بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 40 از 41
حدیث نمبر: 1343 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا مَا فِيهَا بَيْعٌ وَلَا شِرَاءٌ، إِلَّا الصُّوَرُ مِنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ، فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا، وَإِنَّ فِيهَا لَمَجْمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا لَمْ يَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا، يَقُلْنَ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْؤُسُ، فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں ایک بازار ہوگا لیکن اس میں خرید و فروخت نہ ہوگی، اس میں صرف مردوں اور عورتوں کی صورتیں ہوں گی، جس آدمی کو جو صورت پسند ہوگی وہ اس میں داخل ہو جائے گا، نیز جنت میں حور عین کا ایک مجمع لگتا ہے جہاں وہ - کہ ان جیسا حسین خلائق عالم نے نہ دیکھا ہوگا - اپنی آوازیں بلند کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں، ہم کبھی فناء نہ ہوں گی، ہم ہمیشہ راضی رہنے والی ہیں، ہم کبھی ناراض نہ ہوں گی، ہم ناز و نعم میں پلی ہوئی ہیں اس لئے ہم تنگی میں نہیں رہیں گی، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو ہمارا ہے اور جس کے ہم ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1343]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق، و لجهالة النعمان بن سعد
الحكم: إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق، و لجهالة النعمان بن سعد
حدیث نمبر: 1344 مسند احمد
زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَهَا، قَالَ: وَفِيهَا مُجْتَمَعُ الْحُورِ الْعِينِ يَرْفَعْنَ أَصْوَاتًا..."، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1344]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق ، ثم هو منقطع بين عبدالرحمٰن و بين علي، وانظر ماقبله
الحكم: إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق ، ثم هو منقطع بين عبدالرحمٰن و بين علي، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 1345 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہ دیکھ لے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1345]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1346 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک قوم ایسی آئے گی جو اسلام سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گا، ان سے قتال کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1346]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، روي يوسف بن أبي اسحاق عن أبيه فأدخل بينه و بين سويد بن غفلة أبا قيس الأودي
الحكم: صحيح لغيره، روي يوسف بن أبي اسحاق عن أبيه فأدخل بينه و بين سويد بن غفلة أبا قيس الأودي
حدیث نمبر: 1347 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ الْمُضَرِّبِ ، عَلِيٍّ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ الْمُضَرِّبِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا" إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ، وَلَقِيَ الْقَوْمُ الْقَوْمَ، اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا يَكُونُ مِنَّا أَحَدٌ أَدْنَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پناہ میں آجاتے تھے، اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی دشمن کے اتنا قریب نہ تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1347]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1348 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَوْقِفُ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ"، ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ، فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ، وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا، لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، وَيَقُولُ:" السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ"، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتْ الشَّمْسُ، فَأَتَى جَمْعًا، فَصَلَّى بِهَا الصَّلَاتَيْنِ، يَعْنِي: الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ بَاتَ، بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ وَقَفَ عَلَى قُزَحَ، فَقَالَ:" هَذَا قُزَحُ، وَهُوَ الْمَوْقِفُ، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ"، قَالَ: ثُمَّ سَارَ، فَلَمَّا أَتَى مُحَسِّرًا قَرَعَهَا فَخَبَّتْ، حَتَّى جَازَ الْوَادِيَ، ثُمَّ حَبَسَهَا وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ، فَقَالَ:" هَذَا الْمَنْحَرُ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ"، ثُمَّ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ قَدْ أَفْنَدَ، وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ، فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَأَدِّي عَنْ أَبِيكِ"، قَالَ: وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً، فَخِفْتُ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا"، قَالَ: وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَفَضْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ؟ قَالَ:" فَاحْلِقْ، أَوْ قَصِّرْ، وَلَا حَرَجَ"، قَالَ: وَأَتَى زَمْزَمَ، فَقَالَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، سِقَايَتَكُمْ، لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمْ النَّاسُ عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں وقوف کیا اور فرمایا: یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔ پھر غروب شمس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے، اپنے پیچھے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: لوگو! سکون اور اطمینان اختیار کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، اور رات بھر وہیں رہے، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جبل قزح پر تشریف لائے، وہاں وقوف کیا اور فرمایا کہ یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے ہوئے وادی محسر پہنچے، وہاں ایک لمحے کے لئے رکے پھر اپنی اونٹنی کو سرپٹ دوڑا دیا تاآنکہ اس وادی سے نکل گئے (کیونکہ یہ عذاب کی جگہ تھی)۔ پھر سواری روک کر اپنے پیچھے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا، اور چلتے چلتے منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ آئے اور اسے کنکریاں ماریں، پھر قربان گاہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ قربان گاہ ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے۔ اتنی دیر میں بنو خثعم کی ایک نوجوان عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ تقریبا ختم ہو چکے ہیں لیکن ان پر حج بھی فرض ہے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تم اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہو۔ یہ کہتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی گردن موڑ دی (کیونکہ وہ اس عورت کو دیکھنے لگے تھے)۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی گردن کس حکمت کی بنا پر موڑی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے بارے شیطان سے امن نہ ہوا، اس لئے دونوں کا رخ پھیر دیا۔ بہرحال! تھوڑی دیر بعد ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال کٹوا لئے، اب کیا کروں؟ فرمایا: اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ ایک اور شخص نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے حلق سے پہلے طواف زیارت کر لیا، فرمایا: کوئی بات نہیں، اب حلق یا قصر کر لو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طواف زیارت کے لئے حرم شریف پہنچے، طواف کیا، زمزم پیا، اور فرمایا: بنو عبدالمطلب! حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری پوری کرتے رہو، اگر لوگ تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی اس میں سے ڈول کھینچ کھینچ کر نکالتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1348]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1349 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي، حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا قَدْ سَبَقَ لَهَا مِنَ اللَّهِ شَقَاءٌ أَوْ سَعَادَةٌ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ إِذًا نَعْمَلُ؟ قَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ:" فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم چہل قدمی کرتے ہوئے چلتے رہے، حتی کہ فرات کے کنارے جا کر بیٹھ گئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا شقی یا سعید ہونا اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کیوں کریں؟ فرمایا: عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى o وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى o فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى o وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى o وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى o فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى﴾ [الليل: 5-10] » جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا، اور اچھی بات کی تصدیق کی تو ہم اس کے لئے آسانی کے اسباب پیدا کر دیں گے، اور جو شخص بخل اختیار کرے، اپنے آپ کو مستغنی ظاہر کرے، اور اچھی بات کی تکذیب کرے، تو ہم اس کے لئے تنگی کے اسباب پیدا کر دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1349]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1350 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْوَادِعِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَالَ فِي الرَّحَبَةِ، ثُمَّ" دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صحن میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پانی منگوایا اور پہلے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو کر صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی لے کر کھڑے کھڑے پی گئے، اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1350]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1351 مسند احمد
زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَيَّةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1351]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده حسن ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1352 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَيَّةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" تَوَضَّأَ، فَأَنْقَى كَفَّيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو صاف کیا، پھر تین مرتبہ چہرہ اور تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، سر کا مسح کیا، پھر ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھوئے، پھر کھڑے ہو کر وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، اور فرمایا: میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو دکھانا چاہتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1352]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1353 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، الْمُخْتَارِ بْنِ نَافِعٍ ، أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، فَلَمَّا لَبِسَهُ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومطر بصری - جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا - سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعا پڑھی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا، جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں، اور اپنا ستر چھپاتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1353]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لضعف المختار بن نافع، ولجهالة أبي مطر البصري
الحكم: إسناد ضعيف لضعف المختار بن نافع، ولجهالة أبي مطر البصري
حدیث نمبر: 1354 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَيَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَنْظُرْ إِلَيَّ، قَالَ:" فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وضو دیکھنا چاہتا ہے وہ میری طرف دیکھے، پھر انہوں نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1354]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1355 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ ، أَبِي مَطَرٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ ، أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا، فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّصْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، فَقِيلَ: هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ، أَوْ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومطر بصری جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین درہم کا ایک کپڑا خریدا، جب اسے پہنا تو یہ دعا پڑھی: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنْ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس عطاء فرمایا، جس سے میں لوگوں میں خوبصورت لگتا ہوں، اور اپنا ستر چھپاتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1355]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لضعف المختار بن نافع، ولجهالة أبي مطر البصري
الحكم: إسناد ضعيف لضعف المختار بن نافع، ولجهالة أبي مطر البصري
حدیث نمبر: 1356 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُخْتَارٌ ، أَبِي مَطَرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُخْتَارٌ ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحَبَةِ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَرِنِي وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا، فَقَالَ: ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ،" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَاحِدَةً، فَقَالَ: دَاخِلُهُمَا مِنَ الْوَجْهِ، وَخَارِجُهُمَا مِنَ الرَّأْسِ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا، وَلِحْيَتُهُ تَهْطِلُ عَلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ حَسَا حَسْوَةً بَعْدَ الْوُضُوءِ"، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ كَذَا كَانَ وُضُوءُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومطر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ زوال کے وقت مسجد میں باب الرحبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا وضو کر کے دکھائیے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام قنبر کو بلا کر فرمایا: ایک کٹورے میں پانی لے کر آؤ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھوں اور چہرے کو تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی اور اپنی ایک انگلی منہ میں ڈالی، ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالا، تین مرتبہ بازوؤں کو دھویا، ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، چہرہ کی طرف سے اندر کے حصے کا اور سر کی طرف سے باہر کے حصے کا، اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھوئے، اس وقت ان کی داڑھی سینے پر لٹک رہی تھی، پھر انہوں نے وضو کے بعد ایک گھونٹ پانی پیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح وضو فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1356]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1357 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، مِسْعَرٌ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنِ شَدَّادٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ"، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے - سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے - اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا، غزوہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے: سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4058 ، م : 2411
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4058 ، م : 2411
حدیث نمبر: 1358 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَلَا تَزَوَّجُ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" وَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ:" تِلْكَ ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی۔ فرمایا: وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1446
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1446
حدیث نمبر: 1359 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الْخَيْرِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: لَوْ اتَّخَذْنَا مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ:" أَتُرِيدُونَ أَنْ تُنْزُوا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ؟ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر ہم بھی یہ جانور حاصل کرنا چاہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانا چاہتے ہو؟ یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1359]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، عبد الله بن لهيعة سي الحفظ لكنه توبع
الحكم: صحيح لغيره ، عبد الله بن لهيعة سي الحفظ لكنه توبع
حدیث نمبر: 1360 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي حَيَّةَ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَأْتُونِي بِطَسْتٍ وَتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ،" فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا: پھر میرے پاس ایک طشت اور پانی کا ایک برتن لے کر آؤ، چنانچہ پہلے انہوں نے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا، اور تین مرتبہ ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1360]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1361 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْأَكْبَرِ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْأَكْبَرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ أَرْبَعًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنْ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ: أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے چار چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں، مجھے زمین کے خزانے دیئے گئے ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لئے پانی کی طرح پاک کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور میری امت کو بہترین امت کا خطاب دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1361]
حکم دارالسلام
إسناده حسن ، و تقدم برقم : 763 الا انه ذكر هناك فى الحديث خامسة، وهى قوله : «نصرت بالرعب»
الحكم: إسناده حسن ، و تقدم برقم : 763 الا انه ذكر هناك فى الحديث خامسة، وهى قوله : «نصرت بالرعب»
حدیث نمبر: 1362 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبَرَ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں: (1) سویا ہوا شخص جب تک بیدار نہ ہو جائے، (2) بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے، (3) مجنون جب تک اس کی عقل لوٹ نہ آئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1362]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا اِسناد منقطع، ابو ظبيان لم يدرك عمر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا اِسناد منقطع، ابو ظبيان لم يدرك عمر