بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 21 از 41
حدیث نمبر: 962 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، مُخَارِقٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَاللَّهِ" مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ"، قَالَ: لِصَحِيفَةٍ مُعَلَّقَةٍ بسَيْفِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 962]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 963 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ ، مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَجَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، انْهَنَا عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَهَانَا" عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، وَنَهَانَا عَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَالْحِلَقِ الذَّهَبِ"، ثُمَّ قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا لِيَرَ النَّاسُ عَلَيَّ كِسْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَنِي بِنَزْعِهِمَا، فَأَرْسَلَ بِإِحْدَاهُمَا إِلَى فَاطِمَةَ، وَشَقَّ الْأُخْرَى بَيْنَ نِسَائِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، اچانک صعصعہ بن صوحان آ گئے اور سلام کر کے کہنے لگے: امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جن چیزوں سے آپ کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لک کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی)، نیز ریشم، سرخ زین پوش، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں وہ پہن کر باہر نکلا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جو جوڑا دیا تھا وہ میں نے پہن لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو اسے اتارنے کا حکم دیا اور اس کا ایک حصہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دیا اور دوسرا حصہ پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 963]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، على بن عاصم ضعيف، وقد توبع
الحكم: صحيح لغيره، على بن عاصم ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 964 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ ، سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ نِزَارٍ الْعَنْسِيُّ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْعَبْسِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ قَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ، وَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآهُ، فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَقَالُوا: قَدْ رَأَيْنَاهُ وَسَمِعْنَاهُ حَيْثُ أَخَذَ بِيَدِهِ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ"، فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ لَمْ يَقُومُوا، فَدَعَا عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَتْهُمْ دَعْوَتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا: جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، اور وہی کھڑا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہو، اس پر بارہ آدمی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے خود دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور ہم نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما، جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو اسے تنہا چھوڑے تو اسے تنہا فرما۔ اس موقع پر تین آدمی ایسے بھی تھے جو کھڑے نہیں ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بد دعا دی اور وہ اس کا شکار ہو گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 964]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون قوله: وانصر من نصره واخذل من خذله وهذا إسناد ضعيف لجهالة الوليد بن عتبة وسماك بن عبيد
الحكم: حسن لغيره، دون قوله: وانصر من نصره واخذل من خذله وهذا إسناد ضعيف لجهالة الوليد بن عتبة وسماك بن عبيد
حدیث نمبر: 965 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمْ الْكَاذِبُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تو وہی کلمات دہراتے جو مؤذن کہتا، اور «اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ» کے جواب میں «اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ» کہنے کے بعد یہ بھی فرماتے کہ جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انکار کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 965]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي، وأبو سعيد لم نتبينه
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي، وأبو سعيد لم نتبينه
حدیث نمبر: 966 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمُ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَتْ: سَلْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ"، قَالَ يَحْيَى: وَكَانَ يَرْفَعُهُ، يَعْنِي: شُعْبَةَ، ثُمَّ تَرَكَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 276
الحكم: إسناده صحيح، م: 276
حدیث نمبر: 967 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، فَيَقُولَ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى، أَلَا دَاعٍ يُجَابُ، أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى، أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا، اور عشاء کی نماز تہائی رات تک مؤخر کرتا کیونکہ رات کی جب پہلی تہائی گذر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے مطابق) آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک وہیں رہتے ہیں، اور ایک منادی نداء لگاتا رہتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا، کہ اسے دیا جائے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا، کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی بیمار جو شفاء حاصل کرنا چاہتا ہو، کہ اسے شفاء مل جائے؟ ہے کوئی گناہگار جو اپنے گناہوں کی معافی مانگے، کہ اسے بخش دیا جائے؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 967]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عطاء المدني مولى أم صبية
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عطاء المدني مولى أم صبية
حدیث نمبر: 968 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اس کے الفاظ یہی ہیں لیکن سند مختلف ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 968]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 969 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْحَجَّاجُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْوَتْرِ، أَوَاجِبٌ هُوَ؟ قَالَ:" أَمَّا كَالْفَرِيضَةِ فَلَا، وَلَكِنَّهَا سُنَّةٌ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى مَضَوْا عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے وتر کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ فرض ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت سے ثابت ہے، اور انہوں نے اسے ہمیشہ ادا کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 969]
حکم دارالسلام
حديث قوي، والحجاج قد توبع
الحكم: حديث قوي، والحجاج قد توبع
حدیث نمبر: 970 مسند احمد
ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي ، سُفْيَانَ ، السُّدِّيِّ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا؟ قَالَ: فَأَخَذَهُ" فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلطَّاهِرِ مَا لَمْ يُحْدِثْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا اور فرمایا: کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں ہے؟ پھر انہوں نے وہ برتن لے کر کھڑے کھڑے اس کا پانی پی لیا، پھر ہلکا سا وضو کیا، جوتوں پر مسح کیا اور فرمایا: اس طاہر آدمی کا جو بےوضو نہ ہو، یہی وضو ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 970]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 971 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 971]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 972 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہیں، اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے «يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 972]
حکم دارالسلام
حسن لغيره ، ابن أبى ليلي سيء الحفظ، لكن للحديث طريق أخرى عن على يحسن بها
الحكم: حسن لغيره ، ابن أبى ليلي سيء الحفظ، لكن للحديث طريق أخرى عن على يحسن بها
حدیث نمبر: 973 مسند احمد
دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، أَوْ عِيسَى ، شَكَّ مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے چاہئے کہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَي كُلِّ حَالٍ» کہے، اس کے آس پاس جو لوگ ہوں وہ «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہیں، اور چھینکنے والا انہیں یہ جواب دے: «يَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 973]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وانظر ما قبله
الحكم: حسن لغيره، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 974 مسند احمد
غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَبُو إِسْرَائِيلَ ، السُّدِّيِّ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَتْرِ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ أَثْبَتَ الْوَتْرَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ"، قَالَ: وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ وتر کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ہم میں سے جس شخص نے ایک رکعت پڑھ لی تھی، اس نے جلدی سے دوسری رکعت ملائی اور ہم سب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھے ہو گئے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابتداءً رات کے پہلے حصے میں وتر پڑھتے تھے، پھر درمیان والے حصے میں پڑھنے لگے، پھر اس وقت مستقل پڑھنے لگے، اس وقت طلوع فجر ہونے والی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 974]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى إسرائيل
حدیث نمبر: 975 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: بَلْ جِئْتُ عَائِدًا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ عَادَ مَرِيضًا بَكَرًا شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے، اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے، اور اگر شام کو عیادت کرے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے، اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 975]
حکم دارالسلام
حسن، إلا أن الصحيح وقفه كما تقدم برقم: (612). وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن نافع الهاشمي
الحكم: حسن، إلا أن الصحيح وقفه كما تقدم برقم: (612). وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن نافع الهاشمي
حدیث نمبر: 976 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ زَائِرًا؟ قَالَ: لَا، بَلْ جِئْتُ عَائِدًا، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَا إِنَّهُ" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ، إِنْ كَانَ مُصْبِحًا حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُمْسِيًا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص صبح کے وقت اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے شام تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے، اور اگر شام کو عیادت کرے تب بھی ستر ہزار فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں، اور ان میں سے ہر ایک اس کے لئے صبح تک بخشش کی دعائیں کرتا ہے اور جنت میں اس کا ایک باغ مقرر ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 976]
حکم دارالسلام
حسن، وانظر ما قبله
الحكم: حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 977 مسند احمد
شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثنَا عبد الله، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي أَبَا زَيْدٍ الْقَسْمَلِيَّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" فِي الْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَفِي الْمَنِيِّ الْغُسْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: منی میں تو غسل واجب ہے، اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 977]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 978 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٌ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ: كَانَ لِشَرَاحَةَ زَوْجٌ غَائِبٌ بِالشَّامِ، وَإِنَّهَا حَمَلَتْ، فَجَاءَ بِهَا مَوْلَاهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ زَنَتْ، فَاعْتَرَفَتْ، فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةً، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَحَفَرَ لَهَا إِلَى السُّرَّةِ وَأَنَا شَاهِدٌ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَلَوْ كَانَ شَهِدَ عَلَى هَذِهِ أَحَدٌ لَكَانَ أَوَّلَ مَنْ يَرْمِي، الشَّاهِدُ يَشْهَدُ، ثُمَّ يُتْبِعُ شَهَادَتَهُ حَجَرَهُ، وَلَكِنَّهَا أَقَرَّتْ، فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَاهَا، فَرَمَاهَا بِحَجَرٍ، ثُمَّ رَمَى النَّاسُ، وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَكُنْتُ وَاللَّهِ فِيمَنْ قَتَلَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عامر کہتے ہیں کہ شراحہ نامی ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ شام گیا ہوا تھا، یہ عورت امید سے ہو گئی، اس کا آقا اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس عورت نے بدکاری کی ہے، اس عورت نے بھی اعتراف کر لیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے پہلے پچاس کوڑے لگائے، پھر جمعہ کے دن اس پر حد رجم جاری فرمائی، اور اس کے لئے ناف تک ایک گڑھا کھدوایا، میں بھی اس وقت موجود تھا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رجم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے، اگر اس کا یہ جرم کسی گواہ کی شہادت سے ثابت ہوتا تو اسے پتھر مارنے کا آغاز وہی کرتا کیونکہ گواہ پہلے گواہی دیتا ہے اور اس کے بعد پتھر مارتا ہے، لیکن چونکہ اس کا یہ جرم اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہے اس لئے اب میں اسے سب سے پہلے پتھر ماروں گا، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا آغاز کیا، بعد میں لوگوں نے اسے پتھر مارنا شروع کئے، ان میں میں بھی شامل تھا اور واللہ! اس عورت کو اللہ کے پاس بھیجنے والوں میں میں بھی تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 978]
حکم دارالسلام
صحيح، وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
الحكم: صحيح، وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 979 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، عَمِّهِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ: يَرْكَبُ الرَّجُلُ هَدْيَهُ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، قَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمُرُّ بِالرِّجَالِ يَمْشُونَ، فَيَأْمُرُهُمْ يَرْكَبُونَ هَدْيَهُ، َهَدْيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: وَلَا تَتَّبِعُونَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آدمی حج کے موقع پر قربانی کا جو جانور لے کر جارہا ہو - جسے ہدی کہتے ہیں - اس پر سوار ہو سکتا ہے؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جب پیدل چلنے والوں کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم دیتے، اور تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے زیادہ افضل کسی چیز کی پیروی نہ کر سکو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 979]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبيدالله
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبيدالله
حدیث نمبر: 980 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" آكِلَ الرِّبَا، وَمُطْعِمَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَكَاتِبَهُ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَالْحَالَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ، قَالَ: وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 980]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 981 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نُهِيَ عَنْ مَيَاثِرِ الْأُرْجُوَانِ، وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ"، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَخِي يَحْيَى بْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ هَذَا؟ نَعَمْ،" وَكِفَافِ الدِّيبَاجِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرخ رنگ کے پھول دار کپڑوں، ریشمی کپڑوں اور سونے کی انگوٹھی سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح