بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 20 از 41
حدیث نمبر: 942 مسند احمد
عبد الله ، أبي ، هُشَيْمٌ ، وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، هُشَيْمٍ ، حُصَيْنٌ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الله : حدثني أبي ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٍ ، أخبرنا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ بِمَوْلَاةٍ لِسَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ مُحْصَنَةٍ قَدْ فَجَرَتْ، قَالَ: فَضَرَبَهَا مِائَةً ثُمَّ رَجَمَهَا، ثُمَّ قَالَ:" جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سعید بن قیس کی ایک شادی شدہ باندی کو لایا گیا جس نے بدکاری کی تھی، انہوں نے اسے سو کوڑے مارے اور پھر اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا: میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے، اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 942]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 943 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، السُّدِّيِّ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ، فَتَمَسَّحَ بِهِ تَمَسُّحًا، وَمَسَحَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَسَحَ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ"، رَأَيْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَشْرَبَ قَائِمًا؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرنے کے لئے پانی منگوایا، پانی سے ہاتھ تر کئے اور اپنے پاؤں کے اوپر والے حصے پر انہیں پھیر لیا، اور فرمایا کہ یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسح علی الخفین میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں یہی رائے دیتا کہ پاؤں کا نچلا حصہ مسح کا زیادہ مستحق ہے، پھر آپ نے وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور فرمایا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی کھڑے ہو کر پانی پینا جائز نہیں ہے؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 943]
حکم دارالسلام
حديث حسن، شريك - وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
الحكم: حديث حسن، شريك - وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 944 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ بنت السدي ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ بنت السدي ، قَالَوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَال: كَانَ" عَظِيمَ الْهَامَةِ، أَبْيَضَ، مُشْرَبًا بِحُمْرَةٍ، عَظِيمَ اللِّحْيَةِ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ، كَثِيرَ شَعَرِ الرَّأْسِ رَجِلَهُ، يَتَكَفَّأُ فِي مِشْيَتِهِ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ، لَا طَوِيلٌ، وَلَا قَصِيرٌ، لَمْ أَرَ مِثْلَهُ لَا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ فِي حَدِيثِهِ: وَوَصَفَ لَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَانَ ضَخْمَ الْهَامَةِ، حَسَنَ الشَّعَرِ رَجِلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر مبارک بڑا، رنگ سرخی مائل سفید اور داڑھی گھنی تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، سر کے بال گھنے اور ہلکے گھنگھریالے تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 944]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، شريك النخعي قد توبع
الحكم: حسن لغيره، شريك النخعي قد توبع
حدیث نمبر: 945 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ ، سُفْيَانَ ، خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 945]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 946 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، أَوْ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ، عَظِيمَ الرَّأْسِ رَجِلَهُ، عَظِيمَ اللِّحْيَةِ، مُشْرَبًا حُمْرَةً، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ، عَظِيمَ الْكَرَادِيسِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَهْبِطُ فِي صَبَبٍ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا، بال ہلکے گھنگھریالے اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 946]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، ابن جريج مدلس وقد عنعنه، وصالح بن سعيد روي عنه جمع، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقد توبعا
الحكم: حسن لغيره، ابن جريج مدلس وقد عنعنه، وصالح بن سعيد روي عنه جمع، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقد توبعا
حدیث نمبر: 947 مسند احمد
أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، حَجَّاجٍ ، عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمَكِّيِّ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ، مُشْرَبًا لَوْنُهُ حُمْرَةً، حَسَنَ الشَّعَرِ رَجِلَهُ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ، ضَخْمَ الْهَامَةِ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ مِنْ صَبَبٍ، لَمْ أَرَ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 947]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وانظر ما قبله
الحكم: حسن لغيره، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 948 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا، فَاجْتَوَيْنَاهَا وَأَصَابَنَا بِهَا وَعْكٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا، سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، وَبَدْرٌ بِئْرٌ، فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا، فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ: رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ، وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ فَأَخَذْنَاهُ، فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ: كَمْ الْقَوْمُ؟ فَيَقُولُ: هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذْا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ، حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" كَمْ الْقَوْمُ؟"، قَالَ: هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ، فَجَهَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُ كَمْ هُمْ، فَأَبَى، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ:" كَمْ يَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ؟"، فَقَالَ: عَشْرًا كُلَّ يَوْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقَوْمُ أَلْفٌ، كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَتَبِعَهَا"، ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّيْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ، فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنَ الْمَطَرِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ"، قَالَ: فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى:" الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ"، فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَرَّضَ عَلَى الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلَعِ الْحَمْرَاءِ مِنَ الْجَبَلِ"، فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاهُمْ، إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ نَادِ لِي حَمْزَةَ، وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ؟"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ"، فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ: هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ يَنْهَى عَنِ الْقِتَالِ، وَيَقُولُ لَهُمْ: يَا قَوْمُ، إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ، يَا قَوْمُ، اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي، وَقُولُوا: جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: أَنْتَ تَقُولُ هَذَا؟ وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ هَذَا لَأَعْضَضْتُهُ، قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا، فَقَالَ عُتْبَةُ: إِيَّايَ تُعَيِّرُ يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ؟ سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ، قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ شَيْبَةُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً، فَقَالُوا: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ، فَقَالَ عُتْبَةُ لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ، وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا عَلِيُّ، وَقُمْ يَا حَمْزَةُ، وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ"، فَقَتَلَ اللَّهُ تَعَالَى عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ، فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ، وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي، لَقَدْ أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ، مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، مَا أُرَاهُ فِي الْقَوْمِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" اسْكُتْ، فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ تَعَالَى بِمَلَكٍ كَرِيمٍ"، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: الْعَبَّاسَ، وعَقِيلًا، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے اور ہم نے یہاں کے پھل کھائے تو ہمیں پیٹ کی بیماری لاحق ہو گئی، جس سے بڑھتے بڑھتے ہم شدید قسم کے بخار میں مبتلا ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدر کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں معلوم ہوا کہ مشرکین مقام بدر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بدر کی طرف روانہ ہو گئے، جو کہ ایک کنوئیں کا نام تھا، ہم مشرکین سے پہلے وہاں پہنچ گئے، وہاں ہمیں دو آدمی ملے، ایک قریش کا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام، قریشی تو ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گیا اور عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ ان کے لشکر کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا: واللہ! ان کی تعداد بہت زیادہ اور ان کا سامان حرب بہت مضبوط ہے، جب اس نے یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کر دیا، اور مارتے مارتے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس سے مشرکین مکہ کی تعداد پوچھی، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے ان کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اس نے بتانے سے انکار کر دیا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: روزانہ دس اونٹ ذبح کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی وقت فرمایا: ان کی تعداد ایک ہزار ہے، کیونکہ ایک اونٹ کم از کم سو آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔ رات ہوئی تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی، ہم بارش سے بچنے کے لئے درختوں اور ڈھالوں کے نیچے چلے گئے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی حالت میں ساری رات اپنے پروردگار سے یہ دعا کرتے رہے: «اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ» اے اللہ! اگر یہ گروہ ختم ہو گیا تو آپ کی عبادت نہیں ہو سکے گی۔ بہرحال! طلوع فجر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نداء کروائی کہ اللہ کے بندو! نماز تیار ہے، لوگوں نے درختوں اور سائبانوں کو چھوڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد جہاد کی ترغیب دینے لگے، پھر فرمایا کہ قریش کا لشکر اس پہاڑ کی سرخ ڈھلوان میں ہے۔ جب لشکر قریش ہمارے قریب آگیا اور ہم نے بھی صف بندی کر لی، تو اچانک ان میں سے ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر نکلا اور اپنے لشکر میں چکر لگانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: علی! حمزہ سے پکار کر کہو - جو کہ مشرکین مکہ کے سب سے زیادہ قریب تھے - یہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لشکر قریش میں کوئی آدمی بھلائی کا حکم دے سکتا ہے تو وہ یہ سرخ اونٹ پر سوار ہی ہو سکتا ہے۔ اتنی دیر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ آگئے اور فرمانے لگے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو کہ لوگوں کو جنگ سے روک رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے میری قوم! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو ڈھیلے پڑ چکے ہیں، اگر تم میں ذرا سی بھی صلاحیت ہو تو یہ تم تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، اے میری قوم! آج کے دن میرے سر پر پٹی باندھ دو اور کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہو گیا حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں۔ ابوجہل نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگا کہ یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ واللہ! اگر یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی تو میں اس سے کہتا کہ جا کر اپنے باپ کی شرمگاہ چوس (گالی دیتا)، تمہارے پھیپھڑوں نے تمہارے پیٹ میں رعب بھر دیا ہے، عتبہ کہنے لگا کہ او پیلے سرین والے! تو مجھے عار دلاتا ہے، آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ اس کے بعد جوش میں آکر عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید میدان جنگ میں نکل کر مبارز طلبی کرنے لگے، ان کے مقابلے میں چھ انصاری نوجوان نکلے، عتبہ کہنے لگا کہ ہم ان سے نہیں لڑنا چاہتے، ہمارے مقابلے میں ہمارے بنو عم نکلیں جن کا تعلق بنو عبدالمطلب سے ہو، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی، سیدنا حمزہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث بن مطلب رضی اللہ عنہم کو اٹھنے اور مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس مقابلے میں عتبہ، شیبہ اور ولید تینوں مارے گئے اور مسلمانوں میں سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے۔ اس طرح ہم نے ان کے ستر آدمی مارے اور ستر ہی کو قیدی بنا لیا، اسی اثناء میں ایک چھوٹے قد کا انصاری نو جوان عباس بن عبدالمطلب کو - جو بعد میں صحابی بنے - قیدی بنا کر لے آیا، عباس کہنے لگے: یا رسول اللہ! واللہ اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا، مجھے تو اس شخص نے قید کیا ہے جس کے سر کے دونوں جانب بال نہ تھے، وہ بڑا خوبصورت چہرہ رکھتا تھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا، جو مجھے اب آپ لوگوں میں نظر نہیں آ رہا، اس پر انصاری نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں میں نے ہی گرفتار کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خاموشی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک معزز فرشتے کے ذریعے اللہ نے تمہاری مدد کی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عبدالمطلب میں سے ہم نے عباس، عقیل اور فوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 949 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يَلْزَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِالْمَسْحِ عَلَى خِفَافِنَا إِذَا سَافَرْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی مرد صحابی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب سفر پر جائیں تو اپنے موزوں پر مسح کر لیا کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 949]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 276، شريك النخعي قد توبع
الحكم: صحيح لغيره، م: 276، شريك النخعي قد توبع
حدیث نمبر: 950 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، قَالَا: نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ: مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ، قَالَ: فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ، وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سِتَّةٌ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ:" أَلَيْسَ اللَّهُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ؟"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن وہب اور زید بن یثیع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس شخص نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا میرے حوالے سے کوئی ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، اس پر سعید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے اور زید کی رائے کے مطابق بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے، اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غدیر خم کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں ہے؟ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: اے اللہ! جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 950]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، شريك قد توبع
الحكم: صحيح لغيره، شريك قد توبع
حدیث نمبر: 951 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرٍو ذِي مُرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ، يَعْنِي عَنْ سَعِيدٍ وَزَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ:" وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے، جس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو انہیں تنہا چھوڑ دے تو اسے تنہا فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 951]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمرو ذي مر، وأبو إسحاق قد تغير
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمرو ذي مر، وأبو إسحاق قد تغير
حدیث نمبر: 952 مسند احمد
عَلِيٌّ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أخبرنا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 952]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، شريك سيء الحفظ، وحبيب بن أبى ثابت مدلس وقد عنعن، لكن قد توبعا
الحكم: صحيح لغيره، شريك سيء الحفظ، وحبيب بن أبى ثابت مدلس وقد عنعن، لكن قد توبعا
حدیث نمبر: 953 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ جاء رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟"، قُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا قَالَ:" بَلْ هُوَ حَسَنٌ"، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ، قَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟"، قُلْتُ: سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ"، فَلَمَّا وَلَدْتُ الثَّالِثَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟"، قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ"، ثُمَّ قَالَ:" سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ: شَبَّرُ وَشَبِيرُ وَمُشَبِّرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حسن کی پیدائش ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: حرب۔ فرمایا: نہیں، اس کا نام حسن ہے۔ پھر جب حسین پیدا ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے پھر عرض کیا: حرب۔ فرمایا: نہیں، اس کا نام حسین ہے۔ تیسرے بیٹے کی پیدائش پر بھی اسی طرح ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نام بدل کر محسن رکھ دیا، پھر فرمایا: میں نے ان بچوں کے نام حضرت ہارون علیہ السلام کے بچوں کے نام پر رکھے ہیں، جن کے نام شبر، شبیر اور مشبر تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 953]
حکم دارالسلام
ضعفه الشيخ الألباني فى الضعيفة : 3706، هانئ بن هانئ مجهول
الحكم: ضعفه الشيخ الألباني فى الضعيفة : 3706، هانئ بن هانئ مجهول
حدیث نمبر: 954 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً، إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری اس تلوار کے نیام میں ایک چیز ہے، یہ کہہ کر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج چوری کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1978
الحكم: إسناده صحيح، م: 1978
حدیث نمبر: 955 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ: أخبرنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَنَّهُ عَادَ حَسَنًا، وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يا عَمْرو، أَتَعُودُ حَسَنًا، وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي فَتَصْرِفَهُ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ أَيَّ سَاعَةٍ مِنَ النَّهَارِ كَانَتْ حَتَّى يُمْسِيَ، وَأَيَّ سَاعَةٍ مِنَ اللَّيْلِ كَانَتْ حَتَّى يُصْبِحَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمرو بن حریث سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: یوں تو آپ حسن کی بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں اور اپنے دل میں جو کچھ چھپا رکھا ہے اس کا کیا ہوگا؟ عمرو نے کہا کہ آپ میرے رب نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں میرے دل میں تصرف کرنا شروع کر دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن اس کے باوجود ہم تم سے نصیحت کی بات کہنے سے نہیں رکیں گے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے کسی بھائی کی عیادت کے لیے جاتا ہے، اللہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک دن کے ہر لمحے میں اس کے لئے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور اگر شام کو گیا ہو تو صبح تک رات کی ہر گھڑی اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 955]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يسار
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يسار
حدیث نمبر: 956 مسند احمد
بَهْزٌ ، عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ، أَوْ قَالَ: الْمَجْنُونِ، حَتَّى يَعْقِلَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَشِبَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں: (1) سویا ہوا شخص، جب تک بیدار نہ ہوجائے، (2) مجنون، جب تک اس کی عقل نہ لوٹ آئے، (3) بچہ، جب تک بالغ نہ ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 956]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، الحسن البصري لم يسمع من علي
الحكم: صحيح لغيره، الحسن البصري لم يسمع من علي
حدیث نمبر: 957 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ بَهْزٌ: قَالَ:، أخبرنا هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ وَلَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.» اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، تیری درگزر کے ذریعے تیری سزا سے، اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 957]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 958 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بِشْرٍ ، مُجَاهِدًا ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ حَرِيرٍ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کر لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں دوپٹے کے طور پر تقسیم کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 958]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وإسناده حسن، خ: 2614، م: 2071
الحكم: صحيح لغيره، وإسناده حسن، خ: 2614، م: 2071
حدیث نمبر: 959 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ: إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ، أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ، إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، قَالَ: فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: فَإِذَا فِيهَا:" مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ"، قَالَ: وَإِذَا فِيهَا:" إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ، حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهُ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا، إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا، وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ، وَلَا يُحْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ"، قَالَ: وَإِذَا فِيهَا:" الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی حکم دیتے اور لوگ آکر کہتے کہ ہم نے اس اس طرح کر لیا تو وہ کہتے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ ایک دن اشتر نامی ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ جو یہ جملہ کہتے ہیں، لوگوں میں بہت پھیل چکا ہے، کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو وصیت کی ہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ مجھے کوئی وصیت نہیں فرمائی، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہ ایک صحیفہ میں لکھ کر اپنی تلوار کے میان میں رکھ لیا ہے۔ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے وہ صحیفہ دکھانے پر اصرار کیا، انہوں نے وہ نکالا تو اس میں لکھا تھا کہ جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرے، یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہ ہوگا۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کونوں کے درمیان کی جگہ قابل احترام ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے، اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ وہ شخص اٹھا سکتا ہے جو مالک کو اس کا پتہ بتا دے، یہاں کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے البتہ اگر کوئی آدمی اپنے جانور کو چارہ کھلائے تو بات جدا ہے، اور یہاں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ مسلمانوں کی جانیں آپس میں برابر ہیں، ان میں سے اگر کوئی ادنیٰ بھی کسی کو امان دے دے تو اس کی امان کا لحاظ کیا جائے، اور مسلمان اپنے علاوہ لوگوں پر ید واحد کی طرح ہیں، خبردار! کسی کافر کے بدلے میں کسی مسلمان کو قتل نہ کیا جائے، اور نہ ہی کسی ذمی کو اس وقت تک قتل کیا جائے جب تک کہ وہ معاہدے کی مدت میں ہو اور اس کی شرائط پر برقرار ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 959]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، أبو حسان الأعرج روايته عن على مرسلة
الحكم: صحيح لغيره، أبو حسان الأعرج روايته عن على مرسلة
حدیث نمبر: 960 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.» اے اللہ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا تابع فرمان ہوا، تو ہی میرا رب ہے، میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے تیرے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور میرے قدم بھی اللہ رب العالمین کی خاطر جھکے ہوئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 771
الحكم: إسناده صحيح، م: 771
حدیث نمبر: 961 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّحَبَةِ يَنْشُدُ النَّاسَ: أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"، لَمَّا قَامَ فَشَهِدَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَحَدِهِمْ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ:" أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمسلمين مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَأَزْوَاجِي أُمَّهَاتُهُمْ؟"، فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو قسم دے کر فرمایا کہ جس نے غدیر خم کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے، کہ میں جس کا مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔ اس پر بارہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہو گئے اور ان سب نے اس بات کی گواہی دی کہ ہم سب نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غدیر خم کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ کیا اللہ کو مومنین پر کوئی حق نہیں؟ سب نے عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ ہیں، اے اللہ! جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 961]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد