بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 14 از 41
حدیث نمبر: 822 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، الْحَكَمِ ، حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ،" سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ في ذلك".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص سال گذرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دینا چاہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں پہلے ادا کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 822]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 823 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، أَبِيهِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنَ الْإِنْسَانِ، كَيْفَ يَفْعَلُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّأْ، وَانْضَحْ فَرْجَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر انسان کے جسم سے مذی کا خروج ہو تو وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وضو کرے اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے ڈال لے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م : 303
الحكم: إسناده صحيح. م : 303
حدیث نمبر: 824 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أُمِّهِ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ: بَيْنَمَا نَحْنُ بِمِنًى إِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جَمَلٍ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ هَذِهِ أَيَّامُ طُعْمٍ وَشُرْبٍ، فَلَا يَصُومَنَّ أَحَدٌ"، فَاتَّبَعَ النَّاسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن سلیم کی والدہ کہتی ہیں کہ ہم میدان منیٰ میں تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے اونٹ پر بیٹھ کر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: یہ دن کھانے پینے کے ہیں، اس لئے ان دنوں میں کوئی شخص روزہ نہ رکھے۔ چنانچہ لوگوں نے ان کی اتباع کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 825 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَوْسَطِهِ، وَآخِرِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 825]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 826 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنْبَأَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ ، رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذِهِ الْبَقَرَةَ لِلْأَضْحَى؟ قَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، قَالَ: الْقَرْنُ؟ قَالَ: لَا يَضُرُّكَ، قَالَ: الْعَرَجُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے یہ گائے قربانی کے لئے خریدی ہے، انہوں نے فرمایا کہ یہ سات آدمیوں کی طرف سے ہو سکتی ہے، اس نے کہا کہ اس کے سینگ نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اس کے پاؤں میں لنگڑا پن ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر یہ قربان گاہ تک خود چل کر جا سکتی ہے تو کوئی حرج نہیں، پھر فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 826]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 827 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، حُصَيْنٌ ، سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، قَالَ: تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لِحِبَّانَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ، يَعْنِي: عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَمَا هُوَ لَا أَبَا لَكَ؟ قَالَ: قَوْلٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ وَأَبَا مَرْثَدٍ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ، قَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَبْلُغُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، فَأْتُونِي بِهَا"، فَانْطَلَقْنَا عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، قَالَ: وَكَانَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا لَهَا: أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ؟ قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا، فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا، فَلَمْ نَجِدْ فِيهِ شَيْئًا، فَقَالَ صَاحِبَايَ: مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا، فَقُلْتُ: لَقَدْ عَلِمْتُمَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَلَفْتُ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ لَئِنْ لَمْ تُخْرِجِي الْكِتَابَ لَأُجَرِّدَنَّكِ، فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ فَأَخْرَجَتْ الصَّحِيفَةَ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ:" يَا حَاطِبُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا بِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ إِلَّا لَهُ هُنَاكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، قَالَ" صَدَقْتَ، فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ:" أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ؟ وَمَا يُدْرِيكَ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ الْجَنَّةُ"، فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَالَ: اللَّهُ تَعَالَى وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا ابومرثد رضی اللہ عنہما - کہ ہم میں سے ہر ایک شہسوار تھا - کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا: تم لوگ روانہ ہو جاؤ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا، جو حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے نام ہوگا، تم اس سے وہ خط لے کر واپس آجانا۔ چنانچہ ہم لوگ روانہ ہو گئے، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی جو اپنے اونٹ پر چلی جا رہی تھی، اس خط میں اہل مکہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روانگی کی اطلاع دی گئی تھی، ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے اس کا اونٹ بٹھایا، اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا، میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ اس کے پاس تو ہمارے خیال میں کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، پھر میں نے قسم کھا کر کہا کہ یا تو تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کر دیں گے۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، لوگ کہنے لگے: یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں، بات یہ ہے کہ میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا، البتہ ان میں شامل ہو گیا ہوں، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے، اس لئے ان پر ایک احسان کر دوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ بیان کیا، ان کے متعلق اچھی بات ہی کہنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا: یا رسول اللہ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں، اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا: تم جو کچھ کرتے رہو، میں تمہارے لئے جنت کو واجب کر چکا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور وہ فرمانے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 3081، م: 2494
الحكم: إسناده صحيح. خ: 3081، م: 2494
حدیث نمبر: 828 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، هَارُونَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، أخبرنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ لَا تُؤَخِّرْهُنَّ: الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدَتْ كُفُؤًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علی! تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرو: (1) نماز جب اس کا وقت آجائے، (2) جنازہ جب وہ حاضر ہوجائے، (3) عورت جب اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 828]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن عبدالله الجهني
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن عبدالله الجهني
حدیث نمبر: 829 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَارُ خَلَفٍ الْبَزَّارِ ، أَبُو شِهَابٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَارُ خَلَفٍ الْبَزَّارِ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ لُبْسِ الْحُمْرَةِ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشمی کپڑے پہننے اور رکوع کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 829]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى وعبدالكريم، ويشبه أن يكون نهيه عن لبس الحمراء معناه النهي عن المعصفر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى وعبدالكريم، ويشبه أن يكون نهيه عن لبس الحمراء معناه النهي عن المعصفر
حدیث نمبر: 830 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِيهِ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں - جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت احرام میں تھے - شکار کا گوشت لایا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 830]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وثبت جواز أكل الصيد للمحرم إذا صاده الحلال وأهداه للمحرم فى صحيح البخاري : 1821
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وثبت جواز أكل الصيد للمحرم إذا صاده الحلال وأهداه للمحرم فى صحيح البخاري : 1821
حدیث نمبر: 831 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ، وَالْمَيَاثِرِ، وَالْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَالرَّجُلُ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ریشمی کپڑے، سرخ زین پوش اور عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے اور رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى وعبد الكريم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى وعبد الكريم
حدیث نمبر: 832 مسند احمد
أَبُو مُحَمَّدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، عَاصِمٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، عَاصِمٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْكُوفَةِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ . ح وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : تَمَارَيْنَا فِي سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقُلْنَا: خَمْسٌ وَثَلَاثُونَ آيَةً، سِتٌّ وَثَلَاثُونَ آيَةً، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُنَاجِيهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي الْقِرَاءَةِ، فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں قرآن کریم کی کسی سورت میں شک ہو گیا، بعض اس کی آیات کی تعداد پینتیس بتاتے تھے اور بعض چھتیس۔ جب یہ بحث بڑھی تو اس کا فیصلہ کروانے کے لئے ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہاں پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سرگوشی کرتا ہوا پایا، ہم نے اپنے آنے کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ایک سورت کی قرأت کے درمیان اختلاف ہو گیا ہے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ جس طرح تمہیں سکھایا گیا ہے، قرآن کریم کی تلاوت اسی طرح کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 832]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 833 مسند احمد
صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، زِرٍّ يَعْنِي ابْنَ حُبَيْشٍ ، أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَلِيًّا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ . ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ يَعْنِي ابْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ أَبُو بَكْرٍ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ - جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کہا کرتے تھے - سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو (دوران خطبہ یہ) کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ (ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: کیوں نہیں، اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے) وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 833]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 834 مسند احمد
أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، الشَّعْبِيِّ ، وَهْبٍ السُّوَائِيِّ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَنْ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ فَقُلْتُ: أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: لَا،" خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
وہب سوائی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوران خطبہ یہ فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ میں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہی ہیں، انہوں نے فرمایا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر سکینہ بولتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 834]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وانظر ما قبله وما بعده
الحكم: إسناده قوي، وانظر ما قبله وما بعده
حدیث نمبر: 835 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْغُدَانِيَّ الْأَشَلَّ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبُو جُحَيْفَةَ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أخبرنا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْغُدَانِيَّ الْأَشَلَّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ ، الَّذِي كَانَ عَلِيٌّ يُسَمِّيهِ: وَهْبَ الْخَيْرِ، قَالَ: قَالَ لي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَبَا جُحَيْفَةَ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: وَلَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْهُ، قَالَ:" أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَبَعْدَهُمَا آخَرُ ثَالِثٌ"، وَلَمْ يُسَمِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ - جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہب الخیر کہا کرتے تھے - سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ - ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیوں نہیں، اور میں یہ سمجھتا تھا کہ خود ان سے افضل کوئی نہیں ہے - وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور ان کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا نام نہیں لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 836 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَبَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَوْ شِئْتُ أَخْبَرْتُكُمْ بِالثَّالِثِ لَفَعَلْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجحیفہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اگر میں چاہوں تو تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 836]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك سيء الحفظ، لكن للحديث طرق أخرى تقويه
الحكم: حديث صحيح، شريك سيء الحفظ، لكن للحديث طرق أخرى تقويه
حدیث نمبر: 837 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، خَالِدٌ الزَّيَّاتُ ، عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَبِي ، عَلِيًّا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الزَّيَّاتُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ شُرَطِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ تَحْتَ الْمِنْبَرِ، فَحَدَّثَنِي أَبِي : أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، يَعْنِي: عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَالثَّانِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ"، وَقَالَ: يَجْعَلُ اللَّهُ تَعَالَى الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حفاظتی گارڈز میں سے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ منبر پر رونق افروز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے بعد فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، دوسرے نمبر پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں، اور اللہ جہاں چاہتا ہے خیر رکھ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 837]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 838 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهُ بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَرَحَيَيْنِ، وَسِقَاءٍ، وَجَرَّتَيْنِ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذَاتَ يَوْمٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى قَدْ اشْتَكَيْتُ صَدْرِي، قَالَ: وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ، فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ، فَقَالَتْ: وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةُ؟"، قَالَتْ: جِئْتُ لَأُسَلِّمَ عَلَيْكَ، وَاسْتَحْيَت أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتِ؟ قَالَتْ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَأَتَيْنَاهُ جَمِيعًا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي، وَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ، وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسَعَةٍ فَأَخْدِمْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَى بُطُونُهُمْ، لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ"، فَرَجَعَا، فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا، إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا، وَإِذَا غَطَّيَا أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا، فَثَارَا، فَقَالَ:" مَكَانَكُمَا"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي؟"، قَالَا: بَلَى، فَقَالَ:" كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا، وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ"، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَكُمْ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، نَعَمْ، وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ان سے کیا تو ان کے ساتھ جہیز کے طور پر روئیں دار کپڑے، چمڑے کا تکیہ جس میں گھاس بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، مشکیزہ اور دو مٹکے بھی روانہ کئے، ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اللہ کی قسم! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے تو سینے میں درد شروع ہو گیا ہے، آپ کے والد صاحب کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان سے جا کر کسی خادم کی درخواست کیجئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: واللہ! چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں میں بھی گٹے پڑ گئے ہیں۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آنے کی وجہ دریافت فرمائی، انہوں نے عرض کیا کہ سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئی تھی، انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے شرم آئی اور وہ واپس لوٹ آئیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ہوا؟ فرمایا: مجھے تو ان سے کچھ مانگتے ہوئے شرم آئی اس لئے واپس لوٹ آئی۔ اس کے بعد ہم دونوں اکٹھے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یا رسول اللہ! کنوئیں سے پانی کھینچ کھینچ کر میرے سینے میں درد شروع ہو گیا ہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ چکی چلا چلا کر میرے بھی ہاتھوں میں گٹے پڑگئے ہیں، آپ کے پاس کچھ قیدی آئے ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بطور خادم کے ہمیں بھی عنایت فرما دیں۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: واللہ! میں اہل صفہ کو چھوڑ کر - جن کے پیٹ چپکے پڑے ہوئے ہیں اور ان پر خرچ کرنے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے - تمہیں کوئی خادم نہیں دے سکتا، بلکہ میں انہیں بیچ کر ان کی قیمت اہل صفہ پر خرچ کروں گا۔ اس پر وہ دونوں واپس چلے آئے، رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے، انہوں نے جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اگر سر ڈھکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے، اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر دونوں اٹھنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع کر دیا اور فرمایا کہ ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اور جب بستر پر آیا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ (تمہاری ساری تھکاوٹ اور بیماری دور ہوجایا کرے گی)۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ان کلمات کی تعلیم دی ہے میں نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ ابن کواء کہنے لگا کہ جنگ صفین کے موقع پر بھی نہیں؟ فرمایا: اہل عراق! اللہ تم سے سمجھے، ہاں! صفین کے موقع پر بھی نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 838]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 839 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَدَ شَرَاحَةَ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ:" أَجْلِدُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَرْجُمُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شراحہ کو جمعرات کے دن کوڑے مارے اور جمعہ کے دن اسے سنگسار کر دیا اور فرمایا: میں نے کوڑے قرآن کریم کی وجہ سے مارے اور سنگسار سنت کی وجہ سے کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 839]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
الحكم: إسناده صحيح، وفي خ: 6812، وهو مختصر بقصة الرجم دون الجلد
حدیث نمبر: 840 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَا وَرَجُلَانِ: رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، أَحْسِبُ، فَبَعَثَهُمَا وَجْهًا، وَقَالَ: أَمَا إِنَّكُمَا عِلْجَانِ، فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَتَمَسَّحَ بِهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ رَآنَا أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ، وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ، لَيْسَ الْجَنَابَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور دو دیگر آدمی جن میں سے ایک میری قوم کا آدمی تھا اور دوسرا بنو اسد میں سے تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو اپنے سامنے بھیجا اور فرمایا کہ تم دونوں ابھی نا سمجھ ہو، اس لئے دین کو سمجھنے کے لئے مشق کرو، پھر وہ بیت الخلاء تشریف لے گئے اور قضاء حاجت کر کے باہر نکلے تو ایک مٹھی بھر پانی لے کر اسے اپنے چہرے پر پھیر لیا، اور قرآن پڑھنا شروع کر دیا، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس پر تعجب ہو رہا ہے تو فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی قضاء حاجت کر کے باہر نکلنے کے بعد قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیتے تھے، اور ہمارے ساتھ گوشت بھی کھا لیا کرتے تھے، آپ کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن کریم کی تلاوت سے نہیں روک سکتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 840]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 841 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ قُلْتَ؟"، فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ، قَالَ: فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ عَافِهِ، أَوْ اللَّهُمَّ اشْفِهِ"، شَكَّ شُعْبَةُ، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَاكَ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا میرے پاس سے گذر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلا لے، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھا لے، اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات پھر دہرا دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ عَافِهِ أَوْ اَللّٰهُمَّ اشْفِهِ شَكَّ شُعْبَةُ» اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 841]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن