بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 26 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، خَالِدٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلاهما، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے خالد (حذاء) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ولید بن مسلم نے حمران سے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 136]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 136 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ عُلَيَّةَ ، خَالِدٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلاهما، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے خالد (حذاء) سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ولید بن مسلم نے حمران سے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 136]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 26 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ کے بجائے بشر بن مفضل نے بھی خالد حذاء سے یہی روایت بیان کی، انہوں نے ولید ابوبشر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ..... اس کے بعد بالکل سابقہ روایت کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 137]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 137 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ کے بجائے بشر بن مفضل نے بھی خالد حذاء سے یہی روایت بیان کی، انہوں نے ولید ابوبشر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ..... اس کے بعد بالکل سابقہ روایت کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 137]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 27 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، قَالَ: فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ، قَالَ: حَتَّى هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ، فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَجَاءَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ، وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ، قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ، قُلْتُ: وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى؟ قَالَ: كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّى مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
طلحہ بن مصرف نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کے زاد راہ ختم ہو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی کچھ سواریاں (اونٹوں) کو ذبح کرنے کا ارادہ فرما لیا اس پر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! لوگوں کا جو زاد راہ بچ گیا ہے اگر آپ اسے جمع فرما لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر برکت کی دعا فرمائیں (تو بہتر ہو گا)، کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ گندم والا اپنی گندم لایا اور کھجور والا اپنی کھجور لایا۔ طلحہ بن مصرف نے کہا: مجاہد نے کہا: جس کے پاس گٹھلیاں تھیں، وہ گٹھلیاں ہی لے آیا۔ میں نے (مجاہد سے) پوچھا: گٹھلیاں کا لوگ کیا کرتے تھے؟ کہا: ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (تھوڑے سے زاد راہ) پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی تو پھر یہاں تک ہوا کہ لوگوں نے زاد راہ کے اپنے لیے برتن بھر لیے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بھی ان دونوں (شہادتوں) کے ساتھ، ان میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا، وہ (ضرور) جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 138 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، قَالَ: فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ، قَالَ: حَتَّى هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ، فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَجَاءَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ، وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ، قَالَ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ، قُلْتُ: وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى؟ قَالَ: كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّى مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ، قَالَ: فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
طلحہ بن مصرف نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کے زاد راہ ختم ہو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی کچھ سواریاں (اونٹوں) کو ذبح کرنے کا ارادہ فرما لیا اس پر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! لوگوں کا جو زاد راہ بچ گیا ہے اگر آپ اسے جمع فرما لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر برکت کی دعا فرمائیں (تو بہتر ہو گا)، کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ گندم والا اپنی گندم لایا اور کھجور والا اپنی کھجور لایا۔ طلحہ بن مصرف نے کہا: مجاہد نے کہا: جس کے پاس گٹھلیاں تھیں، وہ گٹھلیاں ہی لے آیا۔ میں نے (مجاہد سے) پوچھا: گٹھلیاں کا لوگ کیا کرتے تھے؟ کہا: ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (تھوڑے سے زاد راہ) پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی تو پھر یہاں تک ہوا کہ لوگوں نے زاد راہ کے اپنے لیے برتن بھر لیے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بھی ان دونوں (شہادتوں) کے ساتھ، ان میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا، وہ (ضرور) جنت میں داخل ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 27 صحیح مسلم
سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَكَّ الأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْعَلُوا، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَسْرَةٍ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ، حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَفَضِلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے (اعمش کو شک ہے) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ غزوہ تبوک کے دن (سفر میں) لوگ کو (زاد راہ ختم ہو جانے کی بنا پر) فاقے لاحق ہو گئے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی ڈھونے والے اونٹ ذبح کر لیں، (ان کا گوشت) کھائیں اور (ان کی چربی) ت- تیل بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کر لو۔ (کہا:) اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی، اس کے بجائے آپ سب لوگوں کو ان کے بچے ہوئے زاد راہ سمیت بلوا لیجیے، پھر اس پر ان کے لیے اللہ سے برکت کی دعا کیجیے، امید ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) آپ نے چمڑے کا ایک دسترخوان منگوا کر بچھا دیا، پھر لوگوں کا بچا ہوا زاد راہ منگوایا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) کوئی مٹھی بھر مکئی، کوئی مٹھی بھر کھجور اور کوئی روٹی کا ٹکڑا لانے لگا یہاں تک کہ ان چیزوں سے دسترخوان پر تھوڑی سی مقدار جمع ہو گئی (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا فرمائی، پھر لوگوں سے فرمایا: اپنے اپنے برتنوں میں (ڈال کر) لے جاؤ۔ سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ انہوں نے لشکر کے برتنوں میں کوئی برتن بھرے بغیر نہ چھوڑا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) اس کے بعد سب نے مل کر (اس دسترخوان سے) سیر ہو کر کھایا لیکن کھانا پھر بھی بچا دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا: میں گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو بندہ ان دونوں میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا اسے جنت (میں داخل ہونے) سے نہیں روکا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 139]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 139 صحیح مسلم
سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ جميعا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَكَّ الأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْعَلُوا، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ، قَالَ: وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَسْرَةٍ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ، حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، وَفَضِلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے (اعمش کو شک ہے) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ غزوہ تبوک کے دن (سفر میں) لوگ کو (زاد راہ ختم ہو جانے کی بنا پر) فاقے لاحق ہو گئے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی ڈھونے والے اونٹ ذبح کر لیں، (ان کا گوشت) کھائیں اور (ان کی چربی) ت- تیل بنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کر لو۔ (کہا:) اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی، اس کے بجائے آپ سب لوگوں کو ان کے بچے ہوئے زاد راہ سمیت بلوا لیجیے، پھر اس پر ان کے لیے اللہ سے برکت کی دعا کیجیے، امید ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) آپ نے چمڑے کا ایک دسترخوان منگوا کر بچھا دیا، پھر لوگوں کا بچا ہوا زاد راہ منگوایا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) کوئی مٹھی بھر مکئی، کوئی مٹھی بھر کھجور اور کوئی روٹی کا ٹکڑا لانے لگا یہاں تک کہ ان چیزوں سے دسترخوان پر تھوڑی سی مقدار جمع ہو گئی (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا فرمائی، پھر لوگوں سے فرمایا: اپنے اپنے برتنوں میں (ڈال کر) لے جاؤ۔ سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ انہوں نے لشکر کے برتنوں میں کوئی برتن بھرے بغیر نہ چھوڑا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا:) اس کے بعد سب نے مل کر (اس دسترخوان سے) سیر ہو کر کھایا لیکن کھانا پھر بھی بچا دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا: میں گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، جو بندہ ان دونوں میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا اسے جنت (میں داخل ہونے) سے نہیں روکا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 139]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 28 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، ابْنِ جَابِرٍ ، عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ، وَابْنُ أَمَتِهِ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عبدالرحمن بن یزید) ابن جابر نے کہا: مجھے عمیر بن ہانی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے جنادہ بن ابی امیہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے (اس کا کوئی شریک نہیں۔) اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے، اس کی بندی کے بیٹے اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم کی طرف القا کیا تھا، اور اس کی طرف سے (عطا کی گئی) روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے، اس شخص کو اللہ تعالیٰ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا، جنت میں داخل کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 140]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 140 صحیح مسلم
دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، ابْنِ جَابِرٍ ، عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ، وَابْنُ أَمَتِهِ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عبدالرحمن بن یزید) ابن جابر نے کہا: مجھے عمیر بن ہانی نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے جنادہ بن ابی امیہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے (اس کا کوئی شریک نہیں۔) اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے، اس کی بندی کے بیٹے اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم کی طرف القا کیا تھا، اور اس کی طرف سے (عطا کی گئی) روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے، اس شخص کو اللہ تعالیٰ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا، جنت میں داخل کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 140]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 28 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، الأَوْزَاعِيِّ ، عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمیر بن ہانی سے (عبدالرحمن بن یزید) ابن جابر کے بجائے اوزاعی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ انہوں نے اس طرح کہا: اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اس کے عمل جیسے بھی ہوں۔ اور اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا (داخل کر دے گا) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 141]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 141 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، الأَوْزَاعِيِّ ، عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمیر بن ہانی سے (عبدالرحمن بن یزید) ابن جابر کے بجائے اوزاعی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ انہوں نے اس طرح کہا: اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اس کے عمل جیسے بھی ہوں۔ اور اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا (داخل کر دے گا) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 141]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 29 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، الصُّنَابِحِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: مَهْلًا لِمَ تَبْكِي، فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، وَلَئِنِ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ، إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے جنادہ بن ابی امیہ کے بجائے (ابوعبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ) صنابحی نے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوا۔ میں رونے لگا تو انہوں نے فرمایا: ٹھہرو! روتے کیوں ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی مانگی گئی تو میں ضرور تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے سفارش کا موقع دیا گیا تو میں ضرور تمہاری سفارش کروں گا اور اگر میرے بس میں ہوا تو میں ضرور تمہیں نفع پہنچاؤں گا، پھر کہا: اللہ کی قسم! کوئی ایسی حدیث نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی، اور اس میں تمہاری بھلائی کی کوئی بات تھی اور وہ میں نے تمہیں نہ سنا دی ہو، سوائے ایک حدیث کے۔ آج جب میری جان قبض کی جانے لگی ہے تو وہ حدیث بھی تمہیں سنائے دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اس حقیقت کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 142]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 142 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، الصُّنَابِحِيِّ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: مَهْلًا لِمَ تَبْكِي، فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، وَلَئِنِ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ، إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے جنادہ بن ابی امیہ کے بجائے (ابوعبداللہ عبدالرحمن بن عسیلہ) صنابحی نے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوا۔ میں رونے لگا تو انہوں نے فرمایا: ٹھہرو! روتے کیوں ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی مانگی گئی تو میں ضرور تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے سفارش کا موقع دیا گیا تو میں ضرور تمہاری سفارش کروں گا اور اگر میرے بس میں ہوا تو میں ضرور تمہیں نفع پہنچاؤں گا، پھر کہا: اللہ کی قسم! کوئی ایسی حدیث نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی، اور اس میں تمہاری بھلائی کی کوئی بات تھی اور وہ میں نے تمہیں نہ سنا دی ہو، سوائے ایک حدیث کے۔ آج جب میری جان قبض کی جانے لگی ہے تو وہ حدیث بھی تمہیں سنائے دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اس حقیقت کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 142]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 30 صحیح مسلم
هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، کہا: میں (سواری کے ایک جانور پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی (جتنی جگہ) کے سوا کچھ نہ تھا، چنانچہ (اس موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ (اس کے بعد) آپ پھر گھڑی بھر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ ارشاد فرمایا: بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو پھر اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 143]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 143 صحیح مسلم
هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، کہا: میں (سواری کے ایک جانور پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی (جتنی جگہ) کے سوا کچھ نہ تھا، چنانچہ (اس موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ (اس کے بعد) آپ پھر گھڑی بھر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ ارشاد فرمایا: بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو پھر اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 143]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 30 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، قَالَ: فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن میمون نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے معاذ! جانتے ہو، بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ (کسی چیز کو) شریک نہ ٹھہرائے، اللہ اس کو عذاب نہ دے۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سناؤں؟ آپ نے فرمایا: ان کو خوش خبری نہ سناؤ ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 144]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 144 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، قَالَ: فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن میمون نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے معاذ! جانتے ہو، بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ (کسی چیز کو) شریک نہ ٹھہرائے، اللہ اس کو عذاب نہ دے۔ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سناؤں؟ آپ نے فرمایا: ان کو خوش خبری نہ سناؤ ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 144]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 30 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَصِينٍ ، وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَا مُعَاذُ، " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ، قَالَ: أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ابوحصین اور اشعث بن سلیم سے حدیث سنائی، ان دونوں نے اسود بن ہلال سے سنا، وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ اللہ کی بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ آپ نے پوچھا: کیا جانتے ہو اگر وہ (بندے) ایسا کریں تو اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 145]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 145 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَصِينٍ ، وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَا مُعَاذُ، " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ، قَالَ: أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ابوحصین اور اشعث بن سلیم سے حدیث سنائی، ان دونوں نے اسود بن ہلال سے سنا، وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ اللہ کی بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ آپ نے پوچھا: کیا جانتے ہو اگر وہ (بندے) ایسا کریں تو اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 145]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة