بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: جو آدمی اللہ کے ساتھ شرک کیے بغیر مر گیا اس کے جنتی ہونے، اور جو شرک پر مرا اس کے جہنمی ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 92 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، الأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وَكِيعٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ النَّارَ "، وَقُلْتُ أَنَا: وَمَنْ مَاتَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (وکیع نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا) آپ فرما رہے تھے: جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ اور میں (عبداللہ) نے کہا: جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 268 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، الأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وَكِيعٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ النَّارَ "، وَقُلْتُ أَنَا: وَمَنْ مَاتَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (وکیع نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا) آپ فرما رہے تھے: جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ اور میں (عبداللہ) نے کہا: جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 268]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 93 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: " مَنْ مَاتَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ النَّارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 269 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: " مَنْ مَاتَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ النَّارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 93 صحیح مسلم
أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قُرَّةُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ، يُشْرِكُ بِهِ، دَخَلَ النَّارَ "، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: قَال أَبُو الزُّبَيْر: عَنْ جَابِرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوایوب غیلانی سلیمان بن عبیداللہ اور حجاج بن شاعر نے کہا: ہمیں عبدالملک بن عمرو نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں قرہ نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی اس حالت میں اللہ سے ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ ابوایوب کی حدیث کے الفاظ میں: ابوزبیر نے ( «حدثنا جابر» جابر نے ہمیں حدیث سنائی کے بجائے) «عن جابر» جابر سے روایت ہے کے الفاظ سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 270 صحیح مسلم
أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قُرَّةُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ، لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ، يُشْرِكُ بِهِ، دَخَلَ النَّارَ "، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: قَال أَبُو الزُّبَيْر: عَنْ جَابِرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوایوب غیلانی سلیمان بن عبیداللہ اور حجاج بن شاعر نے کہا: ہمیں عبدالملک بن عمرو نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں قرہ نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی اس حالت میں اللہ سے ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا، وہ آگ میں داخل ہو گا۔ ابوایوب کی حدیث کے الفاظ میں: ابوزبیر نے ( «حدثنا جابر» جابر نے ہمیں حدیث سنائی کے بجائے) «عن جابر» جابر سے روایت ہے کے الفاظ سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 270]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 93 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ِ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(قرہ کے بجائے) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی: بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا...... (آگے) سابقہ روایت کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 271 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ِ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(قرہ کے بجائے) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی: بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا...... (آگے) سابقہ روایت کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 271]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 94 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبَا ذَرٍّ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معرور بن سوید نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں (ابوذر) نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 272]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 272 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبَا ذَرٍّ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معرور بن سوید نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں (ابوذر) نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 272]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 94 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبِي ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ ، أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ، عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قُلْتُ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسود دیلی نے بیان کیا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس سے حدیث بیان کی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے۔ میں پھر حاضر خدمت ہوا تو (ابھی) آپ سو رہے تھے، میں پھر (تیسری دفعہ) آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: کوئی بندہ نہیں جس نے «لا إلہ إلا اللہ» کہا اور پھر اسی پر مرا مگر وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ آپ نے جواب دیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کا ارتکاب کیا ہو۔ آپ نے تین دفعہ یہی جواب دیا، پھر چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا: چاہے ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابواسود نے کہا: ابوذر (آپ کی مجلس سے) نکلے تو کہتے جاتے تھے: چاہے ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 273]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 273 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبِي ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ ، أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ، عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قُلْتُ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسود دیلی نے بیان کیا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس سے حدیث بیان کی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے۔ میں پھر حاضر خدمت ہوا تو (ابھی) آپ سو رہے تھے، میں پھر (تیسری دفعہ) آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: کوئی بندہ نہیں جس نے «لا إلہ إلا اللہ» کہا اور پھر اسی پر مرا مگر وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ آپ نے جواب دیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کا ارتکاب کیا ہو۔ آپ نے تین دفعہ یہی جواب دیا، پھر چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا: چاہے ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابواسود نے کہا: ابوذر (آپ کی مجلس سے) نکلے تو کہتے جاتے تھے: چاہے ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 273]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة