بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 2 از 41
حدیث نمبر: 582 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ، وَلَا تَأْكُلْ الصَّدَقَةَ، وَلَا تُنْزِ الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ، وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علی! وضو! اچھی طرح کیا کرو اگرچہ تمہیں شاق ہی کیوں نہ گزرے (مثلاً سردی کے موسم میں) صدقہ مت کھایا کرو گدھوں کو گھوڑوں پر مت کدواؤ اور نجومیوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا مت رکھو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 582]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف هارون بن مسلم، وعلي بن الحسين والد محمد بن على الباقر لم يدرك جده على ابن أبى طالب
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف هارون بن مسلم، وعلي بن الحسين والد محمد بن على الباقر لم يدرك جده على ابن أبى طالب
حدیث نمبر: 583 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ،" فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، وَرَأْسَهُ، ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نزل بن سبرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کوزے میں پانی لایا گیا وہ مسجد کے صحن میں تھے، انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اس سے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، چہرے کا مسح کیا، بازوؤں اور سر پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5616
حدیث نمبر: 584 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، حَبِيبٍ ، ثَعْلَبَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 584]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، حبيب مدلس، وقد عنعن، والحديث متواتر، خ: 106، ومسلم فى المقدمة : 1
الحكم: صحيح لغيره، حبيب مدلس، وقد عنعن، والحديث متواتر، خ: 106، ومسلم فى المقدمة : 1
حدیث نمبر: 585 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، الْمُغِيرَةُ ، أُمِّ مُوسَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ آخِرُ كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آخری کلام یہ تھا کہ نماز کی پابندی کرنا اور اپنے غلاموں باندیوں کے بارے اللہ سے ڈرتے رہنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 585]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 586 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ السَّبَّاحَةِ، أَوْ الَّتِي تَلِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ نے مجھے شہادت والی یا اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا: ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 587 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَنْبَأَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: ثُمَّ شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، وَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ينْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبید کہتے ہیں کہ . . . . ایک مرتبہ عید کے دن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، اس میں اذان یا اقامت کچھ بھی نہ کہی اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5573، م 1969
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5573، م 1969
حدیث نمبر: 588 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ يَعْنِي ابْنَ الْبَرِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَيَّرَ نِسَاءَهُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ، وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا تھا لیکن اسے طلاق شمار نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہیں طلاق کا اختیار دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 588]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيدالله بن أبى رافع
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيدالله بن أبى رافع
حدیث نمبر: 589 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ:" خَيَّرَ نِسَاءَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت ایک اور سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 589]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 590 مسند احمد
أَبُو يُوسُفَ الْمُؤَدِّبُ يَعْقُوبُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْمُؤَدِّبُ يَعْقُوبُ جَارُنَا، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ، فَهُوَ شَهِيدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 590]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن
حدیث نمبر: 591 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان مشرکین کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4533، م : 627
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4533، م : 627
حدیث نمبر: 592 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِمَا ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ حَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا ، وَكَانَ حَسَنٌ أَرْضَاهُمَا فِي أَنْفُسِنَا، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5115، م: 1407
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5115، م: 1407
حدیث نمبر: 593 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقَسِّمَ بُدْنَهُ أَقُومُ عَلَيْهَا، وَأَنْ أُقَسِّمَ جُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ:" نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ قربانی کے موقع پر آپ کے ساتھ موجود رہوں اور یہ کہ ان اونٹوں کی کھالیں اور جھولیں بھی تقسیم کر دوں اور گوشت بھی تقسیم کر دوں اور یہ بھی حکم دیا کہ قصاب کو ان میں سے کوئی چیز مزدوری کے طور پر نہ دوں اور فرمایا کہ اسے ہم اپنے پاس سے مزدوری دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1717، م: 1317
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1717، م: 1317
حدیث نمبر: 594 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ رَجُلٍ مِنْ هَمْدَانَ، سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ؟ يَعْنِي: يَوْمَ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْحَجَّةِ، قَالَ: بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَلَا يَحُجُّ الْمُشْرِكُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مختلف راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر الحجاج بنا کر بھیجا تھا تو آپ کو کیا پیغام دے کر بھیجا گیا تھا؟ فرمایا کہ مجھے چار پیغامات دے کر بھیجا گیا تھا، ایک تو یہ کہ جنت میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی شخص داخل نہ ہو سکے گا، دوسرا یہ کہ آئندہ بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر کوئی نہ کر سکے گا، تیسرا یہ کہ جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی معاہدہ ہو، وہ مدت ختم ہونے تک برقرار رہے گا اور اس سال کے بعد مسلمانوں کے ساتھ مشرک حج نہ کرسکیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 594]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد فيه عنعنة أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد فيه عنعنة أبى إسحاق
حدیث نمبر: 595 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَضَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ، وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ، وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ میت کے قرض کی ادائیگی اجراء نفاذ وصیت سے پہلے ہو گی جبکہ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے ہے اور یہ کہ اخیافی بھائی تو وارث ہوں گے لیکن علاتی بھائی وارث نہ ہوں گے۔ (فائدہ: ماں شریک بھائی کو اخیافی اور باپ شریک بھائی کو علاتی کہتے ہیں۔) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 595]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف الحارث وهو الأعور
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف الحارث وهو الأعور
حدیث نمبر: 596 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أُعْطِيكُمْ، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَلَوَّى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ"، وَقَالَ مَرَّةً:" لَا أُخْدِمُكُمَا، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں تمہیں دیتا رہوں اور اہل صفہ کو چھوڑ دوں جن کے پیٹ بھوک کی وجہ سے اندر کو دھنس چکے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 596]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 597 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطْوَانِيُّ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَرْبٌ أَبُو سُفْيَانَ الْمِنْقَرِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَمِّي ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الله، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي حَرْبٌ أَبُو سُفْيَانَ الْمِنْقَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي الْمَسْعَى كَاشِفًا عَنْ ثَوْبِهِ، قَدْ بَلَغَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو انہوں نے مسعی میں صفا و مروہ کے درمیان اس حال میں سعی کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اوپر کی چادر جسم سے ہٹ کر گھٹنوں تک پہنچ گئی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 597]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 598 مسند احمد
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ ، أَبِي أُمَامَةَ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْتَأْذِنُ،" فَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ مجھے اندر آنے کی اجازت ہے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت نماز نہ پڑھ رہے ہوتے تو یوں ہی اجازت دے دیتے (اور سبحان اللہ کہنے کی ضرورت نہ رہتی)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 598]
حکم دارالسلام
إسناده مسلسل بالضعفاء
الحكم: إسناده مسلسل بالضعفاء
حدیث نمبر: 599 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُطَرِّفٍ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَلِيًّا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِلَّا فَهْمٌ يُؤْتِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ، أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ:" الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ سے قرآن کے علاوہ بھی آپ کو کچھ ملا ہے؟ فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جانداروں کو تندرستی بخشی، سوائے اس سمجھ اور فہم و فراست کے جو اللہ تعالیٰ کسی شخص کو فہم قرآن کے حوالے سے عطاء فرما دے یا وہ چیز جو اس صحیفہ میں ہے اور کچھ نہیں ملا، میں نے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت کے احکام، قیدیوں کو چھوڑنے کے مسائل اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 599]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6903
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6903
حدیث نمبر: 600 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا"، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، قُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّيَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ الْكِتَابَ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَخَذْنَا الْكِتَابَ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَاطِبُ، مَا هَذَا؟"، قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي، وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا، وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ"، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ روانہ ہو جاؤ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہو گا تم اس سے وہ خط لے کر واپس آ جانا، چنانچہ ہم لوگ روانہ ہو گئے، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی، ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہم نے اس سے کہا کہ یا تو، تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کر دیں گے۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس خط کو جب کھول کر دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ وہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے کچھ مشرکین مکہ کے نام تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک فیصلے کی خبر دی گئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے معاملے میں جلدی نہ کیجئے گا، میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا، البتہ ان میں شامل ہو گیا ہوں، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے، اس لئے ان پر ایک احسان کر دوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں، میں نے یہ کام کافر ہو کر، یا مرتد ہو کر، یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے نہیں کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے تم سے سچ بیان کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا: مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا: تم جو کچھ کرتے رہو میں تمہیں معاف کرچکا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3007، م : 2494
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3007، م : 2494
حدیث نمبر: 601 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ ، يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، مُوسَى بْنِ سَالِمٍ أَبِي جَهْضَمٍ ، أَبَا جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ أَبِي جَهْضَمٍ ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي عَنْ ثَلَاثَةٍ، قَالَ: فَمَا أَدْرِي لَهُ خَاصَّةً، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً:" نَهَانِي عَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا ہے، اب مجھے معلوم نہیں کہ ان کی ممانعت خصوصیت کے ساتھ میرے لئے ہے یا سب کے لئے عام ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 601]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناده ضعيف، عطاء بن السائب قد اختلط هو منقطع، فإن على بن الحسين والد أبى جعفر الباقر لم يدرك جده على بن أبى طالب
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناده ضعيف، عطاء بن السائب قد اختلط هو منقطع، فإن على بن الحسين والد أبى جعفر الباقر لم يدرك جده على بن أبى طالب