بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 6 از 41
حدیث نمبر: 662 مسند احمد
خَلَفٌ ، أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، وَخَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، وَخَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَّا الْمَنِيُّ فَفِيهِ الْغُسْلُ، وَأَمَّا الْمَذْيُ فَفِيهِ الْوُضُوءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: منی سے تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 662]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 663 مسند احمد
خَلَفٌ ، خَالِدٌ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَبَعْدَهَا، يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يُصَلُّونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے یا بعد میں تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے، کیونکہ اس طرح اس کے دوسرے ساتھیوں کو نماز پڑھتے ہوئے مغالطہ ہو سکتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 663]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 664 مسند احمد
خَلَفٌ ، خَالِدٌ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، علياً
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أن علياً ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ اللَّهَ تَعَالَى الْهُدَى وَالسَّدَادَ، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ سے ہدایت اور درستگی کی درخواست کیا کرو اور ہدایت سے راستے کی ہدایت ذہن میں رکھا کرو اور درستگی کا معنی مراد لیتے وقت تیر کی درستگی اور سیدھا پن یاد رکھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 664]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 665 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُقَبَاءَ وُزَرَاءَ نُجَبَاءَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ وَزِيرًا نَقِيبًا نَجِيبًا: سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ، وَسَبْعَةً مِنَ الْمُهَاجِرِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء، وزراء، نجباء دیئے گئے جب کہ مجھے خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء، نقباء، نجباء دیئے گئے ہیں جن میں سے سات کا تعلق صرف قریش سے ہے اور باقی سات کا تعلق دیگر مہاجرین سے ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 665]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف كثير النواء وعبدالله بن مليل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف كثير النواء وعبدالله بن مليل
حدیث نمبر: 666 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ هُمْ أَسَنُّ مِنِّي لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، قَالَ:" اذْهَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعاً کوئی علم نہیں ہے؟ فرمایا: اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 667 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمْرُو بْنُ غُزَيٍّ ، عِلْبَاءُ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ غُزَيٍّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عِلْبَاءُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ، فَقَالَ:" مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صدقے کے کچھ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اونٹ کے پہلو سے اپنے دست مبارک سے اس کی اون پکڑی اور فرمایا کہ میں ایک عام مسلمان کی نسبت اس اون کا بھی کوئی زائد استحقاق نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 667]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن غزي وعمه علباء
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن غزي وعمه علباء
حدیث نمبر: 668 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصَلِّي، إِذْ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى لَنَا الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي ذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ جُنُبًا حِينَ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ أَغْتَسِلْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ فِي بَطْنِهِ رِزًّا، أَوْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا كُنْتُ عَلَيْهِ، فَلْيَنْصَرِفْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ، أَوْ غُسْلِهِ، ثُمَّ يَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز چھوڑ کر گھر چلے گئے اور ہم کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ازسرنو ہمیں نماز پڑھائی اور بعد فراغت فرمایا کہ جب میں نماز کے لئے کھڑا ہو گیا تب مجھے یاد آیا کہ میں تو اختیاری طور پر ناپاک ہو گیا تھا اور ابھی تک میں نے غسل نہیں کیا، اس لئے اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو رہی ہو یا میری جیسی کیفیت کا وہ شکار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ واپس لوٹ جائے اور اپنی ضرورت پوری کر کے یا غسل کر کے پھر نماز کی طرف متوجہ ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 668]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر حديث أبى هريرة الصحيح فى المسند : 2/ 338، ففيه أن انصرافه كان قبل الدخول فى الصلاة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر حديث أبى هريرة الصحيح فى المسند : 2/ 338، ففيه أن انصرافه كان قبل الدخول فى الصلاة
حدیث نمبر: 669 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 669]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، وهو مكرر ماقبله
الحكم: إسناده ضعيف ، وهو مكرر ماقبله
حدیث نمبر: 670 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ الْأَسْلَمِيَّ ، زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ الْأَسْلَمِيَّ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْشُدُ النَّاسَ، فَقَالَ:" أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا مُسْلِمًا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ، فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان سنا تھا؟ اس پر بارہ بدری صحابہ کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 670]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، ومتن الحديث صحيح مشهور
الحكم: صحيح لغيره، ومتن الحديث صحيح مشهور
حدیث نمبر: 671 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَاحِبَ الرِّبَا، وَآكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَالْمُحَلِّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والے، سودی معاملات لکھنے والے، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والے، حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 671]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 672 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، أَبُو كَثِيرٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قُتِلَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ، فَكَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ،" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ أَبَدًا، حَتَّى يَرْجِعَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ، وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ، إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ، لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، حَوْلَهُ سَبْعُ هُلْبَاتٍ، فَالْتَمِسُوهُ فَإِنِّي أُرَاهُ فِيهِمْ"، فَالْتَمَسُوهُ، فَوَجَدُوهُ إِلَى شَفِيرِ النَّهَرِ تَحْتَ الْقَتْلَى، فَأَخْرَجُوهُ، فَكَبَّرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَإِنَّهُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً، فَأَخَذَهَا بِيَدِهِ، فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي مُخْدَجَتِهِ، وَيَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَكَبَّرَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ وَاسْتَبْشَرُوا، وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوکثیر کہتے ہیں کہ جس وقت میرے آقا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان سے قتال شروع کیا، اس وقت میں ان کے ساتھ تھا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے لوگ ان سے جنگ کر کے خوش نہیں ہیں، یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے ایسی قوم کا تذکرہ کیا تھا جو دین سے اس طرح نکل جائے گی جیسے تیر، کمان سے نکل جاتا ہے اور وہ لوگ دین کی طرف کبھی بھی واپس نہ آ سکیں گے یہاں تک کہ تیر کمان کی طرف واپس آ جائے۔ ان لوگوں کی نشانی یہ ہو گی کہ ان میں سیاہ رنگ کا ایک ایسا شخص ہو گا جس کا ہاتھ ناتمام ہو گا اور اس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح ہو گا اور عورت کی چھاتی میں موجود گھنڈی کی طرح اس کی بھی گھنڈی ہو گی، جس کے گرد سات بالوں کا ایک گچھا ہو گا، تم اسے ان مقتولین میں تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ ان ہی میں ہو گا۔ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ نہر کے کنارے مقتولین کے نیچے انہیں مل گیا، انہوں نے اسے نکالا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا: اللہ رب العزت اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی عربی کمان لٹکا رکھی تھی، انہوں نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور اس کے ناتمام ہاتھ میں اس کی نوک چبھونے لگے اور فرمانے لگے کہ اللہ رب العزت اور اس کے رسول نے سچ فرمایا لوگوں نے بھی جب اسے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور ان کا غصہ یکدم کافور ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 672]
حکم دارالسلام
حديث صحيح. م: 1066، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كثير مولى الأنصار
الحكم: حديث صحيح. م: 1066، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى كثير مولى الأنصار
حدیث نمبر: 673 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ مِنَ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا تُوُفِّيَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ، وَيَنْصَحُ لَهُ بِالْغَيْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں، جب ملاقات ہو تو سلام کرے، جب چھینکے تو جواب دے، جب بیمار ہو تو عیادت کرے، جب دعوت دے تو قبول کرے، جب فوت ہو جائے تو جنازے میں شرکت کرے اپنے لئے جو پسند کرتا ہے اس کے لئے بھی وہی پسند کرے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کا خیر خواہ رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 673]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 674 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 674]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهو مكرر ماقبله
الحكم: حسن لغيره، وهو مكرر ماقبله
حدیث نمبر: 675 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ أَوْ تُبْتَغَى الضَّالَّةُ، فَلَا يُوجَدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی (جب تک میرے صحابہ مکمل طور پر دنیا سے رخصت نہ ہو جائیں) یہاں تک کہ میرے کسی ایک صحابی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک صحابی بھی نہ مل سکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 675]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 676 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ:" مَنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَأْسِرُوهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُمْ خَرَجُوا كُرْهًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن ارشاد فرمایا: اگر ممکن ہو تو بنوعبدالمطلب کو صرف قید کرنے پر اکتفاء کرے کیونکہ وہ بڑی مجبوری میں زبردستی نکلے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 676]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 677 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82، قَالَ: شِرْكُكُمْ، مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپنا حصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 677]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 678 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، قَالَ أَسْوَدُ: يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ، و َإِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، و َإِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ: وَالْعَصْرِ، وَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، وَ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر کی نماز میں مفصلات کی نو مختلف سورتوں کی تلاوت فرماتے تھے، اسود کے بقول پہلی رکعت میں سورت تکاثر، سورت قدر اور سورت زلزال کی تلاوت فرماتے، دوسری رکعت میں سورت عصرہ، سورت نصر اور سورت کوثر جبکہ تیسری رکعت میں سورت کفرون، سورت لہب اور سورت اخلاص کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 678]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 679 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدَ الْأَعْلَى ، أَبِي جَمِيلَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الْأَعْلَى يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَمَةً لَهُمْ زَنَتْ، فَحَمَلَتْ، فَأَتَى عَلِيّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" دَعْهَا حَتَّى تَلِدَ، أَوْ تَضَعَ، ثُمَّ اجْلِدْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی کسی باندی سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا اور اس کی اس حرکت پر اس کے امید سے ہو جانے پر مہر تصدیق بھی لگ گئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے تک اسے چھوڑے رکھو، بعد میں اسے کوڑے مار دینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 679]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 680 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَحَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: ابْنُ جُرْمُوزٍ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا: اسے اندر آنے دو، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہو گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 680]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 681 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ"، قال عبد الله: قال أبي: سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ: الْحَوَارِيُّ: النَّاصِرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا: اسے اندر آنے دو، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہو گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 681]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده حسن، وانظر ما قبله