بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 718
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 718
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، مَنْصُورٍ ، الْمِنْهَالِ ، نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أخبرنا وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ الْقَائِلُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ عَامٍ وَعَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ"، وَإِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الْمِائَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن دجاجہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ ہی نے یہ بات فرمائی ہے کہ لوگوں پر سو سال نہیں گزریں گے کہ زمین پر کوئی آنکھ ایسی باقی نہ بچے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی سب لوگ مر جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ یہ ہے کہ آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ رہے گی جس کی پلکیں جھپکتی ہوں یعنی قیامت مراد نہیں ہے، بخدا! اس امت کو سو سال کے بعد تو سہولیات ملیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 718]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (717) باب پر واپس اگلی حدیث (719) →