بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 1 از 41
حدیث نمبر: 562 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَوْقِفُ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ"، وَأَفَاضَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ، فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى بَعِيرِهِ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا، يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ:" السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ"، ثُمَّ أَتَى جَمْعًا فَصَلَّى بِهِمْ الصَّلَاتَيْنِ: الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ أَتَى قُزَحَ، فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَوْقِفُ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ"، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا، فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَقَرَعَ نَاقَتَهُ، فَخَبَّتْ حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ، ثُمَّ حَبَسَهَا، ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ، وَسَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَنْحَرُ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ"، قَالَ: وَاسْتَفْتَتْهُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَفْنَدَ، وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ، فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ"، قَالَ: وَقَدْ لَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنْ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا"، قَالَ: ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ؟ قَالَ:" انْحَرْ وَلَا حَرَجَ"، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ؟ قَالَ:" احْلِقْ، أَوْ قَصِّرْ وَلَا حَرَجَ"، ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ، فَقَالَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، سِقَايَتَكُمْ، وَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا: کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے، لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو۔ پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی)۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ تقریباً ختم ہو چکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہو، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے)۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی گردن کس حکمت کی بنا پر موڑی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا، بہرحال تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال کٹوا لیے، اب کیا کروں؟ فرمایا: اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں، ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے حلق سے پہلے طواف زیارت کر لیا، فرمایا: کوئی بات نہیں اب حلق یا قصر کرلو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا اور فرمایا: بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو اگر لوگ تم پر غالب نہ آ جاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 562]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 563 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَوْلُ الْغُلَامِ يُنْضَحُ عَلَيْهِ، وَبَوْلُ الْجَارِيَةِ يُغْسَلُ"، قَالَ قَتَادَةُ: هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا، فَإِذَا طَعِمَا، غُسِلَ بَوْلُهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کر دیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 564 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْبَصْرِيُّ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ"، ثُمَّ دَفَعَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَهُوَ يَلْتَفِتُ، وَيَقُولُ:" السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ"، حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، وَقَالَ:" هَذَا الْمَوْقِفُ، وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ"، ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَهُوَ يَلْتَفِتُ، وَيَقُولُ:" السَّكِينَةَ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ"، حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا، فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ، فَخَبَّتْ حَتَّى خَرَجَ، ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ، حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، ثُمَّ جَاءَ الْمَنْحَرَ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَنْحَرُ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ"، ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَقَدْ أَفْنَدَ، وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا، فَيُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، وَجَعَلَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْهَا، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ، وَأَفَضْتُ، وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَحْلِقْ؟ قَالَ:" فَلَا حَرَجَ، فَاحْلِقْ"، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: إِنِّي رَمَيْتُ، وَحَلَقْتُ، وَلَبِسْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ؟ فَقَالَ:" لَا حَرَجَ، فَانْحَرْ"، ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ:" انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ"، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُكَ تَصْرِفُ وَجْهَ ابْنِ أَخِيكَ؟ قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ غُلَامًا شَابًّا، وَجَارِيَةً شَابَّةً، فَخَشِيتُ عَلَيْهِمَا الشَّيْطَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے، پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے اپنے پیچھے سیدنا اسامہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے، لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو، پھر آپ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں اور رات بھر وہیں رہے صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی)۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے، اتنی دیر میں بنوخثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ تقریباً ختم ہو چکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کرسکتی ہو، یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے)۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، طواف زیارت کر لیا، کپڑے پہن لئے لیکن حلق نہیں کروا سکا اب کیا کروں؟ فرمایا: اب حلق کرلو، کوئی حرج نہیں، ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، حلق کروا لیا، کپڑے پہن لئے؟ فرمایا: کوئی بات نہیں، اب قربانی کرلو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا اور فرمایا: بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو، اگر لوگ تم پر غالب نہ آ جاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اپنے بھتیجے کی گردن کس حکمت کی بناء پر موڑی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 564]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 565 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَوَّذَ مَرِيضًا، قَالَ:" أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو یہ دعا کرتے کہ اے لوگوں کے رب! اس پریشانی اور تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 565]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف الحارث الأعور
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 566 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا دُونَ مَشُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ، لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 566]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 567 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أُمِّهِ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ مَدَنِيٌّ مَوْلًى لِآلِ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، فَلَا يَصُومُهَا أَحَدٌ"، وَاتَّبَعَ النَّاسَ عَلَى جَمَلِهِ يَصْرُخُ بِذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منیٰ میں تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے اور اپنی سواری پر جو کہ اونٹ تھا بیٹھ کر لوگوں میں یہ اعلان کرتے رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 567]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، والظاهر أنه سقط فى هذا الموضع عبدالله بن أبى سلمة بين يزيد بن عبدالله وبين عمرو بن سليم
الحكم: حديث صحيح، والظاهر أنه سقط فى هذا الموضع عبدالله بن أبى سلمة بين يزيد بن عبدالله وبين عمرو بن سليم
حدیث نمبر: 568 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَرَفَعَهُ، قَالَ:" مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ، كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے اسے قیامت کے دن جَو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 568]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى
حدیث نمبر: 569 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی دو سنتیں اقامت کے قریب پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 569]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف الحارث، وهو ابن عبدالله الأعور
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف الحارث، وهو ابن عبدالله الأعور
حدیث نمبر: 570 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ ، عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ ، أَبِي زُرْعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَلِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، قَالَ: قَالَ عَلِي : كانت لي سَاعَةٌ مِنَ السَّحَرِ أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ كَانَ" قَائِمًا يُصَلِّي، سَبَّحَ بِي، فَكَانَ ذَاكَ إِذْنُهُ لِي، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي، أَذِنَ لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت ایک مخصوص گھڑی ہوتی تھی جس میں، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 570]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعلل
الحكم: إسناده ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 571 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ: أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ وَفَاطِمَةُ، وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ، حَتَّى قَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ:" أَلَا تُصَلُّونَ؟"، فَقُلْتُ مُجِيبًا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا نُفُوسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنا، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَى الْكَلَامِ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ وَلَّى يَقُولُ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ:" وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے، میں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں سو رہے تھے، صبح کا وقت تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دروازے پر کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ: 7347، م: 775
الحكم: إسناده صحيح،خ: 7347، م: 775
حدیث نمبر: 572 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ" يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی زوجہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 572]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث
حدیث نمبر: 573 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٌ ، حَنَشٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ، إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ، فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ، ثُمَّ تَعَلَّقَ رَجُلٌ بِآخَرَ، حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً، فَجَرَحَهُمْ الْأَسَدُ، فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ، وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ، فَقَامُوا أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآخِرِ، فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتَتِلُوا، فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَقَالَ: تُرِيدُونَ أَنْ تَقَاتَلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ؟ إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً، إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ، وَإِلَّا حَجَزَ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، حَتَّى تَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَكُونَ هُوَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ، فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَا حَقَّ لَهُ، اجْمَعُوا مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ رُبُعَ الدِّيَةِ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ، لِأَنَّهُ هَلَكَ مَنْ فَوْقَهُ، وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ، فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ:" أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ"، وَاحْتَبَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا، فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، میں ایک ایسی قوم کے پاس پہنچا جنہوں نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا (شیر آیا اور اس میں گر پڑا) ابھی وہ یہ کام کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے، اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، شیر ہلاک ہو گیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے، اتنی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کہنے لگے کہ ابھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حیات ہیں تم ان کی حیات میں باہمی قتل و قتال کرو گے؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہو گیا اور اگر تم سمجھتے ہو کہ اس سے تمہاری تشفی نہیں ہوئی تو تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر اس کا فیصلہ کروا لینا، وہ تمہارے درمیان اس کا فیصلہ کر دیں گے، اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے گا وہ حق پر نہیں ہو گا۔ فیصلہ یہ ہے کہ ان قبیلوں کے لوگوں نے اس گڑھے کی کھدائی میں حصہ لیا ہے ان سے چوتھائی دیت، تہائی دیت، نصف دیت اور کامل دیت لے کر جمع کرو اور جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو، دوسرے کو تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا) چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سارا قصہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گوٹ مار کر بیٹھ گئے، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا، یا رسول اللہ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 573]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حنش، وهو ابن المعتمر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حنش، وهو ابن المعتمر
حدیث نمبر: 574 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكٌ ، حَنَشٍ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشٍ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اس دوسری روایت کے مطابق چوتھے آدمی کے لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوری دیت کا فیصلہ کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 574]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 575 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، عُقَيْلٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ : كَتَبْتُ إِلَيْكَ بِخَطِّي، وَخَتَمْتُ الْكِتَابَ بِخَاتَمِي، يَذْكُرُ أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ:" أَلَا تُصَلُّون؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، وَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ، وَيَقُولُ:" وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے اور کہنے لگے کہ تم لوگ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7347، م: 775
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7347، م: 775
حدیث نمبر: 576 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" مَنْ أَحَبَّنِي، وَأَحَبَّ هَذَيْنِ، وَأَبَاهُمَا، وَأُمَّهُمَا، كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جو شخص مجھ سے محبت کرے، ان دونوں سے محبت کرے اور ان کے ماں باپ سے محبت کرے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 576]
حکم دارالسلام
ضعيف لضعف على بن جعفر بن محمد
الحكم: ضعيف لضعف على بن جعفر بن محمد
حدیث نمبر: 577 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں اس کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 577]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبن لهيعة
حدیث نمبر: 578 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هاشم، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ حَسَنٌ: يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً، فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ، لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا مِنْ هَذَا الْبَطِّ، يَعْنِي: الْوَزَّ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ زُرَيْرٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ إِلَّا قَصْعَتَانِ: قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ، وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيْ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن زریر کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہمارے سامنے خزیرہ (سالن مع گوشت و روٹی) پیش کیا، میں نے بےتکلفی سے عرض کیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے، اگر آپ یہ بطخ ہمارے سامنے پیش کرتے تو کیا ہو جاتا، اب تو اللہ نے مال غنیمت کی بھی فراوانی فرما رکھی ہے؟ فرمایا: ابن زریر! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلیفہ کے لئے اللہ کے مال میں سے صرف دو پیالے ہی حلال ہیں ایک وہ پیالہ جس میں سے وہ خود اور اس کے اہل خانہ کھا سکیں اور دوسرا پیالہ وہ جسے وہ لوگوں کے سامنے پیش کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 578]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف أبن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف أبن لهيعة
حدیث نمبر: 579 مسند احمد
مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، مُغِيرَةَ ، أُمِّ مُوسَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا رَمِدْتُ مُنْذُ تَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن میری آنکھوں میں لگایا ہے، مجھے کبھی آشوب چشم کی بیماری نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 579]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 580 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُطَرِّفٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَاصِمٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَفِي وَسَطِهِ، وَفِي آخِرِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوَتْرُ فِي آخِرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھایا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 580]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 581 مسند احمد
أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، حُسَيْنٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ، وَإِذَا كَلَّمْتُمُوهُمْ، فَلْيَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ قِيدُ رُمْحٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن لوگوں کو کوڑھ کی بیماری ہو، انہیں مت دیکھتے رہا کرو اور جب ان سے بات کیا کرو تو اپنے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 581]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعلل
الحكم: إسناده ضعيف لعلل