بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 948
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 948
حَجَّاجٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا، فَاجْتَوَيْنَاهَا وَأَصَابَنَا بِهَا وَعْكٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا، سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، وَبَدْرٌ بِئْرٌ، فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا، فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ: رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ، وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ، وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ فَأَخَذْنَاهُ، فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ: كَمْ الْقَوْمُ؟ فَيَقُولُ: هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذْا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ، حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" كَمْ الْقَوْمُ؟"، قَالَ: هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ، فَجَهَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُ كَمْ هُمْ، فَأَبَى، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ:" كَمْ يَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ؟"، فَقَالَ: عَشْرًا كُلَّ يَوْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقَوْمُ أَلْفٌ، كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَتَبِعَهَا"، ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّيْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ، فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنَ الْمَطَرِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ"، قَالَ: فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى:" الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ"، فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَرَّضَ عَلَى الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلَعِ الْحَمْرَاءِ مِنَ الْجَبَلِ"، فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاهُمْ، إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ نَادِ لِي حَمْزَةَ، وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ؟"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ"، فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ: هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ يَنْهَى عَنِ الْقِتَالِ، وَيَقُولُ لَهُمْ: يَا قَوْمُ، إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ، يَا قَوْمُ، اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي، وَقُولُوا: جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: أَنْتَ تَقُولُ هَذَا؟ وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ هَذَا لَأَعْضَضْتُهُ، قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا، فَقَالَ عُتْبَةُ: إِيَّايَ تُعَيِّرُ يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ؟ سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ، قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ شَيْبَةُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً، فَقَالُوا: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ، فَقَالَ عُتْبَةُ لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ، وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا، مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا عَلِيُّ، وَقُمْ يَا حَمْزَةُ، وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ"، فَقَتَلَ اللَّهُ تَعَالَى عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ، فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ، وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي، لَقَدْ أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ، مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا، عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ، مَا أُرَاهُ فِي الْقَوْمِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" اسْكُتْ، فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ تَعَالَى بِمَلَكٍ كَرِيمٍ"، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: الْعَبَّاسَ، وعَقِيلًا، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے اور ہم نے یہاں کے پھل کھائے تو ہمیں پیٹ کی بیماری لاحق ہو گئی، جس سے بڑھتے بڑھتے ہم شدید قسم کے بخار میں مبتلا ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدر کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں معلوم ہوا کہ مشرکین مقام بدر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بدر کی طرف روانہ ہو گئے، جو کہ ایک کنوئیں کا نام تھا، ہم مشرکین سے پہلے وہاں پہنچ گئے، وہاں ہمیں دو آدمی ملے، ایک قریش کا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام، قریشی تو ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گیا اور عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ ان کے لشکر کی تعداد کتنی ہے؟ اس نے کہا: واللہ! ان کی تعداد بہت زیادہ اور ان کا سامان حرب بہت مضبوط ہے، جب اس نے یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کر دیا، اور مارتے مارتے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس سے مشرکین مکہ کی تعداد پوچھی، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے ان کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی پوری کوشش کی لیکن اس نے بتانے سے انکار کر دیا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ وہ لوگ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: روزانہ دس اونٹ ذبح کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی وقت فرمایا: ان کی تعداد ایک ہزار ہے، کیونکہ ایک اونٹ کم از کم سو آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔ رات ہوئی تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی، ہم بارش سے بچنے کے لئے درختوں اور ڈھالوں کے نیچے چلے گئے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی حالت میں ساری رات اپنے پروردگار سے یہ دعا کرتے رہے: «اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ» اے اللہ! اگر یہ گروہ ختم ہو گیا تو آپ کی عبادت نہیں ہو سکے گی۔ بہرحال! طلوع فجر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نداء کروائی کہ اللہ کے بندو! نماز تیار ہے، لوگوں نے درختوں اور سائبانوں کو چھوڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد جہاد کی ترغیب دینے لگے، پھر فرمایا کہ قریش کا لشکر اس پہاڑ کی سرخ ڈھلوان میں ہے۔ جب لشکر قریش ہمارے قریب آگیا اور ہم نے بھی صف بندی کر لی، تو اچانک ان میں سے ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر نکلا اور اپنے لشکر میں چکر لگانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: علی! حمزہ سے پکار کر کہو - جو کہ مشرکین مکہ کے سب سے زیادہ قریب تھے - یہ سرخ اونٹ والا کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لشکر قریش میں کوئی آدمی بھلائی کا حکم دے سکتا ہے تو وہ یہ سرخ اونٹ پر سوار ہی ہو سکتا ہے۔ اتنی دیر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ آگئے اور فرمانے لگے کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو کہ لوگوں کو جنگ سے روک رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے میری قوم! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو ڈھیلے پڑ چکے ہیں، اگر تم میں ذرا سی بھی صلاحیت ہو تو یہ تم تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے، اے میری قوم! آج کے دن میرے سر پر پٹی باندھ دو اور کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہو گیا حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں۔ ابوجہل نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگا کہ یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ واللہ! اگر یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی تو میں اس سے کہتا کہ جا کر اپنے باپ کی شرمگاہ چوس (گالی دیتا)، تمہارے پھیپھڑوں نے تمہارے پیٹ میں رعب بھر دیا ہے، عتبہ کہنے لگا کہ او پیلے سرین والے! تو مجھے عار دلاتا ہے، آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ اس کے بعد جوش میں آکر عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید میدان جنگ میں نکل کر مبارز طلبی کرنے لگے، ان کے مقابلے میں چھ انصاری نوجوان نکلے، عتبہ کہنے لگا کہ ہم ان سے نہیں لڑنا چاہتے، ہمارے مقابلے میں ہمارے بنو عم نکلیں جن کا تعلق بنو عبدالمطلب سے ہو، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی، سیدنا حمزہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث بن مطلب رضی اللہ عنہم کو اٹھنے اور مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس مقابلے میں عتبہ، شیبہ اور ولید تینوں مارے گئے اور مسلمانوں میں سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے۔ اس طرح ہم نے ان کے ستر آدمی مارے اور ستر ہی کو قیدی بنا لیا، اسی اثناء میں ایک چھوٹے قد کا انصاری نو جوان عباس بن عبدالمطلب کو - جو بعد میں صحابی بنے - قیدی بنا کر لے آیا، عباس کہنے لگے: یا رسول اللہ! واللہ اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا، مجھے تو اس شخص نے قید کیا ہے جس کے سر کے دونوں جانب بال نہ تھے، وہ بڑا خوبصورت چہرہ رکھتا تھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا، جو مجھے اب آپ لوگوں میں نظر نہیں آ رہا، اس پر انصاری نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں میں نے ہی گرفتار کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خاموشی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک معزز فرشتے کے ذریعے اللہ نے تمہاری مدد کی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عبدالمطلب میں سے ہم نے عباس، عقیل اور فوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (947) باب پر واپس اگلی حدیث (949) →