بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اے نبی! اپنے قرابت داروں کو ڈراؤ۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 204 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَاجْتَمَعُوا، فَعَمَّ، وَخَصَّ، فَقَالَ: يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے عمومی طور پر (سب کو) اور خاص کر (الگ خاندانوں اور لوگوں کے نام لے کر) فرمایا: اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے بنو ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ (بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے (کسی مؤاخذے کی صورت میں) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، تم لوگوں کے ساتھ میرا رشتہ ہے، اسے میں اسی طرح جوڑتا رہوں گا جس طرح جوڑنا چاہیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 501]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 501 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَاجْتَمَعُوا، فَعَمَّ، وَخَصَّ، فَقَالَ: يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، يَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش کو بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے عمومی طور پر (سب کو) اور خاص کر (الگ خاندانوں اور لوگوں کے نام لے کر) فرمایا: اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے بنو ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے عبدالمطلب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ (بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے (کسی مؤاخذے کی صورت میں) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا، تم لوگوں کے ساتھ میرا رشتہ ہے، اسے میں اسی طرح جوڑتا رہوں گا جس طرح جوڑنا چاہیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 501]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 204 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ جَرِيرٍ، أَتَمُّ وَأَشْبَعُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک سے (جریر کے علاوہ) ابوعوانہ نے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی۔ لیکن جریر کی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 502]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 502 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَحَدِيثُ جَرِيرٍ، أَتَمُّ وَأَشْبَعُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالملک سے (جریر کے علاوہ) ابوعوانہ نے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی۔ لیکن جریر کی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 502]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 205 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ (ہاں!) میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 503]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 503 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے فاطمہ بنت محمد! اے صفیہ بنت عبدالمطلب! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ (ہاں!) میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 503]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 206 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أبا هريرة
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو آپ نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے صفیہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! مجھ سے (میرے مال میں سے) جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 504]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 504 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أبا هريرة
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، سَلِينِي بِمَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِینَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو آپ نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے صفیہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی! میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا، اے فاطمہ بنت محمد! مجھ سے (میرے مال میں سے) جو چاہو مانگ لو، میں اللہ کے (فیصلے کے) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 504]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 206 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایک اور سند سے اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 505]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 505 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایک اور سند سے اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 505]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 207 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَا: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا، ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ، إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاهْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن زریع نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے، پھر آواز دی: اے عبدمناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو وہ بلند آواز سے پکارنے لگا: ’وائے اس کی صبح (کی تباہی!)‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 506]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 506 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، وَزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَا: " لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: انْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَضْمَةٍ مِنْ جَبَلٍ، فَعَلَا أَعْلَاهَا حَجَرًا، ثُمَّ نَادَى " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافَاهْ، إِنِّي نَذِيرٌ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ رَأَى الْعَدُوَّ، فَانْطَلَقَ يَرْبَأُ أَهْلَهُ، فَخَشِيَ أَنْ يَسْبِقُوهُ فَجَعَلَ يَهْتِفُ: يَا صَبَاحَاهْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن زریع نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے، انہوں نے حضرت قبیصہ بن مخارق اور حضرت زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا کہ جب آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے، پھر آواز دی: اے عبدمناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو وہ بلند آواز سے پکارنے لگا: ’وائے اس کی صبح (کی تباہی!)‘ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 506]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 207 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبُو عُثْمَانَ ، زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(یزید بن زریع کے بجائے) معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) کے حوالے سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 507]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 507 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبُو عُثْمَانَ ، زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(یزید بن زریع کے بجائے) معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) کے حوالے سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 507]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 208 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَهَتَفَ: يَا صَبَاحَاهْ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ، أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ كَذَا، قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (گھر سے) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا: وائے اس کی صبح (کی تباہی!) سب ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: ’یہ کون پکار رہا ہے؟‘ (کچھ) لوگوں نے کہا: ’محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔‘ چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد! یہ لوگ آپ کے قریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ’ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات (سننے) کا تجربہ نہیں ہوا۔‘ آپ نے فرمایا: تو میں تمہیں آنے والے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تو ابولہب کہنے لگا: ’تمہارے لیے تباہی ہو، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟‘ پھر وہ اٹھ گیا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا۔ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 508]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 508 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى صَعِدَ الصَّفَا، فَهَتَفَ: يَا صَبَاحَاهْ، فَقَالُوا: مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْتِفُ؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي فُلَانٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ، أَنَّ خَيْلًا تَخْرُجُ بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، أَكُنْتُمْ مُصَدِّقِيَّ؟ قَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا، قَالَ: فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ "، قَالَ: فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَقَدْ تَبَّ كَذَا، قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (گھر سے) نکلے یہاں تک کہ کوہ صفا پر چڑھ گئے اور پکار کر کہا: وائے اس کی صبح (کی تباہی!) سب ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: ’یہ کون پکار رہا ہے؟‘ (کچھ) لوگوں نے کہا: ’محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔‘ چنانچہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں کی اولاد! اے فلاں کی اولاد! اے عبدمناف کی اولاد! اے عبدالمطلب کی اولاد! یہ لوگ آپ کے قریب جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے گھڑ سوار نکلنے والے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا: ’ہمیں آپ سے کبھی جھوٹی بات (سننے) کا تجربہ نہیں ہوا۔‘ آپ نے فرمایا: تو میں تمہیں آنے والے شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تو ابولہب کہنے لگا: ’تمہارے لیے تباہی ہو، کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟‘ پھر وہ اٹھ گیا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوئے اور وہ خود ہلاک ہوا۔ اعمش نے اسی طرح سورت کے آخر تک پڑھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 508]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 208 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا، فَقَالَ: " يَا صَبَاحَاهْ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابواسامہ کے بجائے) ابومعاویہ نے اعمش سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن کوہ صفا پر چڑھے اور فرمایا: وائے اس کی صبح (کی تباہی!) اس کے بعد ابواسامہ کی بیان کردہ حدیث کی طرح روایت کی، لیکن آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ کے اترنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 509]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 509 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ الصَّفَا، فَقَالَ: " يَا صَبَاحَاهْ "، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الآيَةِ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابواسامہ کے بجائے) ابومعاویہ نے اعمش سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن کوہ صفا پر چڑھے اور فرمایا: وائے اس کی صبح (کی تباہی!) اس کے بعد ابواسامہ کی بیان کردہ حدیث کی طرح روایت کی، لیکن آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ کے اترنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 509]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة