بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 8 از 41
حدیث نمبر: 702 مسند احمد
عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ ، أَبِيهِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: عَادَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَعَائِدًا جِئْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَمْ زَائِرًا؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَا بَلْ عَائِدًا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا عَادَ مُسْلِمٌ مُسْلِمًا إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، مِنْ حِينَ يُصْبِحُ إِلَى أَنْ يُمْسِيَ، وَجَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ خَرِيفًا فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا الْخَرِيفُ؟ قَالَ: السَّاقِيَةُ الَّتِي تَسْقِي النَّخْلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عیادت کی نیت سے آئے ہو یا ملاقات کے لئے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ امیر المؤمنین! میں تو عیادت کی نیت سے آیا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے ایک خریف بنا دیتا ہے ہم نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین! خریف سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ نہر جس سے باغات سیراب ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 702]
حکم دارالسلام
حديث حسن. لكن الصحيح وقفه، وهذا إسناد ضعيف لضعف ثوير بن أبى فاختة
الحكم: حديث حسن. لكن الصحيح وقفه، وهذا إسناد ضعيف لضعف ثوير بن أبى فاختة
حدیث نمبر: 703 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، شَرِيكٌ ، عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَخبرنا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْ الْخَوَارِجِ، فِيهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ، فَقَالَ لَهُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ مَقْتُولٌ، ضَرْبَةٌ عَلَى هَذَا تَخْضِبُ هَذِهِ، يَعْنِي: لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ، عَهْدٌ مَعْهُودٌ، وَقَضَاءٌ مَقْضِيٌّ، وَقَدْ خَابَ مَنْ افْتَرَى، وَعَاتَبَهُ فِي لِبَاسِهِ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ وَلِلِّبَاسي، هُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْكِبْرِ، وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِيَ الْمُسْلِمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ کے خوارج کی ایک جماعت آئی، ان میں جعد بن بعجہ نامی ایک آدمی بھی تھا، وہ کہنے لگا کہ علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بھی ایک دن مرنا ہے، فرمایا: نہیں، بلکہ شہید ہونا ہے وہ ایک ضرب ہو گی جو سر پر لگے گی اور اس داڑھی کو رنگین کر جائے گی، یہ ایک طے شدہ معاملہ اور فیصلہ شدہ چیز ہے اور وہ شخص نقصان میں رہے گا جو جھوٹی باتیں گھڑے گا، پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لباس میں کچھ کیڑے نکالے تو فرمایا کہ تمہیں میرے لباس سے کیا غرض یہ تکبر سے دور اور اس قابل ہے کہ اس معاملے میں مسلمان میری پیروی کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 703]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، وهو ابن عبدالله النخعي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، وهو ابن عبدالله النخعي
حدیث نمبر: 704 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ ، أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ الْقُرَظِيُّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ ، قَالَ: قُلْتُ: لَآتِيَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ عَمَّا سَمِعْتُ الْعَشِيَّةَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ بَعْدَ الْعِشَاءِ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ أُمَّتَكَ مُخْتَلِفَةٌ بَعْدَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَيْنَ الْمَخْرَجُ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: فَقَالَ: كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى، بِهِ يَقْصِمُ اللَّهُ كُلَّ جَبَّارٍ، مَنْ اعْتَصَمَ بِهِ نَجَا، وَمَنْ تَرَكَهُ هَلَكَ، مَرَّتَيْنِ، قَوْلٌ فَصْلٌ، وَلَيْسَ بِالْهَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُهُ الْأَلْسُنُ، وَلَا تَفْنَى أَعَاجِيبُهُ، فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ، وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارث بن عبداللہ اعور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ آج رات ضرور امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضری دوں گا اور ان سے اس چیز کے متعلق ضرور سوال کروں گا جو میں نے ان سے کل سنی ہے چنانچہ میں عشاء کے بعد ان کے یہاں پہنچا، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے پاس جبرئیل آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! آپ کی امت آپ کے بعد اختلافات میں پڑ جائے گی، میں نے پوچھا: کہ جبرئیل! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: قرآن کریم، اسی کے ذریعے اللہ ہر ظالم کو تہس نہس کرے گا، جو اس سے مضبوطی کے ساتھ چمٹ جائے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہو جائے گا یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن ایک فیصلہ کن کلام ہے یہ کوئی ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے، زبانوں پر یہ پرانا نہیں ہوتا، اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے، اس میں پہلوں کی خبریں ہیں، درمیان کے فیصلے ہیں اور بعد میں پیش آنے والے حالات ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 704]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور، وانقطاع بين محمد بن إسحاق ومحمد بن كعب القرظي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور، وانقطاع بين محمد بن إسحاق ومحمد بن كعب القرظي
حدیث نمبر: 705 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنَ اللَّيْلِ، فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْنَا، فَأَيْقَظَنَا، وَقَالَ:" قُومَا فَصَلِّيَا"، قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنِي وَأَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ، وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ:" مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا! وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے اور ہمیں نماز کے لئے جگا کر خود اپنے کمرے میں جا کر نماز پڑھنے لگے، کافی دیر گزرنے کے بعد جب ہماری کوئی آہٹ نہ سنائی دی تو دوبارہ آ کر ہمیں جگایا اور فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، میں اپنی آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا اور عرض کیا ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لئے لکھ دی گئی ہے اور ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لئے لکھ دی گئی ہے انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 705]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، و إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، و إسناده حسن
حدیث نمبر: 706 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ أَبُو يُوسُفَ ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ أَبُو يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتْ الْخَوَارِجُ بِالنَّهْرَوَانِ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، وَهُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَيْكُمْ، وَإِنْ تَسِيرُوا إِلَى عَدُوِّكُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ يَخْلُفَكُمْ هَؤُلَاءِ فِي أَعْقَابِكُمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ" تَخْرُجُ خَارِجَةٌ مِنْ أُمَّتِي، لَيْسَ صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ، وَلَا قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ، يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ"، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهَا ذِرَاعٌ، عَلَيْهَا مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ بِيضٌ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ، لَاتَّكَلُوا عَلَى الْعَمَلِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب کہتے ہیں کہ جب نہروان میں خوارج نے خروج کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کے جانوروں کو لوٹا ہے اور یہ تمہارے سب سے قریب ترین دشمن ہیں اس لئے میری رائے یہ ہے کہ تم اپنے دشمنوں کی طرف کوچ کرو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ لوگ عقب سے تم پر نہ آ پڑیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک ایسا گروہ ظاہر ہو گا جس کی نمازوں کے سامنے تمہاری نمازوں کی کوئی حیثیت نہ ہو گی، جن کے روزوں کے سامنے تمہارے روزوں کی کوئی وقعت نہ ہو گی، جن کی تلاوت کے سامنے تمہاری تلاوت کچھ نہ ہو گی، وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہوں گے کہ اس پر انہیں ثواب ملے گا حالانکہ وہ ان کے لئے باعث عقاب ہو گا، کیونکہ وہ قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آر پار ہو جاتا ہے اور ان کی علامت یہ ہو گی کہ ان میں ایک ایسا آدمی بھی ہو گا جس کا بازو تو ہو گا لیکن کہنی نہ ہو گی، اس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی کی گھنڈی جیسا نشان ہو گا جس کے ارگرد سفید رنگ کے کچھ بالوں کا گچھا ہو گا اگر کسی ایسے لشکر کو جو ان پر حملہ آور ہو اس ثواب کا پتہ چل جائے جو ان کے پیغمبر کی زبانی ان سے کیا گیا ہے تو وہ صرف اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں اس لئے اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ، اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 706]
حکم دارالسلام
إسناده قوي. م: 1066
الحكم: إسناده قوي. م: 1066
حدیث نمبر: 707 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّا لَمَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِالْجُحْفَةِ، وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فِيهِمْ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيُّ، إِذْ قَالَ عُثْمَانُ وَذُكِرَ لَهُ التَّمَتُّعُ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ:" إِنَّ أَتَمَّ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَنْ لَا يَكُونَا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، فَلَوْ أَخَّرْتُمْ هَذِهِ الْعُمْرَةَ حَتَّى تَزُورُوا هَذَا الْبَيْتَ زَوْرَتَيْنِ كَانَ أَفْضَلَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ وَسَّعَ فِي الْخَيْرِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي يَعْلِفُ بَعِيرًا لَهُ، قَالَ: فَبَلَغَهُ الَّذِي قَالَ عُثْمَانُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَعَمَدْتَ إِلَى سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُخْصَةٍ رَخَّصَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا لِلْعِبَادِ فِي كِتَابِهِ، تُضَيِّقُ عَلَيْهِمْ فِيهَا، وَتَنْهَى عَنْهَا، وَقَدْ كَانَتْ لِذِي الْحَاجَةِ وَلِنَائِي الدَّارِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا، فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: وَهَلْ نَهَيْتُ عَنْهَا؟ إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنْهَا، إِنَّمَا كَانَ رَأْيًا أَشَرْتُ بِهِ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بخدا! ہم اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام جحفہ میں تھے جب کہ ان کے پاس اہل شام کا ایک وفد آیا تھا ان میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر چھڑا تو انہوں نے فرمایا: حج اور عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ ان دونوں کو اشہر حج میں اکٹھا نہ کیا جائے اگر تم اپنے عمرہ کو مؤخر کردو اور بیت اللہ کی دو مرتبہ زیارت کرو تو یہ زیادہ افضل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں وسعت اور کشادگی رکھی ہے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بطن وادی میں اپنے اونٹ کو چارہ کھلا رہے تھے، انہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ بات معلوم ہوئی تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک سنت کا اور اللہ کی اس رخصت کو جو اس نے قرآن میں اپنے بندوں کو دی ہے، لوگوں کو اس سے روک کر انہیں تنگی میں مبتلا کریں گے؟ حالانکہ ضرورت مند آدمی کے لئے اور اس شخص کے لئے جس کا گھر دور ہو، یہ حکم یعنی حج تمتع کا اب بھی باقی ہے۔ یہ کہہ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا (تاکہ لوگوں پر اس کا جواز واضح ہو جائے) اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے آ کر ان سے پوچھا کہ کیا میں نے حج تمتع سے منع کیا ہے؟ میں نے تو اس سے منع نہیں کیا، یہ تو ایک رائے تھی جس کا میں نے مشورہ دیا تھا، جو چاہے قبول کرے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 707]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 708 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الزُّرَقِيِّ ، أُمِّهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَاءِ، حِينَ وَقَفَ عَلَى شِعْبِ الْأَنْصَارِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِأَيَّامِ صِيَامٍ، إِنَّمَا هِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسعود بن حکم انصاری کی والدہ کہتی ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں اب بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہی ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہیں، حجۃ الوداع کے موقع پر وہ انصار کے ایک گروہ کے پاس رک رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ روزے کے ایام نہیں ہیں، یہ تو کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 708]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن
حدیث نمبر: 709 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ سَعْدٌ: ابْنِ الْهَادِ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ:" ارْمِ يَا سَعْدُ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی کسی کے لئے سوائے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا غزوہ احد کے دن آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کہ سعد تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 4059، م: 2411
الحكم: إسناده صحيح. خ: 4059، م: 2411
حدیث نمبر: 710 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَقُولُ: نَهَاكُمْ، عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَكَسَانِي حُلَّةً مِنْ سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَقَالَ:" يَا عَلِيُّ، إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِهَا إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَعْطَيْتُهَا نَاحِيَتَهَا، فَأَخَذَتْ بِهَا لِتَطْوِيَهَا مَعِي، فَشَقَّقْتُهَا بِثِنْتَيْنِ، قَالَ: فَقَالَتْ: تَرِبَتْ يَدَاكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، مَاذَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِهَا، فَالْبَسِي وَاكْسِي نِسَاءَكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں سونے کی انگوٹھی، ریشم یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع کیا ہے اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا:: میں اسے پہن کر نکلا تو فرمایا: علی! میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم خود اسے پہن لو، چنانچہ میں اسے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آ گیا اور اس کا ایک کنارہ ان کے ہاتھ میں پکڑایا تاکہ وہ میرے ساتھ زور لگا کر اسے کھینچیں، چنانچہ میں نے اس کے دو ٹکڑے کر دئیے، یہ دیکھ کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے، یہ آپ نے کیا کیا، میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یہ لباس پہننے سے منع فرمایا ہے اس لئے اب تم اپنے لئے اس کا لباس بنا لو اور گھر کی جو عورتیں ہیں انہیں بھی دے دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 710]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وانظر الشطر الأول فى م: 2078
الحكم: حديث صحيح، وانظر الشطر الأول فى م: 2078
حدیث نمبر: 711 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَّةِ: مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑی دی ہے اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہو گی، جس کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس پر ایک درہم واجب ہو گا، ایک سو نوے درہم تک کچھ واجب نہ ہو گا، لیکن جب ان کی تعداد دو سو تک پہنچ جائے تو اس پر پانچ درہم واجب ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 711]
حکم دارالسلام
صحيح، أبو عوانة وإن روي عن أبى إسحاق بعد تغيره، لكن قد تابعه غير واحد
الحكم: صحيح، أبو عوانة وإن روي عن أبى إسحاق بعد تغيره، لكن قد تابعه غير واحد
حدیث نمبر: 712 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ، مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کر لو تو تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں حالانکہ تمہارے گناہ معاف ہو چکے، یہ کلمات کہہ لیا کرو جن کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ حلیم و کریم ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بزرگ و برتر ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 712]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عبدالله بن سلمة قد توبع
الحكم: حديث حسن، عبدالله بن سلمة قد توبع
حدیث نمبر: 713 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، شَرِيكٌ ، عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، أَبِي تَحْيَى ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِي تَحْيَى ، قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجِمٍ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الضَّرْبَةَ، قَالَ عَلِيٌّ : افْعَلُوا بِهِ كَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَهُ، فَقَالَ:" اقْتُلُوهُ، ثُمَّ حَرِّقُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابویحییٰ کہتے ہیں کہ جب ابن ملجم نامی ایک بدنصیب اور شقی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کرو جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا جس نے انہیں شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا، پھر فرمایا کہ اسے قتل کر کے اس کی لاش نذر آتش کر دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 713]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، وهو ابن عبدالله النخعي- وعمران بن ظبيان
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، وهو ابن عبدالله النخعي- وعمران بن ظبيان
حدیث نمبر: 714 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، مَنْصُورٍ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ"، وَاللَّهِ إِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں، یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 714]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، عبدالله بن سلمة قد توبع
الحكم: إسناده قوي، عبدالله بن سلمة قد توبع
حدیث نمبر: 715 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لِيفٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 715]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 716 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ ، وَالْمُجَالِدُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، وَالْمُجَالِدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يُحَدِّثُ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ رَجَمَ الْمَرْأَةَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، ضَرَبَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ:" أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی، جمعرات کے دن اسے کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا کہ میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 716]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رجاله ثقات من طريق سلمة ، وأما مجالد فضعيف، روي له مسلم مقرونة، وأصحاب السنن. وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
الحكم: حديث صحيح، رجاله ثقات من طريق سلمة ، وأما مجالد فضعيف، روي له مسلم مقرونة، وأصحاب السنن. وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
حدیث نمبر: 717 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فُلَانِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فُلَانِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ" كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ، وَكَبَّرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرض نماز کی تکبیر ہونے کے بعد اللہ اکبر کہتے، کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے، قرأت مکمل ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں جانے لگتے تب بھی اسی طرح کرتے، رکوع سے سر اٹھا کر بھی اسی طرح کرتے، بیٹھے ہونے کی صورت میں کسی رکن کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رفع یدین نہ فرماتے تھے، البتہ جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کر کے تکبیر کہتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 717]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 718 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، مَنْصُورٍ ، الْمِنْهَالِ ، نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أخبرنا وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ الْقَائِلُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ"، وَإِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الْمِائَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 718]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 719 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، مَوْلَى امْرَأَتِهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أخبرنا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ مَوْلَى امْرَأَتِهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُرَبِّثُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ، وَمَعَهُمْ الرَّايَاتُ، وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ: السَّابِقَ، وَالْمُصَلِّيَ، وَالَّذِي يَلِيهِ، حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ، فَأَنْصَتَ، واسْتَمَعَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَأَى عَنْهُ، فَاسْتَمَعَ، وَأَنْصَتَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ، فَلَغَا، وَلَمْ يُنْصِتْ، وَلَمْ يَسْتَمِعْ، كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ، وَمَنْ نَأَى عَنْهُ، فَلَغَا، وَلَمْ يُنْصِتْ، وَلَمْ يَسْتَمِعْ، كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنَ الْوِزْرِ، وَمَنْ قَالَ: صَهٍ، فَقَدْ تَكَلَّمَ، وَمَنْ تَكَلَّمَ، فَلَا جُمُعَةَ لَهُ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل پڑتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں میں روکنے کی کوششیں کرتے ہیں ان کے ساتھ کچھ جھنڈے بھی ہوتے ہیں دوسری طرف فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے لئے ان کے مراتب کے مطابق ثواب لکھتے ہیں، پہلے کا، دوسرے کا، اس کے بعد آنے والے کا، یہاں تک کہ امام نکل آئے، سو جو شخص امام کے قریب ہو، خاموشی سے بیٹھ کر توجہ سے اس کی بات سنے، کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لی دہرا اجر ہے اور جو شخص امام سے دور ہو لیکن پھر بھی خاموش بیٹھ کر توجہ سے سننے میں مشغول رہے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے لئے اکہرا اجر ہے اور جو شخص امام کے قریب بیٹھ کر بیکار کاموں میں لگا رہے، خاموشی سے بیٹھے اور نہ ہی توجہ سے اس کی بات سنے تو اسے اکہرا گناہ ہو گا اور جو شخص کسی کو خاموش کرانے کے لئے سی کی آواز نکالے تو اس نے بھی بات کی اور جس شخص نے بات کی اسے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، پھر فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 719]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة مولي امرأة عطاء
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مولي امرأة عطاء
حدیث نمبر: 720 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسُ الضَّالَّةُ، فَلَا يُوجَدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی (جب تک میرے صحابہ مکمل طور پر دنیا سے رخصت نہ ہو جائیں) یہاں تک کہ میرے کسی ایک صحابی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا جیسے کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک صحابی بھی نہ مل سکے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 720]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 721 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَاحِبَ الرِّبَا، وَآكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَالْمُحَلِّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والے، سودی معاملات لکھنے والے، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والے، حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 721]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور