص رضی اللہ عنہ سوار ہو کر عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور انہیں نصیحت کی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا، وہ شہید ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 361]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 361 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، ثَابِتًا ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے سلیمان احول نے خبر دی کہ عمر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام ثابت نے انہیں بتایا کہ عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان وہ (جھگڑا) ہوا جو ہوا، تو وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے، اس وقت (ان کے چچا) خالد بن عاص رضی اللہ عنہ سوار ہو کر عبداللہ بن عمرو (بن عاص) رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور انہیں نصیحت کی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا، وہ شہید ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 361]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 141 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابن جریج کے دوسرے شاگردوں) محمد بن بکر اور ابوعاصم نے اسی مذکورہ سند کے ساتھ (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 362]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 362 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابن جریج کے دوسرے شاگردوں) محمد بن بکر اور ابوعاصم نے اسی مذکورہ سند کے ساتھ (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 362]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة