بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہونے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے ابوطالب کے عذاب میں تخفیف ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 209 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الأموي ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الأموي ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ، وَلَوْلَا أَنَا، لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوطالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے۔‘ آپ نے جواب دیا: ہاں، وہ کم گہری آگ میں ہیں (جو ٹخنوں تک آتی ہے)، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 510]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 510 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الأموي ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الأموي ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ، وَلَوْلَا أَنَا، لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوطالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے۔‘ آپ نے جواب دیا: ہاں، وہ کم گہری آگ میں ہیں (جو ٹخنوں تک آتی ہے)، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 510]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 209 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، الْعَبَّاسَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ ، يَقُولُ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ، فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان (بن عیینہ) نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! ابوطالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر (مخالفین پر) غصہ کرتے تھے، تو کیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟‘ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے انہیں آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو انہیں کم گہری آگ تک نکال لایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 511]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 511 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، الْعَبَّاسَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ ، يَقُولُ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ، فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان (بن عیینہ) نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! ابوطالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر (مخالفین پر) غصہ کرتے تھے، تو کیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟‘ آپ نے فرمایا: ہاں، میں نے انہیں آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو انہیں کم گہری آگ تک نکال لایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 511]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 209 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان (ثوری) نے اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جیسے ابوعوانہ نے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 512]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 512 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان (ثوری) نے اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح حدیث بیان کی جیسے ابوعوانہ نے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 512]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 210 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: امید ہے قیامت کے دن میری سفارش ان کو نفع دے گی اور انہیں اتھلی (کم گہری) آگ میں ڈالا جائے گا جو (بمشکل) ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو گی، اس سے (بھی) ان کا دماغ کھولے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 513]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 513 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، فَقَالَ: لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ، يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: امید ہے قیامت کے دن میری سفارش ان کو نفع دے گی اور انہیں اتھلی (کم گہری) آگ میں ڈالا جائے گا جو (بمشکل) ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو گی، اس سے (بھی) ان کا دماغ کھولے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 513]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة