بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 11 از 41
حدیث نمبر: 762 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هُبَيْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوقِظُ أَهْلَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل خانہ کو بھی رات جاگنے کے لئے اٹھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 762]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 763 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هُوَ؟ قَالَ:" نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے کچھ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا چیزیں ہیں؟ فرمایا: میری مدد رعب کے ذریعے کی گئی ہے، مجھے زمین کے خزانے دئیے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لئے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے، اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 763]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 764 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے، اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 764]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 765 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْأَشْجَعِيُّ ، سُفيان ، جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حدثنا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفيان ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ، فَقَالَ:" غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ"، ذَكَرَ كَلِمَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوئے ہوئے تھے اور ہم قریب ہی بیٹھے دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر دجال سے زیادہ ایک دوسری چیز کا خطرہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 765]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 766 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ، أَوْ بَغْلَةٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ:" بَغْلٌ، أَوْ بَغْلَةٌ"، قُلْتُ: وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ قَالَ:" يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ، فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا"، قُلْتُ: أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ خچر ہے مذکر یا مونث، میں نے پوچھا کہ یہ کس نسل سے ہوتا ہے؟ فرمایا: گھوڑی پر گدھے کو سوار کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ اس خچر کی صورت میں نکلتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر نہ چڑھا دوں؟ فرمایا: نہیں، یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 766]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك وجهالة على بن علقمة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك وجهالة على بن علقمة
حدیث نمبر: 767 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ المُبَارَكٍ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ إِذَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ أَذِنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 767]
حکم دارالسلام
وإسناده مسلسل بالضعفاء
الحكم: وإسناده مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 768 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَنْحَرَ بِمِنًى، فَقَالَ:" هَذَا الْمَنْحَرُ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منی میں قربان گاہ پر تشریف لائے اور فرمایا: یہ قربان گاہ ہے، اور پورا منی ہی قربان گاہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 768]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 769 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سميته حربا، فجاء رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ حَسَنٌ"، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ"، فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟"، قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ"، ثُمَّ قَالَ:" سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ: شَبَّرُ، وَشَبِيرُ، وَمُشَبِّرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بچے کی پیدائش کی خبر معلوم ہوئی تو تشریف لائے اور فرمایا: مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: حرب، فرمایا: نہیں، اس کا نام حسن ہے۔ پھر جب حسین پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھ دیا، اس موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے پھر عرض کیا: حرب، فرمایا: نہیں، اس کا نام حسین ہے۔ تیسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی اسی طرح ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام بدل کر محسن رکھ دیا، پھر فرمایا: میں نے ان بچوں کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کے بچوں کے نام پر رکھے ہیں، جن کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 769]
حکم دارالسلام
ضعفه الشيخ الألباني فى الضعيفة : 3706، هانئ بن هانئ مجهول
الحكم: ضعفه الشيخ الألباني فى الضعيفة : 3706، هانئ بن هانئ مجهول
حدیث نمبر: 770 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ اتَّبَعَتْنَا ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمِّ، يَا عَمِّ، قَالَ: فَتَنَاوَلْتُهَا بِيَدِهَا، فَدَفَعْتُهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اخْتَصَمْنَا فِيهَا أَنَا وَجَعْفَرٌ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فقال جعفر: ابنة عمي وخالتها عندي، يعني: أسماء بنت عميس، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، وَقُلْتُ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ، فَأَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ، فَمِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ، فَأَخُونَا وَمَوْلَانَا، وَالْجَارِيَةُ عِنْدَ خَالَتِهَا، فَإِنَّ الْخَالَةَ وَالِدَةٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُهَا؟ قَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مکہ مکرمہ سے نکلنے لگے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی چچا جان! چچاجان! پکارتی ہوئی ہمارے پیچھے لگ گئی، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا، اور ان سے کہا کہ اپنی چچا زاد بہن کو سنبھالو، جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو اس بچی کی پرورش کے سلسلے میں میرا، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کا جھگڑا ہو گیا۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ یعنی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا میرے نکاح میں ہیں، لہذا اس کی پرورش میرا حق ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ میری بھتیجی ہے۔ اور میں نے یہ موقف اختیار کیا کہ اسے میں لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں، اور زید! آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولی (آزاد کردہ غلام) ہیں، بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی کیونکہ خالہ بھی ماں کے مرتبہ میں ہوتی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ فرمایا: اس لئے کہ یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 770]
حکم دارالسلام
إسناده حسن. هانئ وهبيرة حديثهما حسن لمتابعة أحدهما للآخر
الحكم: إسناده حسن. هانئ وهبيرة حديثهما حسن لمتابعة أحدهما للآخر
حدیث نمبر: 771 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْخَلِيلِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْتَغْفِرُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ، فَقُلْتُ: أَيَسْتَغْفِرُ الرَّجُلُ لِأَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ؟ فَقَالَ: أَوَلَمْ يَسْتَغْفِرْ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ؟ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ:" مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى قَوْلِهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ سورة التوبة آية 113 - 114"، قَالَ:" لَمَّا مَاتَ"، فَلَا أَدْرِي قَالَهُ سُفْيَانُ، أَوْ قَالَهُ إِسْرَائِيلُ، أَوْ هُوَ فِي الْحَدِيثِ:" لَمَّا مَاتَ"؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو اپنے مشرک والدین کے لئے دعا مغفرت کرتے ہوئے سنا تو میں نے کہا کہ کیا کوئی شخص اپنے مشرک والدین کے لئے بھی دعا مغفرت کر سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لئے دعا مغفرت نہیں کرتے تھے؟ میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ [التوبة: 113] » پیغمبر اور اہلِ ایمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے دعا مغفرت کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 771]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 772 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ، وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات رات کو نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ان کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوئی ہوتی تھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 772]
حکم دارالسلام
إسناده حسن فى الشواهد
الحكم: إسناده حسن فى الشواهد
حدیث نمبر: 773 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، فِطْرٌ ، الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيًّا ، حَبِيبٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ حَجَّاجٌ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، لَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنَّا، يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا"، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ:" رَجُلًا مِنّي"، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً يَذْكُرُهُ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر دنیا ختم ہونے میں صرف ایک دن ہی بچ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک ایسے آدمی کو ضرور بھیجے گا جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے پہلے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ (مراد سیدنا امام مہدی رضی اللہ عنہ ہیں، جن پر اس ناکارہ کی مستقل کتاب اسلام میں امام مہدی رضی اللہ عنہ کا تصور کے نام سے بازار میں دستیاب ہے)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 773]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناداه صحيحان، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 774 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" الْحَسَنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نچلے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 774]
حکم دارالسلام
ضعفه الألباني فى ضعيف سنن الترمذي : 4050
الحكم: ضعفه الألباني فى ضعيف سنن الترمذي : 4050
حدیث نمبر: 775 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا، فَعُوقِبَ بِهِ، فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا، فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَعَفَا عَنْهُ، فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے اس کی سزا بھی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت عادل ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو شخص دنیا میں کوئی گناہ کر بیٹھے اور اللہ اس کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے معاف فرما دے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ جس چیز کو وہ معاف کر چکا ہو اس کا معاملہ دوبارہ کھولے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 775]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 776 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، أَبِي ، حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَحِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ:" ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ، ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ، وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ، فَقَالَ: مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ، أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَعْلُوَنِي اسْتِي أَبَدًا، وَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حبہ عرنی کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر اس طرح ہنستے ہوئے دیکھا کہ اس سے قبل انہیں اتنا ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا، یہاں تک کہ ان کے آخری دانت بھی نظر آنے لگے، پھر فرمانے لگے کہ مجھے اپنے والد ابوطالب کی ایک بات یاد آگئی، ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ابوطالب آگئے اور کہنے لگے کہ بھتیجے! یہ تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی، وہ کہنے لگے کہ تم دونوں جو کر رہے ہو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے لیکن واللہ! مجھ سے اپنے کولہے اوپر نہ کئے جا سکیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس بات پر تعجب سے ہنسی آگئی اور فرمانے لگے کہ اے اللہ! میں اس بات پر فخر نہیں کرتا کہ آپ کے نبی کے علاوہ اس امت میں آپ کے کسی بندے نے مجھ سے پہلے آپ کی عبادت کی ہو۔ یہ بات تین مرتبہ دہرا کر وہ فرمانے لگے کہ میں نے لوگوں کے نماز پڑھنے سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 776]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، يحيى بن سلمة بن كهيل متروك الحديث، وحبة العرني ضعيف أيضاً
الحكم: إسناده ضعيف جداً، يحيى بن سلمة بن كهيل متروك الحديث، وحبة العرني ضعيف أيضاً
حدیث نمبر: 777 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي، وَأَكْثَرُ عِلْمِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَانْصَرَفَ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ بِكُمْ آنِفًا وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِثْلُ الَّذِي أَصَابَنِي، أَوْ وَجَدَ رِزًّا فِي بَطْنِهِ، فَلْيَصْنَعْ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز چھوڑ کر گھر چلے گئے اور ہم کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے از سر نو ہمیں نماز پڑھائی، اور بعد فراغت فرمایا کہ جب میں نماز کے لئے کھڑا ہو گیا تب مجھے یاد آیا کہ میں تو اختیاری طور پر ناپاک ہو گیا تھا، اس لئے اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو رہی ہو، یا میری جیسی کیفیت کا وہ شکار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ میری ہی طرح کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 777]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة. وانظر حديث أبى هريرة الصحيح فى المسند: 2/ 338، 339، ففيه أن انصرافه كان قبل الدخول فى الصلاة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة. وانظر حديث أبى هريرة الصحيح فى المسند: 2/ 338، 339، ففيه أن انصرافه كان قبل الدخول فى الصلاة
حدیث نمبر: 778 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْمِنْهَالِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ سَأَلْتَهُ؟ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ، قَالَ: فَتَفَلَ فِي عَيْنِي، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ"، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا مُنْذُ يَوْمِئِذٍ، وَقَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ"، فَتَشَرَّفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِيهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کے وقت مختلف امور پر بات چیت کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عجیب عادت تھی کہ وہ سردی کے موسم میں گرمی کے کپڑے، اور گرمی کے موسم میں سردی کے کپڑے پہن لیا کرتے تھے، کسی نے میرے والد صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس چیز کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں تو شاید وہ جواب دے دیں؟ چنانچہ والد صاحب کے سوال کرنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ غزوہ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے پاس ایک قاصد بھیجا، مجھے آشوب چشم کی بیماری لاحق تھی، اس لئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے تو آشوب چشم ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا اور یہ دعا کی: «اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» اے اللہ! اس کی گرمی سردی دور فرما۔ اس دن سے آج تک مجھے کبھی گرمی اور سردی کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا، اور خود اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں محبوب ہوگا، وہ بھاگنے والا نہ ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ جھنڈا مجھے عنایت فرما دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 778]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن أبى ليلى شيخ وكيع، وهو محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن أبى ليلى شيخ وكيع، وهو محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى
حدیث نمبر: 779 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ عَمَّارٌ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ:" ائْذَنُوا لَهُ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ کر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 780 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيًّا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَغَيْرِهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، يَعْنِي لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 276
الحكم: إسناده صحيح، م: 276
حدیث نمبر: 781 مسند احمد
ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي ، سُفْيَانَ ، عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: أَمَرَنِي عَلِيٌّ أَنْ" أَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 781]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده حسن، وانظر ما قبله