ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: أَوْ مُسْلِمٌ، أَقُولُهَا ثَلَاثًا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا، أَوْ مُسْلِمٌ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عامر بن سعد سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تقسیم کا کچھ مال بانٹا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! فلاں کو بھی دیجیے کیونکہ وہ مومن ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یا مسلمان ہے۔“ میں تین بار یہ بات کہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین بار میرے سامنے یہی الفاظ دہراتے ہیں: ”یا مسلمان ہے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں اللہ اس کو منہ کے بل آگ میں (نہ) ڈال دے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 378]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة