أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْحَجَّاجُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْوَتْرِ، أَوَاجِبٌ هُوَ؟ قَالَ:" أَمَّا كَالْفَرِيضَةِ فَلَا، وَلَكِنَّهَا سُنَّةٌ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى مَضَوْا عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے وتر کے متعلق پوچھا کہ آیا یہ فرض ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی سنت سے ثابت ہے، اور انہوں نے اسے ہمیشہ ادا کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 969]
حکم دارالسلام
حديث قوي، والحجاج قد توبع
الحكم: حديث قوي، والحجاج قد توبع