أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: " مَنْ مَاتَ، لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ، يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ النَّارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوسفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ”جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، وہ دوزخ میں داخل ہو گا۔“ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 269]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة