بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 143 — باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: موحد قطعی جنتی ہے۔ حدیث 143
هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فَقَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ، أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، قَالَ: يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، کہا: میں (سواری کے ایک جانور پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی (جتنی جگہ) کے سوا کچھ نہ تھا، چنانچہ (اس موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ (اس کے بعد) آپ پھر گھڑی بھر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ ارشاد فرمایا: بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: اے معاذ بن جبل! میں عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو پھر اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 143]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (142) باب پر واپس اگلی حدیث (144) →