عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الأموي ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الأموي ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ قَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ نَارٍ، وَلَوْلَا أَنَا، لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے اور انہوں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوطالب کو کچھ نفع پہنچایا؟ وہ ہر طرف سے آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غضب ناک ہوتے تھے۔‘ آپ نے جواب دیا: ”ہاں، وہ کم گہری آگ میں ہیں (جو ٹخنوں تک آتی ہے)، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 510]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة