بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 4 از 41
حدیث نمبر: 622 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجُوا، قَالَ: وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي؟ قَالَ: قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: اجْمَعُوا حَطَبًا، ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا، قَالَ: فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ: إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ، فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوها، قَالَ: فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ:" لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا، جب وہ لوگ روانہ ہوئے تو راستے میں اس انصاری کو کسی بات پر غصہ آ گیا اور اس نے ان سے کہا کہ پھر لکڑیاں اکٹھی کرو، اس کے بعد اس نے آگ منگوا کر لکڑیوں میں آگ لگا دی اور کہا کہ میں تمہیں قسم دیتاہوں کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہو، اس میں جلد بازی مت کرو پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل کر پوچھ لو، اگر وہ تمہیں اس میں چھلانگ لگانے کا حکم دیں تو ضرور ایسا ہی کرو۔ چنانچہ لوگ رک گئے اور واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نکل نہ سکتے، یاد رکھو! اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4340، م 1840
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4340، م 1840
حدیث نمبر: 623 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ الزُّرَقِيُّ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ جَنَازَةً فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ لِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ : اجْلِسْ، فَإِنِّي سَأُخْبِرُكَ فِي هَذَا بِثَبْتٍ: حَدَّثَنِي مَسْعُودُ بْنُ الْحَكَمِ الزُّرَقِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَحَبَةِ الْكُوفَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا بِالْقِيَامِ فِي الْجِنَازَةِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
واقد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں بنوسلمہ کے کسی جنازے میں شریک تھا، میں جنازے کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا، تو نافع بن جبیر مجھ سے کہنے لگے کہ بیٹھ جاؤ، میں تمہیں اس سلسلے میں ایک مضبوط بات بتاتا ہوں، مجھے مسعود بن حکم نے بتایا ہے کہ انہوں نے جامع کوفہ کے صحن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے ہمیں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا حکم دیتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود بھی بیٹھے رہنے لگے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 623]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن م: 962
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن م: 962
حدیث نمبر: 624 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ: أَنَّهُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِيدِ، أَيْ: بِشُرْبِهِ الْخَمْرَ، فَكَلَّمَهُ عَلِيٌّ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: دُونَكَ ابْنَ عَمِّكَ، فَأَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: يَا حَسَنُ، قُمْ فَاجْلِدْهُ، قَالَ: مَا أَنْتَ مِنْ هَذَا فِي شَيْءٍ، وَلِّ هَذَا غَيْرَكَ، قَالَ: بَلْ ضَعُفْتَ وَوَهَنْتَ وَعَجَزْتَ، قُمْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ يَضْرِبُهُ، وَيَعُدُّ عَلِيٌّ، حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ قَالَ: أَمْسِكْ، أَوْ قَالَ: كُفَّ،" جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوساسان رقاشی کہتے ہیں کہ کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ولید کی شراب نوشی کے حوالے سے کچھ خبریں بتائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے اس حوالے پر گفتگو کی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کا چچازاد بھائی آپ کے حوالے ہے، آپ اس پر سزا جاری فرمائیے انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حسن! کھڑے ہو کر اسے کوڑے مارو، اس نے کہا کہ آپ یہ کام نہیں کر سکتے، کسی اور کو اس کا حکم دیجئے، فرمایا: اصل میں تم کمزور اور عاجز ہو گئے ہو، اس لئے عبداللہ بن جعفر! تم کھڑے ہو کر اس پر سزا جاری کرو، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کوڑے مارتے جاتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے، جب چالیس کوڑے ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بس کرو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شرابی کو چالیس کوڑے مارے تھے، سیدنا ابوبکرضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے تھے، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی مارے تھے اور دونوں ہی سنت ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 624]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م 1707
الحكم: إسناده صحيح، م 1707
حدیث نمبر: 625 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ بَيْتِي، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْتُهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ، حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ بَالَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ،" فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ، وَأَلْقَمَ إِبْهَامَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ، وَفِيهِمَا النَّعْلُ، ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا، ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر تشریف لائے، انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا، ہم ان کے پاس ایک پیالہ لائے جس میں ایک مد یا اس کے قریب پانی آتا تھا اور وہ لا کر ان کے سامنے رکھ دیا، اس وقت وہ پیشاب سے فارغ ہو چکے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ چنانچہ ان کے وضو کے لئے برتن رکھا گیا، پہلے انہوں نے دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کیا، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر چہرے پر مارا اپنے انگوٹھے کا پانی کان کے سامنے والے حصے پر ڈالا تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو بھر کر پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈال لیا، تاکہ وہ چہرے پر بہہ جائے، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، بائیں ہاتھ کو بھی اسی طرح دھویا، سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اپنے قدموں پر ڈالا، جبکہ انہوں نے جوتی پہن رکھی تھی، پھر جوتی کو ہلایا اور دوسرے پاؤں کے ساتھ بھی اسی طرح کیا۔ میں نے عرض کیا کہ جوتی پہنے ہوئے بھی وضو ہو سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! ہو سکتا ہے۔ یہ سوال جواب تین مرتبہ ہوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 625]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 626 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذُكِرَ الْخَوَارِجُ، فَقَالَ:" فِيهِمْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مُثَدَّنُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ"، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إي ورب الكعبة، إي ورب الكعبة.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہو گا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی ہے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 626]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1066
الحكم: إسناده صحيح، م: 1066
حدیث نمبر: 627 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں قرآن کریم پڑھایا کرتے تھے، بشرطیکہ اختیاری طور پر غسل کے ضرورت مند نہ ہوتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 627]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 628 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا بَعَثْتَنِي، أَكُونُ كَالسِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ، أَمْ الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ؟ قَالَ:" الشَّاهِدُ يَرَى مَا لَا يَرَى الْغَائِبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا، جب آپ مجھے کہیں بھیجتے ہیں تو میں ڈھلا ہوا سکہ بن کر جایا کروں یا وہاں کے حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کروں کیونکہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا؟ فرمایا: بلکہ یہ بات سامنے رکھو کہ موقع پر موجود شخص وہ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا (اور حالات دیکھ کر فیصلہ کیا کرو)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 628]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، محمد بن عمر بن على بن أبى طالب - لم يدرك جده
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، محمد بن عمر بن على بن أبى طالب - لم يدرك جده
حدیث نمبر: 629 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مَنْصُورٌ ، رِبْعِيًّا ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيًّا ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ، يَلِجْ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 629]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والحديث متواتر ، خ: 106، ومسلم فى المقدمة : 1
الحكم: إسناده صحيح، والحديث متواتر ، خ: 106، ومسلم فى المقدمة : 1
حدیث نمبر: 630 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَاهُ حُسَيْنٌ عَنْ شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ، يَلِجْ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری طرف جھوٹی بات کی نسبت نہ کرو، کیونکہ جو شخص میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 630]
حکم دارالسلام
حديث متواتر، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث متواتر، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 631 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ فَقُمْنَا، وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پہلے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنازے کے احترام میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہونے لگے، بعد میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 631]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 962
الحكم: إسناده صحيح، م: 962
حدیث نمبر: 632 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، أَبِى زُرْعَةَ ، ابْنِ نُجَيٍّ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِى زُرْعَةَ ، عَنِ ابْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُنُبٌ، وَلَا صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو یا تصویر یا کتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 632]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، دون ذكر الجنب، وهذا إسناد ضعيف لعلل
الحكم: صحيح لغيره، دون ذكر الجنب، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 633 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 633]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 634 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْت أَبِي، يَقُولُ: لَيْسَ بِالْكُوفَةِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ (جن کی وضاحت پیچھے گزر چکی)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 634]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 5594، م: 1994
الحكم: إسناده صحيح. خ: 5594، م: 1994
حدیث نمبر: 635 مسند احمد
يَحْيَى ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٌ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً:" آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَالْحَالَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 635]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 636 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ، قَالَ: قُلْتُ: تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ، وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ، وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ"، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعاً کوئی علم نہیں ہے؟ فرمایا: اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 636]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو البختري لم يسمع من على شيئا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو البختري لم يسمع من على شيئا
حدیث نمبر: 637 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ، وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ، فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ آجِلًا، فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً، فَصَبِّرْنِي، قَالَ:" مَا قُلْتَ؟"، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ:" مَا قُلْتَ؟"، قَالَ: فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَافِهِ، أَوْ اشْفِهِ"، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطا فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات پھر دہرا دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا: کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے پھر اپنی بات دہرا دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 637]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 638 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" اللَّهُمَّ عَافِهِ، اللَّهُمَّ اشْفِهِ"، فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مذکور ہے جو عبارت میں گزری۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 638]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ، وانظر ماقبله
الحكم: إسناده حسن ، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 639 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَا وَرَجُلَانِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ، وَلَا يَحْجِزُهُ وَرُبَّمَا قَالَ: يَحْجُبُهُ، مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے بعد وضو کئے بغیر باہر تشریف لا کر قرآن کریم کی تلاوت شروع کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 639]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 640 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بہترین عورت سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام ہیں اور بہترین عورت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 3432، م: 2430
الحكم: إسناده صحيح. خ: 3432، م: 2430
حدیث نمبر: 641 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ ، زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ، وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ؟ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان سنا تھا؟ اس پر تیرہ آدمی کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 641]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، ومتنه متواتر، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالرحيم الكندي
الحكم: صحيح لغيره، ومتنه متواتر، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عبدالرحيم الكندي