بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیان اس بات کا کہ جو شخص مرتے وقت مسلمان ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے جب تک حالت نزع نہ ہو یعنی جان کنی نہ شروع ہو اور مشرکین کے لیے دعا کرنا منع ہے اور جو شرک پر مرے گا وہ جہنمی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: بیان اس بات کا کہ جو شخص مرتے وقت مسلمان ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے جب تک حالت نزع نہ ہو یعنی جان کنی نہ شروع ہو اور مشرکین کے لیے دعا کرنا منع ہے اور جو شرک پر مرے گا وہ جہنمی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 24 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ، جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَمِّ، " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ "، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى، أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو موجود پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چچا! ایک کلمہ «لا إله إلا الله» کہہ دیں، میں اللہ کے ہاں آپ کے حق میں اس کا گواہ بن جاؤں گا۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب! آپ عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل ان کو یہی پیش کش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب نے ان لوگوں سے آخری بات کرتے ہوئے کہا: وہ عبدالمطلب کی ملت پر (قائم) ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کر دیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے آپ (کے حوالے) سے روک نہ دیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» نبی اور ایمان لانے والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کے سامنے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) جہنمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» (اے نبی!) بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ سیدھی راہ پانے والوں کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 132]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 132 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ، جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَمِّ، " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ "، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ، أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ، وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى، أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو موجود پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چچا! ایک کلمہ «لا إله إلا الله» کہہ دیں، میں اللہ کے ہاں آپ کے حق میں اس کا گواہ بن جاؤں گا۔ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب! آپ عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلسل ان کو یہی پیش کش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب نے ان لوگوں سے آخری بات کرتے ہوئے کہا: وہ عبدالمطلب کی ملت پر (قائم) ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کر دیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے آپ (کے حوالے) سے روک نہ دیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» نبی اور ایمان لانے والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں، خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کے سامنے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) جہنمی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» (اے نبی!) بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ سیدھی راہ پانے والوں کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 132]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 24 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَر ، حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَر . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الآيَتَيْنِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَيَعُودَانِ فِي تِلْكَ الْمَقَالَةِ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَكَانَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: فَلَمْ يَزَالَا بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر اور صالح، دونوں نے زہری سے ان کی سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، فرق یہ ہے کہ صالح کی روایت: «فأنزل الله فيه» اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری پر ختم ہو گئی، انہوں نے دو آیتیں بیان نہیں کیں۔ انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ وہ دونوں (ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ) یہی بات دہراتے رہے۔ معمر کی روایت میں المقالۃ (بات) کے بجائے الکلمۃ (کلمہ) ہے، وہ دونوں ان کے ساتھ لگے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 133]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 133 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَر ، حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَر . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الآيَتَيْنِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَيَعُودَانِ فِي تِلْكَ الْمَقَالَةِ، وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَكَانَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: فَلَمْ يَزَالَا بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر اور صالح، دونوں نے زہری سے ان کی سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، فرق یہ ہے کہ صالح کی روایت: «فأنزل الله فيه» اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری پر ختم ہو گئی، انہوں نے دو آیتیں بیان نہیں کیں۔ انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ وہ دونوں (ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ) یہی بات دہراتے رہے۔ معمر کی روایت میں المقالۃ (بات) کے بجائے الکلمۃ (کلمہ) ہے، وہ دونوں ان کے ساتھ لگے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 133]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 25 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ ، يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَى "، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 الآيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان بن یزید سے، جو کیسان کے بیٹے ہیں، حدیث سنائی، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا کی موت کے وقت ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دیں، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہی دوں گا۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ» بے شک آپ جسے چاہیں راہ راست پر نہیں لا سکتے ... آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 134]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 134 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ ، يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَى "، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 الآيَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان بن یزید سے، جو کیسان کے بیٹے ہیں، حدیث سنائی، انہوں نے ابوحازم سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا کی موت کے وقت ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دیں، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہی دوں گا۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ» بے شک آپ جسے چاہیں راہ راست پر نہیں لا سکتے ... آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 134]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 25 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ سورة القصص آية 56.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے کہا: ہمیں یزید بن کیسان نے حدیث سنائی.... (اس کے بعد مذکورہ سند کے ساتھ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا: «لا إله إلا الله» کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہ بن جاؤں گا۔ انہوں نے (جواب میں) کہا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے (کہیں گے کہ اسے (موت کی) گھبراہٹ نے اس بات پر آمادہ کیا ہے) تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ» آپ جسے چاہتے ہوں اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 135]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 135 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ سورة القصص آية 56.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے کہا: ہمیں یزید بن کیسان نے حدیث سنائی.... (اس کے بعد مذکورہ سند کے ساتھ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا سے فرمایا: «لا إله إلا الله» کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہ بن جاؤں گا۔ انہوں نے (جواب میں) کہا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے (کہیں گے کہ اسے (موت کی) گھبراہٹ نے اس بات پر آمادہ کیا ہے) تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ» آپ جسے چاہتے ہوں اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 135]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة