بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 12 از 41
حدیث نمبر: 782 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَرِيكٌ ، مُخَارِقٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَلِيًّا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَاللَّهِ" مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، مُعَلَّقَةً بِسَيْفِهِ، أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ"، مُعَلَّقَةً بِسَيْفٍ لَهُ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، أَوْ قَالَ: بَكَرَاتُهُ حَدِيدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حاصل کیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 782]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 783 مسند احمد
هَاشِمُ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أُمُرِ مَكَّةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ، فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا، فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ، فَجَعَلْنَاهُ عُرَاقًا لِلثَّرِيدِ، فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَمْسَكُوا، فَقَالَ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ أَصْطَدْهُ، وَلَمْ نآمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَاهُ، فَمَا بَأْسٌ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ مَنْ يَقُولُ فِي هَذَا؟ فَقَالُوا: عَلِيٌّ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ وَهُوَ يَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ، فَأَطْعَمُونَاهُ، فَمَا بَأْسٌ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلِيٌّ ، وَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ، فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ"، قَالَ: فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ أُشْهِدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ، أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ"، قَالَ: فَشَهِدَ دُونَهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ، قَالَ: فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنِ الطَّعَامِ، فَدَخَلَ رَحْلَهُ، وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میرے والد حارث مکہ مکرمہ میں کسی عہدے پر فائز تھے، ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو - بقول عبداللہ بن حارث کے - میں نے قدید نامی جگہ کے پڑاؤ میں ان کا استقبال کیا، اہل ماء نے ایک گھوڑا شکار کیا، ہم نے اسے پانی اور نمک ملا کر پکایا، اور اس کا گوشت ہڈیوں سے الگ کر کے اس کا ثرید تیار کیا، اس کے بعد ہم نے وہ کھانا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے سامنے پیش کیا، لیکن ان کے ساتھیوں نے اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ نہ تو میں نے اس شکار کو پکڑ کر شکار کیا، اور نہ ہی اسے شکار کرنے کا حکم دیا، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کیا اور وہ اسے ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں، تو اس میں کیا حرج ہے؟ اسے کون ناجائز کہتا ہے؟ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام لگا دیا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بلاوا بھیجا، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منظر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گرد و غبار جھاڑتے ہوئے آرہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ نہ تو ہم نے اسے شکار کیا ہے، اور نہ ہی شکار کرنے کا حکم دیا ہے، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کر کے ہمارے سامنے کھانے کے لئے پیش کر دیا تو اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ تردد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک جنگلی گدھے کے پائے لائے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو۔ کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارہ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس شتر مرغ کے انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟ اس پر بارہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کھڑے ہوگئے، یہ دیکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 783]
حکم دارالسلام
حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لعلي بن زيد جدعان ، وثبت جواز أكل الصيد للمحرم إذا صاده الحلال وأهداه للمحرم في صحيح البخاري: 1821
الحكم: حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لعلي بن زيد جدعان ، وثبت جواز أكل الصيد للمحرم إذا صاده الحلال وأهداه للمحرم في صحيح البخاري: 1821
حدیث نمبر: 784 مسند احمد
هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، هَمَّامٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ : أَنَّ أَبَاهُ وَلِيَ طَعَامَ عُثْمَانَ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْحَجَلِ حَوَالَيْ الْجِفَانِ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَكْرَهُ هَذَا، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ مُلَطِّخٌ يَدَيْهِ بِالْخَبَطِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَكَثِيرُ الْخِلَافِ عَلَيْنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ : أُذَكِّرُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعَجُزِ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ:" إِنَّا مُحْرِمُونَ، فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ"، فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِخَمْسِ بِيضَاتٍ، بَيْضِ نَعَامٍ، فَقَالَ:" إِنَّا مُحْرِمُونَ، فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ"، فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا، فَقَامَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ، وَتَرَكُوا الطَّعَامَ عَلَى أَهْلِ الْمَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ ان کے والد حارث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کھانے کے ذمے دار تھے، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منظر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ ہانڈیوں کے گرد گھوڑے کا گوشت پڑا ہوا ہے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسے اچھا نہیں سمجھتے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا بھیجا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے گرد و غبار جھاڑتے ہوئے آئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ ہم سے بہت زیادہ اختلاف کرتے ہیں، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک جنگلی گدھے کے سرین لائے گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو، کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہو گئے جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس شتر مرغ کے پانچ انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟ اس پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہو گئے، یہ دیکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 784]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وانظر ما قبله
الحكم: حسن لغيره، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 785 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَنَّا أَنْزَيْنَا الْحُمُرَ عَلَى خَيْلِنَا فَجَاءَتْنَا بِمِثْلِ هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر ہم بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر چڑھا دیں اور ایسا جانور پیدا ہو جائے تو کیسا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 786 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے، اور اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 786]
حکم دارالسلام
صحيح، أبو خيثمة - وإن كان سماعه من أبى إسحاق بعد الاختلاط - قد توبع
الحكم: صحيح، أبو خيثمة - وإن كان سماعه من أبى إسحاق بعد الاختلاط - قد توبع
حدیث نمبر: 787 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: اعْتَمَرْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ، أَوْ زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَنَزَلَ عَلَى أُخْتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ، رَجَعَ، فَسُكِبَ لَهُ غُسْلٌ فَاغْتَسَلَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَسَنٍ، جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ نُحِبُّ أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ، قَالَ: أَظُنُّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ كَانَ أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: أَجَلْ، عَنْ ذَلِكَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ، قَالَ:" أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلافت فاروقی یا خلافت عثمانی میں مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، اس دوران وہ اپنی ہمشیرہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے یہاں اترے، جب عمرہ سے فارغ ہو گئے تو ان کے یہاں واپس آئے، ان کے غسل کے لئے پانی رکھ دیا گیا، انہوں نے غسل کیا، ابھی غسل کر کے فارغ ہوئے تھے کہ اہل عراق کا ایک وفد آگیا، وہ لوگ کہنے لگے کہ اے ابوالحسن! ہم آپ کے پاس ایک سوال لے کر آئے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں اس کے متعلق کچھ بتائیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے آپ لوگوں سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے قریب العہد ہیں، انہوں نے کہا: بالکل ٹھیک، ہم اسی کے متعلق آپ سے پوچھنے آئے ہیں، فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب العہد قثم بن عباس ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 787]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 788 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عُتَيْبَةُ ، بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ، أَوْ دِرْهَمَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيَّتَانِ، صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، انہوں نے ترکہ میں دو دینار یا دو درہم چھوڑے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 788]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عتيبة وبريد بن أصرم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عتيبة وبريد بن أصرم
حدیث نمبر: 789 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا، كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 789]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى).
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى).
حدیث نمبر: 790 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، منْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ، صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ، وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے میرے کانوں نے سنی، اور میرے دل دماغ نے اسے محفوظ کیا کہ تمام لوگ قریش کے تابع ہیں، نیک لوگ نیکوں کے تابع، اور برے لوگ بروں کے تابع ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 790]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر اليمامي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر اليمامي
حدیث نمبر: 791 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ، يُقَالُ لَهُ: جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ"، قَالَ: فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ: النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ جانور جس کا نصف یا اس سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 791]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 792 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْرَقِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٍ، فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ، فَجَاءَهُ الْحَسَنُ، فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے غریب خانے پر تشریف لائے، میں سو رہا تھا، اتنی دیر میں سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو پیاس لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری ایک بکری کی طرف بڑھے جو بہت کم دودھ دیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا دودھ دوہا تو وہ بہت زیادہ نکلا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک طرف بٹھا لیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے؟ فرمایا: یہ بات نہیں ہے، اصل میں اس نے پہلے مانگا تھا۔ پھر فرمایا کہ قیامت کے دن میں، تم، یہ دونوں اور یہ سونے والا ایک ہی جگہ میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 792]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً لضعف قيس بن الربيع واضطرابه فى الحديث
الحكم: إسناده ضعيف جداً لضعف قيس بن الربيع واضطرابه فى الحديث
حدیث نمبر: 793 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حُدَيْجٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا حُدَيْجٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ، فَقَالَ: اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس وقت گھر سے نکلا جب چاند طلوع ہو چکا تھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بڑے پیالے کا شگاف ہو، اور فرمایا: آج کی رات شب قدر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 793]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حديج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حديج
حدیث نمبر: 794 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، زَاذَانَ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ"، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي، فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے۔ بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 794]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف مرفوعاً، عطاء بن السائب أختلط بآخرة، وعامة من رفع عنه هذا الحديث، فإنما رواه عنه بعد أختلاطه
الحكم: إسناده ضعيف مرفوعاً، عطاء بن السائب أختلط بآخرة، وعامة من رفع عنه هذا الحديث، فإنما رواه عنه بعد أختلاطه
حدیث نمبر: 795 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، زَاذَانَ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهُ، فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟" إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا، فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا، فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا: مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 795]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 796 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ضَخْمَ الرَّأْسِ، عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ، هَدِبَ الْأَشْفَارِ، قَالَ حَسَنٌ: الشِّفَارِ، مُشْرَبَ الْعَيْنَيْنِ بِحُمْرَةٍ، كَثَّ اللِّحْيَةِ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صُعُدٍ، قَالَ حَسَنٌ: تَكَفَّأَ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں موٹی موٹی، پلکیں لمبی لمبی، آنکھوں میں سرخی کے ڈورے، گھنی داڑھی، کھلتا ہوا رنگ اور ہاتھ پاؤں بھرے ہوئے تھے، اور چلنے کی کیفیت ایسی تھی کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی گھاٹی پر چل رہے ہوں۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 796]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 797 مسند احمد
أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْخِمْسِ ، فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ ، أَبِي ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَقَالَ لِي: هُوَ اسْمِي وَكُنْيَتِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْخِمْسِ ، حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحَبَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ" دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ، وَتَمَسَّحَ، وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صحن کوفہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی، اور جو اللہ نے چاہا سو انہوں نے کہا، اس کے بعد پانی کا ایک برتن منگوایا، اس میں سے کلی کی، کچھ پانی مسح کے طور پر اپنے جسم کے اعضاء وضو پر پھیر لیا، اور باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پی لیا، اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہ ہو، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 797]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 798 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، شَرِيكٌ ، مُخَارِقٍ ، طَارِقٍ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ، أَوْ قَالَ: كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي، وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب یا وحی نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار سے لٹکا ہوا ہے، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 798]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 799 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قِيلَ لَهُ: إِنَّ قَاتِلَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: لِيَدْخُلْ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ (ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟) لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے، فرمایا: اسے اندر آنے دو، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 799]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 800 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَإِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَإِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ، فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ الْغُلَامَانِ؟"، فَقُلْتُ: بِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلام ہبہ کر دیئے، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کر دیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ وہ غلام کیا ہوئے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس لے لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 800]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك علياً، وليس هو بذاك ، والحجاج مدلس، وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك علياً، وليس هو بذاك ، والحجاج مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 801 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كُفِّنَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 801]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن محمد ابن عقيل به، ولمخالفة الحديث الصحيح الذى رواه البخاري : 1664، ومسلم: 941، من حديث عائشة: إن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم كفن فى ثلاثة أثواب......
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن محمد ابن عقيل به، ولمخالفة الحديث الصحيح الذى رواه البخاري : 1664، ومسلم: 941، من حديث عائشة: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن فى ثلاثة أثواب......