بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 38 از 41
حدیث نمبر: 1303 مسند احمد
أَبُو خَيْثَمَةَ ، شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبُو مَرْيَمَ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ قَوْمًا يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک قوم ایسی آئے گی جو اسلام سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گا، اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو انہیں قتل کرے یا ان کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر لے، ان کی علامت وہ آدمی ہے جس کا ہاتھ نامکمل ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1303]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، م : 1066 ، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح ، م : 1066 ، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1304 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي مَرْيَمَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْوَلِيدَ يَضْرِبُهَا، وَقَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: تَشْكُوهُ، قَالَ:" قُولِي لَهُ: قَدْ أَجَارَنِي"، قَالَ عَلِيٌّ: فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ، فَقَالَتْ: مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا، فَأَخَذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهَا، وَقَالَ:" قُولِي لَهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَارَنِي"، فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ، فَقَالَتْ: مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْوَلِيدَ، أَثِمَ بِي مَرَّتَيْنِ"، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَوَارِيرِيّ، وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ولید مجھے مارتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس سے جا کر کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پناہ دی ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ دوبارہ آگئی اور کہنے لگی کہ اب تو اس نے مجھے اور زیادہ مارنا پیٹنا شروع کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کپڑے کا ایک کونہ پکڑ کر اسے دیا اور فرمایا: اسے جا کر کہنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پناہ دی ہے۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد وہ واپس آگئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اس نے مجھے اور زیادہ مارنا شروع کر دیا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: الہی! ولید سے سمجھ لے، اس نے دو مرتبہ میری نافرمانی کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1304]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه ، وانظر مابعده
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه ، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 1305 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِي مَرْيَمَ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أخبرنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي الْوَلِيدَ أَنَّهُ يَضْرِبُهَا...، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1305]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1306 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ:" شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ، أَوْ بُطُونَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خندق کے کسی کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1306]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 627
الحكم: إسناده صحيح ، م : 627
حدیث نمبر: 1307 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ كَافَّةً، إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا مَكْتُوبٌ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتایئے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میری تلوار کی نیام میں جو کچھ ہے وہ ہے، یہ کہہ کر انہوں نے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعت کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1307]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، م : 1978
الحكم: إسناده صحيح ، م : 1978
حدیث نمبر: 1308 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" اللَّهُمَّ امْلَأْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى آبَتْ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان (مشرکین) کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4533، م : 627
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4533، م : 627
حدیث نمبر: 1309 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْأَعْرَجِ؟ فَقَالَ: إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ، وَسُئِلَ عَنِ الْقَرَنِ؟ فَقَالَ: لَا يَضُرُّهُ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1309]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1310 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكٌ ، حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ بِالْيَمَنِ، فَاحْتَفَرُوا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَعَ فِيهَا رَجُلٌ، وَتَعَلَّقَ بِآخَرَ، وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ، وَتَعَلَّقَ الْآخَرُ بِآخَرَ، حَتَّى صَارُوا أَرْبَعَةً، فَجَرَحَهُمْ الْأَسَدُ فِيهَا، فَمِنْهُمْ مَنْ مَاتَ فِيهَا، وَمِنْهُمْ مَنْ أُخْرِجَ فَمَاتَ، قَالَ: فَتَنَازَعُوا فِي ذَلِكَ حَتَّى أَخَذُوا السِّلَاحَ، قَالَ: فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَيْلَكُمْ، تَقْتُلُونَ مِائَتَيْ إِنْسَانٍ فِي شَأْنِ أَرْبَعَةِ أَنَاسِيَّ؟ تَعَالَوْا أَقْضِ بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ، فَإِنْ رَضِيتُمْ بِهِ، وَإِلَّا فَارْتَفِعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَضَى لِلْأَوَّلِ رُبُعَ دِيَتِه، وَلِلثَّانِي ثُلُثَ دِيَتِه، وَلِلثَّالِثِ نِصْفَ دِيَتِه، وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةَ كَامِلَةً، قَالَ: فَرَضِيَ بَعْضُهُمْ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ، وَجَعَلَ الدِّيَةَ عَلَى قَبَائِلِ الَّذِينَ ازْدَحَمُوا، قَالَ: فَارْتَفَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَهْزٌ: قَالَ حَمَّادٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: كَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَبَى، قَالَ:" سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ بِقَضَاءٍ"، قَالَ: فَأُخْبِرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَمْضَى قَضَاءَهُ، قَالَ عَفَّانُ:" سَأَقْضِي بَيْنَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حنش کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یمن میں ایک قوم نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گڑھا کھود کر اسے ڈھانپ رکھا تھا، شیر اس میں گر پڑا، اچانک ایک آدمی بھی اس گڑھے میں گر پڑا، اس کے پیچھے دوسرا، تیسرا حتی کہ چار آدمی گر پڑے (اس گڑھے میں موجود شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا، یہ دیکھ کر ایک آدمی نے جلدی سے نیزہ پکڑا اور شیر کو دے مارا، چنانچہ شیر ہلاک ہو گیا اور وہ چاروں آدمی بھی اپنے اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چل بسے)۔ مقتولین کے اولیاء اسلحہ نکال کر جنگ کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے، اتنی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور کہنے لگے: کیا تم چار آدمیوں کے بدلے دو سو آدمیوں کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اس پر راضی ہو گئے تو سمجھو کہ فیصلہ ہو گیا، فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص پہلے گر کر گڑھے میں شیر کے ہاتھوں زخمی ہوا، اس کے ورثاء کو چوتھائی دیت دے دو، اور چوتھے کو مکمل دیت دے دو، دوسرے کو ایک تہائی اور تیسرے کو نصف دیت دے دو، ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا (کیونکہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا)۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اتنی دیر میں ایک آدمی کہنے لگا: یا رسول اللہ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی کو نافذ کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1310]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حنش بن المعتمر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حنش بن المعتمر
حدیث نمبر: 1311 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، شَبَابَةُ ، نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبُو مَرْيَمَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ ، وَرَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"، قَالَ: فَزَادَ النَّاسُ بَعْدُ:" وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے موقع پر یہ فرمایا تھا کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔ بعد میں لوگوں نے اس پر یہ اضافہ کر لیا کہ اے اللہ! جس کا یہ دوست ہو تو اس کا دوست بن جا، اور جس کا یہ دشمن ہو تو اس کا دشمن بن جا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1311]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نعيم بن حكيم ولجهالة أبى مريم
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نعيم بن حكيم ولجهالة أبى مريم
حدیث نمبر: 1312 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أخبرنا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، وَسُئِلَ عَنِ الْمَكْسُورَةِ الْقَرْنِ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ، وَسُئِلَ عَنِ الْعَرَجِ؟ فَقَالَ: مَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَيْنِ وَالْأُذُنَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1312]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1313 مسند احمد
الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْوَرْدِ ، ابْنِ أَعْبُدَ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا ابْنَ أَعْبُدَ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: تَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا، قَالَ: وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا شُكْرُهُ؟ قَالَ: تَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا؟ كَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَكَانَتْ زَوْجَتِي، فَجَرَتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَى بِيَدِهَا، وَأَسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا، وَقَمَّتْ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقِدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا، فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضُرٌ، فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ، أَوْ خَدَمٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا يَقِيكِ حَرَّ مَا أَنْتِ فِيهِ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ خَدَمًا، أَوْ خُدَّامًا، فَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْهُ...، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ؟ إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ سَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ"، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَتْ: رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، مَرَّتَيْنِ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، أَوْ نَحْوَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن اعبد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ابن اعبد! تمہیں معلوم ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہی بتائیے کہ اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: کھانے کا حق یہ ہے کہ اس کے آغاز میں یوں کہو: «بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْمَا رَزَقْتَنَا» اللہ کے نام سے شروع کر رہا ہوں، اے اللہ! تو نے ہمیں جو عطاء فرما رکھا ہے اس میں برکت پیدا فرما۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ کھانے سے فراغت کے بعد اس کا شکر کیا ہے، تمہیں معلوم ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہی بتایئے کہ اس کا شکر کیا ہے؟ فرمایا: تم یوں کہو: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا» اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا۔ پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک بات نہ بتاؤں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی بھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہوں میں تمام بچوں سے زیادہ قابل عزت بھی تھیں، اور میری رفیقہ حیات بھی تھیں، انہوں نے اتنی چکی چلائی کہ ان کے ہاتھوں میں اس کے نشان پڑ گئے، اور اتنے مشکیزے ڈھوئے کہ ان کی گردن پر اس کے نشان پڑ گئے، گھر کو اتنا سنوارا کہ اپنے کپڑے غبار آلود ہو گئے، ہانڈی کے نیچے اتنی آگ جلائی کہ کپڑے بیکار ہو گئے جس سے انہیں جسمانی طور پر شدید اذیت ہوئی۔ اتفاقا انہی دنوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کچھ قیدی یا خادم آئے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک خادم کی درخواست کرو تاکہ اس گرمی سے تو بچ جاؤ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک یا کئی خادم موجود ہیں، لیکن وہ اپنی درخواست پیش نہ کر سکیں اور واپس آگئیں۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا کہ کیا میں تمہیں خادم سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔ اس پر انہوں نے چادر سے اپنا سر نکال کر کہا کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے راضی ہوں، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1313]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن أعبد، وأسمه علي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن أعبد، وأسمه علي
حدیث نمبر: 1314 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، قَالَ: كُنَّا نَرَى أَنَّ صَلَاةَ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُمْ يَوْمَ الْأَحْزَابِ اقْتَتَلُوا، وَحَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ امْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا، أَوْ امْلَأْ بُطُونَهُمْ نَارًا، كَمَا حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى"، قَالَ: فَعَرَفْنَا يَوْمَئِذٍ أَنَّ صَلَاةَ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم صلوۃ وسطی فجر کی نماز کو سمجھتے تھے، پھر ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر جنگ شروع کی تو مشرکین نے ہمیں نماز عصر پڑھنے سے روک دیا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ اس دن ہمیں پتہ چلا کہ صلوۃ وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 4533، م : 627
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 4533، م : 627
حدیث نمبر: 1315 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيْهِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَبِسَهَا، وَخَرَجَ عَلَى الْقَوْمِ، فَعَرَفَ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَأَمَرَهُ" أَنْ يُشَقِّقَهَا بَيْنَ نِسَائِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا میرے پاس بھیج دیا، میں نے اسے زیب تن کر لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1315]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2614 ، م : 2071
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2614 ، م : 2071
حدیث نمبر: 1316 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ قَعَدَ لِحَوَائِجِ النَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ،" أُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ فَضْلَهُ فَشَرِبَ قَائِمًا، وَقَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ هَذَا، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو ان کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا، انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے، اور جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5616
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5616
حدیث نمبر: 1317 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِشَرَاحَةَ: لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ، لَعَلَّ زَوْجَكِ أَتَاكِ، لَعَلَّكِ؟ قَالَتْ: لَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ، جَلَدَهَا، ثُمَّ رَجَمَهَا، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ جَلَدْتَهَا، ثُمَّ رَجَمْتَهَا؟ قَالَ:" جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شراحہ ہمدانیہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہو سکتا ہے تجھے زبردستی اس کام پر مجبور کیا گیا ہو؟ شاید وہ تمہارا شوہر ہی ہو؟ لیکن وہ ہر بات کے جواب میں نہیں کہتی رہی، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضع حمل کے بعد اسے کوڑے مارے، اور پھر اس پر حد رجم جاری فرمائی، کسی نے پوچھا کہ آپ نے اسے دونوں سزائیں کیوں دیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اسے کوڑے مارے ہیں اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روشنی میں اسے رجم کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1317]
حکم دارالسلام
صحيح وفي خ : 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
الحكم: صحيح وفي خ : 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
