بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کمزور ایمان والے کی تالیف قلبی کرنا، اور بغیر دلیل کے کسی کو قطعی مومن کہنے کی ممانعت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: کمزور ایمان والے کی تالیف قلبی کرنا، اور بغیر دلیل کے کسی کو قطعی مومن کہنے کی ممانعت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 150 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَوْ مُسْلِمٌ، أَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا، أَوْ مُسْلِمٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تقسیم کا کچھ مال بانٹا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! فلاں کو بھی دیجیے کیونکہ وہ مومن ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان ہے۔ میں تین بار یہ بات کہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین بار میرے سامنے یہی الفاظ دہراتے ہیں: یا مسلمان ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں اللہ اس کو منہ کے بل آگ میں (نہ) ڈال دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 378]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 378 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَوْ مُسْلِمٌ، أَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا، أَوْ مُسْلِمٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تقسیم کا کچھ مال بانٹا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! فلاں کو بھی دیجیے کیونکہ وہ مومن ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان ہے۔ میں تین بار یہ بات کہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین بار میرے سامنے یہی الفاظ دہراتے ہیں: یا مسلمان ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں اللہ اس کو منہ کے بل آگ میں (نہ) ڈال دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 378]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 150 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ سَعْدٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْطَى رَهْطًا، وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ سَعْدٌ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْ مُسْلِمًا، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے نے اپنے چچا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے بن ابی وقاص نےاپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ عطا فرمایا، سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں بیٹھے تھے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا، اسے کچھ عطا نہ فرمایا، حالانکہ ان سب سے وہی مجھے زیادہ اچھا لگتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں سے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان۔ تو میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ کیونکہ اللہ کی قسم! میں نے اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان۔ بلاشبہ میں ایک آدمی کو (عطیہ) دیتا ہوں، حالانکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اسے منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 379]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 379 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ سَعْدٍ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْطَى رَهْطًا، وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ سَعْدٌ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ مُسْلِمًا، قَالَ: فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْ مُسْلِمًا، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے نے اپنے چچا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے بن ابی وقاص نےاپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو کچھ عطا فرمایا، سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں بیٹھے تھے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا، اسے کچھ عطا نہ فرمایا، حالانکہ ان سب سے وہی مجھے زیادہ اچھا لگتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں سے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان۔ تو میں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو گیا، پھر مجھ پر اس بات کا غلبہ ہوا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا، چنانچہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ کیونکہ اللہ کی قسم! میں نے اسے مومن سمجھتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یا مسلمان۔ بلاشبہ میں ایک آدمی کو (عطیہ) دیتا ہوں، حالانکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اسے منہ کے بل آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 379]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 150 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد) رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (عطیہ) دیا اور میں ان میں بیٹھا تھا ..... آگے ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے کی اپنے چچا سے روایت کی طرح ہے اور اتنا اضافہ ہے: میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ سے عرض کی: فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 380]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 380 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد) رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (عطیہ) دیا اور میں ان میں بیٹھا تھا ..... آگے ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے کی اپنے چچا سے روایت کی طرح ہے اور اتنا اضافہ ہے: میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ سے عرض کی: فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 380]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 150 صحیح مسلم
الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: أَقِتَالًا، أَيْ سَعْدُ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عامر بن سعد کے بھائی) محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کی گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا، پھر فرمایا: کیا لڑائی کر رہے ہو سعد؟ کہ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں ..... [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 381]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 381 صحیح مسلم
الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ هَذَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: أَقِتَالًا، أَيْ سَعْدُ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عامر بن سعد کے بھائی) محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری (سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کی گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا، پھر فرمایا: کیا لڑائی کر رہے ہو سعد؟ کہ میں ایک آدمی کو دیتا ہوں ..... [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 381]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة