ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، الْعَبَّاسَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ ، يَقُولُ: قُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ، فَهَلْ نَفَعَهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَجَدْتُهُ فِي غَمَرَاتٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجْتُهُ إِلَى ضَحْضَاحٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان (بن عیینہ) نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے پوچھا: ’اے اللہ کے رسول! ابوطالب ہر طرف سے آپ کی حفاظت کرتے تھے، آپ کی مدد کرتے تھے اور آپ کی خاطر (مخالفین پر) غصہ کرتے تھے، تو کیا اس سے ان کو کچھ نفع ہوا؟‘ آپ نے فرمایا: ”ہاں، میں نے انہیں آگ کی اتھاہ گہرائیوں میں پایا تو انہیں کم گہری آگ تک نکال لایا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 511]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة