بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے عموم پر ایمان لانے کے وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتوں کے منسوخ ہونے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے عموم پر ایمان لانے کے وجوب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی وجہ سے باقی تمام شریعتوں کے منسوخ ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 152 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ، إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الآيَاتِ مَا مِثْلُهُ، آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ہر ایک نبی کو ایسی نشانیاں (معجزے) دی گئیں جن (کو دیکھ کر) لوگ ایمان لائے، اور وحی مجھی کو گئی، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی، (وہ معجزہ بھی ہے، اور نور بھی «وَلَٰكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا») اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 385]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 385 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ، إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الآيَاتِ مَا مِثْلُهُ، آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ہر ایک نبی کو ایسی نشانیاں (معجزے) دی گئیں جن (کو دیکھ کر) لوگ ایمان لائے، اور وحی مجھی کو گئی، جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی، (وہ معجزہ بھی ہے، اور نور بھی «وَلَٰكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا») اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 385]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 153 صحیح مسلم
يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبَا يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت (امّتِ دعوت) کا کوئی ایک بھی فرد، یہودی ہو یا عیسائی، میرے متعلق سن لے، پھر وہ مر جائے اور اس دین پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا، تو وہ اہل جہنم ہی سے ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 386]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 386 صحیح مسلم
يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، أَبَا يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت (امّتِ دعوت) کا کوئی ایک بھی فرد، یہودی ہو یا عیسائی، میرے متعلق سن لے، پھر وہ مر جائے اور اس دین پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا، تو وہ اہل جہنم ہی سے ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 386]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 154 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، سَأَلَ الشَّعْبِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ، وَاتَّبَعَهُ، وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى، وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ "، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے صالح بن صالح ہمدانی سے خبر دی، انہوں نے شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اہل خراسان میں سے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے شعبی سے سوال کیا اور کہا: اے ابوعمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس آدمی کے متعلق جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے، پھر اس سے شادی کر لے (یہ) کہتے ہیں کہ وہ اپنی قربانی کر کے جانور پر سوار ہونے والے کے مانند ہے۔ شعبی نے کہا: مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا: اہل کتاب کا آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے دور) کو پایا تو آپ پر بھی ایمان لایا، آپ کی پیروی کی اور آپ کی تصدیق کی تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس نے اللہ کا جو حق اس پر ہے، ادا کیا اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور ایک آدمی جس کی کوئی لونڈی تھی، اس نے اسے خوراک دی تو بہترین خوراک مہیا کی، پھر اسے تربیت دی تو بہت اچھی تربیت دی، پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔ پھر شعبی نے خراسانی سے کہا: یہ حدیث بلا مشقت لے لو۔ پہلے ایک آدمی اس سے بھی چھوٹی حدیث کے لیے مدینہ کا سفر کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 387]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 387 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، هُشَيْمٌ ، صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، سَأَلَ الشَّعْبِيَّ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ، فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ، وَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ بِهِ، وَاتَّبَعَهُ، وَصَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى، وَحَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَرَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَاءَهَا، ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، فَلَهُ أَجْرَانِ "، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ: خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْءٍ، فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے صالح بن صالح ہمدانی سے خبر دی، انہوں نے شعبی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اہل خراسان میں سے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے شعبی سے سوال کیا اور کہا: اے ابوعمرو! ہماری طرف اہل خراسان اس آدمی کے متعلق جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے، پھر اس سے شادی کر لے (یہ) کہتے ہیں کہ وہ اپنی قربانی کر کے جانور پر سوار ہونے والے کے مانند ہے۔ شعبی نے کہا: مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری) رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا: اہل کتاب کا آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے دور) کو پایا تو آپ پر بھی ایمان لایا، آپ کی پیروی کی اور آپ کی تصدیق کی تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس نے اللہ کا جو حق اس پر ہے، ادا کیا اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اور ایک آدمی جس کی کوئی لونڈی تھی، اس نے اسے خوراک دی تو بہترین خوراک مہیا کی، پھر اسے تربیت دی تو بہت اچھی تربیت دی، پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لی تو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔ پھر شعبی نے خراسانی سے کہا: یہ حدیث بلا مشقت لے لو۔ پہلے ایک آدمی اس سے بھی چھوٹی حدیث کے لیے مدینہ کا سفر کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 387]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 154 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ بن سلیمان، سفیان اور شعبہ نے صالح بن صالح کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 388]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 388 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ بن سلیمان، سفیان اور شعبہ نے صالح بن صالح کے واسطے سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 388]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة