بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 26 از 41
حدیث نمبر: 1062 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ تم سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے، اور تم سے محبت کوئی مومن ہی کر سکتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 78
الحكم: إسناده صحيح، م: 78
حدیث نمبر: 1063 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ ، أَنَّ قَوْمًا بِالْيَمَنِ حَفَرُوا زُبْيَةً لِأَسَدٍ، فَوَقَعَ فِيهَا، فَتَكَابَّ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَوَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ، ثُمَّ تَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ، حَتَّى كَانُوا فِيهَا أَرْبَعَةً، فَتَنَازَعَ فِي ذَلِكَ حَتَّى أَخَذَ السِّلَاحَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ، فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَتَقْتُلُونَ مِائَتَيْنِ فِي أَرْبَعَةٍ؟ وَلَكِنْ سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ إِنْ رَضِيتُمُوهُ: لِلْأَوَّلِ رُبُعُ الدِّيَةِ، وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ، فَلَمْ يَرْضَوْا بِقَضَائِهِ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ"، قَالَ: فَأُخْبِرَ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَجَازَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حنش کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک قوم نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا، شیر اس میں گر پڑا، اچانک ایک آدمی بھی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے۔ (اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، چنانچہ شیر ہلاک ہو گیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے)۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، اتنی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کہنے لگے: کیا تم چار آدمیوں کے بدلے دو سو آدمیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہو گیا۔ فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو، اور چوتھے کو مکمل دیت دے دو، دوسرے کو ایک تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو۔ ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا)۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا: یا رسول اللہ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1063]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حنش
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حنش
حدیث نمبر: 1064 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي الْهَيَّاجِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ ، َقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي الْهَيَّاجِ: أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ" لَا تَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ، وَلَا تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق ابوالہیاج کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1064]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 969
الحكم: إسناده صحيح، م: 969
حدیث نمبر: 1065 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، زُبَيْدٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1065]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4340 ، م : 1840
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4340 ، م : 1840
حدیث نمبر: 1066 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" عَضَبِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ"، قَالَ: فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ مَا الْعَضَبُ؟ فَقَالَ: النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1066]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1067 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ يَنْكُتُ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ، فَقَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، إِلَّا قَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً"، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى الشِّقْوَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشِّقْوَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ الشِّقْوَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يُيَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ کسی جنازے کے ساتھ بقیع میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے گرد بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ - خواہ جنت ہو یا جہنم - اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے، اور یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ شقی ہے یا سعید؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پھر ہم اپنی کتاب پر بھروسہ کر کے عمل کو چھوڑ نہ دیں؟ کیونکہ جو اہل سعادت میں سے ہو گا وہ سعادت حاصل کر لے گا، اور جو اہل شقاوت میں سے ہو گا وہ شقاوت پا لے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ [الليل: 5-7] » جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کی تو یقینا ہم آسان راستے کے اسباب پیدا کر دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1067]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1362، م: 2647
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1362، م: 2647
حدیث نمبر: 1068 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، مَنْصُورٌ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 1069 مسند احمد
أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، جَابِرٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَيَأْمُرُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود بھی یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا ترغیبی حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1069]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 1070 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَى عَيْنَيْهِ، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدًا بَيْنَ طَرَفَيْ شَعِيرَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1070]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى
حدیث نمبر: 1071 مسند احمد
أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ الْبَصْرِيُّ ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ الْبَصْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" مِنْهُ الْوُضُوءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسا شخص وضو کر لیا کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1072 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کی کنجی طہارت ہے، نماز میں حلال چیزوں کو حرام کرنے والی چیز تکبیر تحریمہ ہے، اور انہیں حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1072]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1073 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، مَنْصُورٍ ، هِلَالٍ ، وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1073]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1074 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، السُّدِّيُّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: مَوْلَى قُرَيْشٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السُّدِّيُّ ، وَقَالَ زَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: سَمِعْتُ السُّدِّيَّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ، قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ، وَلَا تُحْدِثْ مِنْ أَمْرِهِ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ، وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهِنَّ حُمْرُ النَّعَمِ وَسُودُهَا، وقَالَ ابْنُ بَكَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ السُّدِّيُّ: وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَلَ مَيِّتًا اغْتَسَلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ابوطالب کی وفات ہو گئی تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔ چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا: جا کر غسل کرو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔ چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کر لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1074]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 1075 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ تیار کر لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1075]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي، لكن متن الحديث صحيح متواتر، خ: 106، م: (في المقدمة): 1
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي، لكن متن الحديث صحيح متواتر، خ: 106، م: (في المقدمة): 1
حدیث نمبر: 1076 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَاصِمٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) قَالَ: حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ، إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَمَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَوْ بِغَيْرِهَا؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھو، ہاں! اگر سورج صاف ستھرا دکھائی دے رہا ہو تو جائز ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1076]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1077 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي عَوْنٍ ، أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَوْ ثَوْبَ حَرِيرٍ، قَالَ: فَأَعْطَانِيهِ، وَقَالَ:" شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ النِّسْوَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دومۃ الجندل - جو شام اور مدینہ کے درمیان ایک علاقہ ہے - کے بادشاہ اکیدر نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑا بطور ہدیہ کے بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے عطاء کر کے فرمایا: اس کے دوپٹے بنا کر عورتوں میں تقسیم کر دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2614، م: 2071
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2614، م: 2071
حدیث نمبر: 1078 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ ، عَلِيًّا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذَا، فَمَا يَنْتَظِرُ بِي الْأَشْقَى؟! قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ، قَالَ: إِذًا تَالَلَّهِ تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي، قَالُوا: فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَمَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ؟ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: إِذَا لَقِيتَهُ؟ قَالَ: أَقُولُ:" اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ، ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ، فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سبع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو کر رہے گی، وہ شقی جو مجھے قتل کرے گا نہ جانے کس چیز کا انتظار کر رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: امیر المومنین! ہمیں اس کا نام پتہ بتائیے، ہم اس کی نسل تک مٹا دیں گے، فرمایا: واللہ! اس طرح تو تم میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دو گے، لوگوں نے عرض کیا کہ پھر ہم پر اپنا نائب ہی مقرر کر دیجئے، فرمایا: نہیں، میں تمہیں اسی کیفیت پر چھوڑ کر جاؤں گا جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھوڑا تھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ پھر آپ جب اپنے رب سے ملیں گے تو اسے کیا جواب دیں گے (کہ آپ نے کسے خلیفہ مقرر کیا؟)، فرمایا: میں عرض کروں گا کہ اے اللہ! جب تک آپ کی مشیت ہوئی، آپ نے مجھے ان میں چھوڑے رکھا، پھر آپ نے مجھے اپنے پاس بلا لیا تب بھی آپ ان میں موجود تھے، اب اگر آپ چاہیں تو ان میں اصلاح رکھیں اور اگر آپ چاہیں تو ان میں پھوٹ ڈال دیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1078]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن سبع
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن سبع
حدیث نمبر: 1079 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ عَمَّارٌ فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ:" ائْذَنُوا لَهُ، مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اتنی دیر میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آ کر اجازت طلب کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو، خوش آمدید اس شخص کو جو پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کا حامل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1079]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 1080 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْيَا، وَالَّذِي هُوَ أَهْدَى، وَالَّذِي هُوَ أَتْقَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے بارے وہ گمان کرو جو راہ راست پر ہو، جو اس کے مناسب ہو اور جو تقوی پر مبنی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1080]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، إلا أنه مرسل، أبو البختري روايته عن على مرسلة، لكن السند الذى بعده موصول
الحكم: صحيح لغيره، إلا أنه مرسل، أبو البختري روايته عن على مرسلة، لكن السند الذى بعده موصول
حدیث نمبر: 1081 مسند احمد
عُثْمَانُ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1081]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح