بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 29 از 41
حدیث نمبر: 1122 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، ابْنِ عُمَيْرٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ شَرِيكٌ: قُلْتُ لَهُ: عَمَّنْ يَا أَبَا عُمَيْرٍ؟ عَمَّنْ حَدَّثَهُ؟، قَالَ: عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ضَخْمَ الْهَامَةِ، مُشْرَبًا حُمْرَةً، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، ضَخْمَ اللِّحْيَةِ، طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ، يَمْشِي فِي صَبَبٍ، يَتَكَفَّأُ فِي الْمِشْيَةِ، لَا قَصِيرٌ وَلَا طَوِيلٌ، لَمْ أَرَ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر مبارک بڑا، رنگ سرخی مائل سفید اور داڑھی گھنی تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی سی دھاری تھی، سر کے بال گھنے اور ہلکے گھنگھریالے تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے قد کے، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1122]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، شريك النخعي قد توبع
الحكم: حسن لغيره، شريك النخعي قد توبع
حدیث نمبر: 1123 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں مستقل قرآن پڑھاتے رہتے تھے الا یہ کہ جنبی ہو جاتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1123]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، ابن أبى ليلى- وهو محمد بن عبدالرحمن - قد توبع
الحكم: حسن لغيره، ابن أبى ليلى- وهو محمد بن عبدالرحمن - قد توبع
حدیث نمبر: 1124 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي، فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَقَامَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمَرَ أَبَا مُوسَى بِأُمُورٍ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ اللَّهَ الْهُدَى وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ، وَاسْأَلْ اللَّهَ السَّدَادَ وَأَنْتَ تَعْنِي بِذَلِكَ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ"، وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ: السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى"، قَالَ: فَكَانَ قَائِمًا، فَمَا أَدْرِي فِي أَيَّتِهِمَا، قَالَ: وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْقَسِّيَّةِ". قُلْنَا لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَيُّ شَيْءٍ الْمِيثَرَةُ؟ قَالَ: شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى رِحَالِهِنَّ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ: ثِيَابٌ تَأْتِينَا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ مُضَلَّعَةٌ، فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے آ کر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا، اور فرمانے لگے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ سے ہدایت کی دعا مانگا کرو، اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو، اور اللہ سے درستگی اور سداد کی دعا کیا کرو، اور آپ اس سے تیر کی درستگی مراد لے لیا کرو۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کا اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا: امیر المومنین! میثرہ (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا: عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتا ہے) اس سے وہ مراد ہے، پھر ہم نے پوچھا کہ قسیہ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: شام کے وہ کپڑے جن میں اترج جیسے نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1124]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 2078
الحكم: إسناده قوي، م: 2078
حدیث نمبر: 1125 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، مَيْسَرَةَ ، وَزَاذَانَ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، وَزَاذَانَ ، قَالَا: شَرِبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ جَالِسًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ جَالِسًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
میسرہ رحمہ اللہ اور زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، اور فرمایا: اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1125]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، خالد بن عبدالله الواسطي روي عن عطاء بعد الاختلاط ، لكن توبع
الحكم: حسن لغيره، خالد بن عبدالله الواسطي روي عن عطاء بعد الاختلاط ، لكن توبع
حدیث نمبر: 1126 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، الْحَكَمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسافر کے لئے تین دن اور تین رات، اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات مسح کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 276
الحكم: إسناده صحيح، م: 276
حدیث نمبر: 1127 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَبِيهِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَقَعَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، وَلَكِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور جنگ تو نام ہی تدبیر اور چال کا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6930، م: 1066
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6930، م: 1066
حدیث نمبر: 1128 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، زَاذَانَ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ شَرِبَ قَائِمًا، فَنَظَرَ النَّاسُ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا تَنْظُرُونَ؟!" إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا: مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1128]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1129 مسند احمد
أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، أَبُو دَاوُدَ ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي جَمِيلَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا اور یہ کام کرنے والے کو - جسے حجام کہا جاتا تھا - اس کی مزدوری دے دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1129]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 1130 مسند احمد
أَبُو خَيْثَمَةَ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، أَبُو دَاوُدَ ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي جَمِيلَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُ الْحَجَّامَ أَجْرَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے جسم مبارک کی رگ سے زائد خون نکلوایا، اور مجھے حکم دیا کہ یہ کام کرنے والے کو - جسے حجام کہا جاتا تھا - اس کی مزدوری دے دوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1130]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وانظر ما قبله
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1131 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ ، زَاذَانَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عن مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلَتْ خَدِيجَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدَيْنِ مَاتَا لَهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمَا فِي النَّارِ"، قَالَ: فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهَا قَالَ:" لَوْ رَأَيْتِ مَكَانَهُمَا لَأَبْغَضْتِهِمَا"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَلَدِي مِنْكَ؟ قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادَهُمْ فِي النَّارِ"، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" 0 وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ 0".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے ان دو بچوں کے متعلق پوچھا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں جہنم میں ہیں۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر اس کے نا خوشگوار اثرات دیکھے تو فرمایا: اگر تم ان دونوں کا ٹھکانہ دیکھ لیتیں تو تمہیں بھی ان سے نفرت ہوجاتی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر میرے ان بچوں کا کیا ہوگا جو آپ سے ہوئے ہیں؟ فرمایا: وہ جنت میں ہیں، پھر فرمایا کہ مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہوگی، اور مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں ہوگی۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ [الطور: 21] » وہ لوگ جو ایمان لائے اور اس ایمان لانے میں ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی، ہم انہیں ان کی اولاد سے ملا دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1131]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لجهالة محمد بن عثمان
الحكم: إسناده ضعيف، لجهالة محمد بن عثمان
حدیث نمبر: 1132 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللَّهُ بُطُونَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خندق کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1132]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 627
الحكم: إسناده صحيح، م: 627
حدیث نمبر: 1133 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ خَيْرٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ: جَلَسَ عَلِيٌّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحَبَةِ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِهِ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ،" فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الْإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، فَعَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز پڑھ کر رحبہ کے پاس بیٹھ گئے، پھر اپنے غلام سے وضو کا پانی لانے کے لئے فرمایا، وہ ایک برتن لایا جس میں پانی تھا اور ایک طشت، انہوں نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلنے لگے، پھر دونوں ہتھیلیوں کو دھویا (پھر دائیں ہاتھ سے اسی طرح کیا)، تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کی، تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد داہنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھویا، پھر بایاں ہاتھ تین مرتبہ کہنی سمیت دھویا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں اچھی طرح ڈبو کر باہر نکالا اور اس پر جو پانی لگ گیا تھا بائیں ہاتھ پر مل کر دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا، پھر بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے اسے مل کر دھویا، تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر پانی نکالا اور اسے پی کر فرمایا: یہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وضو، جو شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1133]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1134 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" اللَّهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1134]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4533، م : 627
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4533، م : 627
حدیث نمبر: 1135 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبُ ، مُجَاهِدٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا، فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ، فَأَتَيْتُهَا فَقَاطَعْتُهَا كُلَّ ذَنُوبٍ عَلَى تَمْرَةٍ، فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا، حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ: بِكَفَّيَّ هَكَذَا، بَيْنَ يَدَيْهَا، وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ يَدَيْهِ وَجَمَعَهُمَا، فَعَدَّتْ لِي سِتَّةَ عَشْرَ تَمْرَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ،" فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بھوک کی شدت سے تنگ آ کر میں اپنے گھر سے نکلا، میں ایک عورت کے پاس سے گذرا جس نے کچھ گارا اکٹھا کر رکھا تھا، میں سمجھ گیا کہ یہ اسے پانی سے تر بتر کرنا چاہتی ہے، میں نے اس کے پاس آ کر اس سے یہ معاہدہ کیا کہ ایک ڈول کھینچنے کے بدلے تم مجھے ایک کھجور دوگی، چنانچہ میں نے سولہ ڈول کھینچے یہاں تک کہ میرے ہاتھ تھک گئے، پھر میں نے پانی کے پاس آ کر پانی پیا، اس کے بعد اس عورت کے پاس آ کر اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا اور اس نے گن کر سولہ کھجوریں میرے ہاتھ پر رکھ دیں، میں وہ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور انہیں یہ سارا واقعہ بتایا، اور کچھ کھجوریں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھلا دیں اور کچھ خود کھا لیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1135]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، مجاهد بن جبر لم يسمع عليا
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، مجاهد بن جبر لم يسمع عليا
حدیث نمبر: 1136 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، أَبِي ، أَبِي جَنَابٍ ، أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ:" كَمْ خَرَاجُكَ؟"، قَالَ: صَاعَانِ، فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا، وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پچھنے لگوائے، فراغت کے بعد پچھنے لگانے والے سے اس کی مزدوری پوچھی، اس نے دو صاع بتائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے ایک صاع کم کر دیا اور مجھے ایک صاع اس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1136]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب
حدیث نمبر: 1137 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِسماعيل ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، أَبِي جَمِيلَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسماعيل ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَرَتْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا، فَأَتَيْتُهُ، فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ:" إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ"، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک خادمہ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں نے دیکھا کہ اس کا تو خون ہی بند نہیں ہو رہا، میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون بند ہو جائے تب اس پر حد جاری کر دینا، یاد رکھو! اپنے غلاموں اور باندیوں پر بھی حد جاری کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1137]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 1138 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرسي ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي جَمِيلَةَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرسي ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ لَهُ فَجَرَتْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1138]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي ، وانظر ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الأعلى الثعلبي ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1139 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَهَلَّ بِهِمَا، فَقَالَ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ مَعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَرَانِي أَنْهَى النَّاسَ عَنْهُ، وَأَنْتَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: لَمْ أَكُنْ أَدَعُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروان بن حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھا، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ حج تمتع یعنی حج اور عمرہ کو ایک ہی سفر میں جمع کرنے سے منع فرماتے تھے، یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کا احرام باندھ لیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس کی ممانعت کا حکم جاری کر دیا ہے، اور آپ پھر بھی اس طرح کر رہے ہیں؟ فرمایا: لیکن کسی کی بات کے آگے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو نہیں چھوڑ سکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1139]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1563
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1563
حدیث نمبر: 1140 مسند احمد
وَإِسَحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، مَيْسَرَةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَإِسَحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ . ح وحَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا، فَقُلْتُ: تَشْرَبُ وَأَنْتَ قَائِمٌ؟! قَالَ:" إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
میسرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1140]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1141 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ، وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَيْهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى مَكَانِكُمَا"، فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اس دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ملے، تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر واپس آگئیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی، چنانچہ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، ہم نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ رہو، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس بیٹھ گئے - حتی کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی - اور فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1141]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3705، م: 2727
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3705، م: 2727