بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 83 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ "، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا: پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: حج مبرور (ایسا حج جو سراسر نیکی اور تقوے پر مبنی اور مکمل ہو۔) محمد بن جعفر کی روایت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 248]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 248 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ "، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا: پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: حج مبرور (ایسا حج جو سراسر نیکی اور تقوے پر مبنی اور مکمل ہو۔) محمد بن جعفر کی روایت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 248]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 83 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابراہیم بن سعد کے بجائے) معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 249]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 249 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابراہیم بن سعد کے بجائے) معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 249]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 84 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے ابومراوح لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ کہا: میں نے (پھر) پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو۔ کہا: میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو؟ آپ نے فرمایا: کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام (خود) کر دو۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: لوگوں سے اپنا شر روک لو (انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 250]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 250 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے ابومراوح لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ کہا: میں نے (پھر) پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو۔ کہا: میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو؟ آپ نے فرمایا: کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام (خود) کر دو۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: لوگوں سے اپنا شر روک لو (انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 250]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 84 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حَبِيبٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِي مُرَاوِحٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبد: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ للأَخْرَقَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ہشام کے بجائے) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے (تعین صانع کے بجائے) «فتعین الصانع» (الف لام کے ساتھ) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 251]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 251 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حَبِيبٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِي مُرَاوِحٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبد: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ للأَخْرَقَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ہشام کے بجائے) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے (تعین صانع کے بجائے) «فتعین الصانع» (الف لام کے ساتھ) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 251]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 85 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ، إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابواسحاق سلیمان بن فیروز کوفی) شیبانی نے ولید بن عیزار سے، انہوں نے سعد بن ایاس ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے مزید پوچھنا صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ پر گراں نہ گزرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 252]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 252 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ، إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(ابواسحاق سلیمان بن فیروز کوفی) شیبانی نے ولید بن عیزار سے، انہوں نے سعد بن ایاس ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں پوچھا: اس کے بعد کون؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے مزید پوچھنا صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ پر گراں نہ گزرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 252]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 85 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، أَبُو يَعْفُورٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا، قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابویعفور (عبدالرحمن بن عبید بن نسطانس) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابوعمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب (کردیتا) ہے؟ فرمایا: نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اور کیا؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اور کیا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 253]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 253 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، أَبُو يَعْفُورٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا، قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابویعفور (عبدالرحمن بن عبید بن نسطانس) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابوعمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب (کردیتا) ہے؟ فرمایا: نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اور کیا؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اور کیا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 253]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 85 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ: وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی (اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مجھے مزید بتاتے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 254]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 254 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ: وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی (اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مجھے مزید بتاتے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 254]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 85 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ سے ان کے ایک شاگرد محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: ابوعمرو شیبانی نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کا نام نہ لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 255]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 255 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ سے ان کے ایک شاگرد محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: ابوعمرو شیبانی نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کا نام نہ لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 255]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 85 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ، أَوِ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبیداللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: سب سے افضل اعمال (یا عمل) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 256]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 256 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ، أَوِ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبیداللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: سب سے افضل اعمال (یا عمل) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 256]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة