بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 84 — باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔ حدیث 84
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے ابومراوح لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ کہا: میں نے (پھر) پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو۔ کہا: میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو؟ آپ نے فرمایا: کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام (خود) کر دو۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: لوگوں سے اپنا شر روک لو (انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 250]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (83) باب پر واپس اگلی حدیث (85) →