حدیث نمبر: 1318 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1318]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق و جهالة النعمان بن سعد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق و جهالة النعمان بن سعد
حدیث نمبر: 1319 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ ، سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: قُلْ:" اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین! میں بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں، آپ میری مدد فرمائیے، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھا دوں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سکھائے تھے؟ اگر تم پر جبل صیر کے برابر بھی دینار قرض ہوگا تو اللہ اسے ادا کروا دے گا، اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: یہ دعا پڑھتے رہا کرو: «اَللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ» اے اللہ! آپ اپنے حلال کے ذریعے حرام سے میری کفایت فرمائیے اور اپنی مہربانی سے مجھے اپنے علاوہ ہر ایک سے بےنیاز فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1319]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن ابن إسحاق الواسطي
الحكم: إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن ابن إسحاق الواسطي
حدیث نمبر: 1320 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَرَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَرَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت عطاء فرما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1320]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي و جهالة النعمان بن سعد
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي و جهالة النعمان بن سعد
حدیث نمبر: 1321 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى فَأَتَانَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَامَ عَلَى أَبِي مُوسَى، فَأَمَرَهُ بِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَ السَّهْمِ"، وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ، وَأَهْوَى أَبُو بُرْدَةَ إِلَى السَّبَّابَةِ أَوْ الْوُسْطَى، قَالَ عَاصِمٌ: أَنَا الَّذِي اشْتَبَهَ عَلَيَّ أَيَّتَهُمَا عَنَى، وَنَهَانِي عَنِ الْمِيثَرَةِ، وَالْقَسِّيَّةِ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، مَا الْمِيثَرَةُ وَمَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ: أَمَّا الْمِيثَرَةُ: شَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ يَجْعَلُونَهُ عَلَى رِحَالِهِمْ، وَأَمَّا الْقَسِّيُّ: فَثِيَابٌ كَانَتْ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ أَوْ الْيَمَنِ، شَكَّ عَاصِمٌ، فِيهَا حَرِيرٌ، فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے آ کر ہمیں سلام کیا اور میرے والد صاحب کو لوگوں کا کوئی معاملہ سپرد فرمایا، اور فرمانے لگے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ سے ہدایت کی دعا مانگا کرو اور ہدایت سے ہدایت الطریق مراد لے لیا کرو، اور اللہ سے درستگی اور سداد کی دعا کیا کرو اور اس سے تیر کی درستگی مراد لیا کرو۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے شہادت یا درمیان والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے انگلیوں کا اشارہ میں صحیح طور پر سمجھ نہ سکا، پھر انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سرخ دھاری دار اور ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے، ہم نے پوچھا: امیر المومنین! «مِيثَرَة» (یہ لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے) سے کیا مراد ہے؟ یہ کیا چیز ہوتی ہے؟ فرمایا: عورتیں اپنے شوہروں کی سواری کے کجاوے پر رکھنے کے لئے ایک چیز بناتی تھیں (جسے زین پوش کہا جاتا ہے) اس سے وہ مراد ہے، پھر ہم نے پوچھا کہ «قِسِّيَّة» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: شام کے وہ کپڑے جن میں اترج جیسے نقش و نگار بنے ہوتے تھے۔ ابوبردہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کتان کے بنے ہوئے کپڑے دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1321]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1322 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، لِعَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَخُو حَجَّاجٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَلِيٍّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا سَأَلَ عَنْ هَذَا بَعْدَ رَجُلٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا شَهْرًا بَعْدَ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ، فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ، وَفِيهِ يَوْمٌ تَابَ عَلَى قَوْمٍ، وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: امیر المومنین! رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے کے روزے رکھنے کی تاکید کرتے ہیں؟ فرمایا کہ میں نے صرف ایک آدمی کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسا سوال کرتے ہوئے سنا تھا، اس کے بعد یہ واحد آدمی ہے جس سے میں یہ سوال سن رہا ہوں، اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر تم رمضان کے بعد کسی مہینے کے روزے رکھنا چاہتے ہو تو ماہ محرم کے روزے رکھو، کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اللہ ایک قوم کی توبہ قبول کرے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1322]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي و جهالة النعمان بن سعد. وفي مسلم : 1163، عن ابي هريرة مرفوعاً : «افضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم.»
الحكم: إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن بن إسحاق الواسطي و جهالة النعمان بن سعد. وفي مسلم : 1163، عن ابي هريرة مرفوعاً : «افضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم.»