بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 9 از 41
حدیث نمبر: 722 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، هُبَيْرَةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أخبرنا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هُبَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 722]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 723 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُودَى الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عبد مکاتب یعنی وہ غلام جس سے ایک مقررہ مقدار ادا کرنے پر آقا نے آزادی کا معاہدہ کر لیا ہو، اس نے جتنی مقدار ادا کر دی ہو، اتنی مقدار میں وہ دیت کا مستحق بھی ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 723]
حکم دارالسلام
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 724 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا:" لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ:" لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر کر دیا، اس نے آگ جلائی اور کہا کہ اس آگ میں داخل ہو جاؤ، لوگ ابھی اس میں چھلانگ لگانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک نوجوان کہنے لگا کہ آگ ہی سے تو بھاگ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دامن سے وابستہ ہوئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرنے والوں سے فرمایا کہ اگر تم اس میں ایک مرتبہ داخل ہو جاتے تو پھر کبھی اس میں سے نہ نکل نہ سکتے اور دوسروں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے، اطاعت کا تعلق تو صرف نیکی کے کاموں سے ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 724]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 7257، م: 1840
الحكم: إسناده صحيح. خ: 7257، م: 1840
حدیث نمبر: 725 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ: مَا تَرَوْنَ فِي فَضْلٍ فَضَلَ عِنْدَنَا مِنْ هَذَا الْمَالِ؟ فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ شَغَلْنَاكَ عَنْ أَهْلِكَ وَضَيْعَتِكَ وَتِجَارَتِكَ، فهو لك، فقال لِي: مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ: قُلْ، فَقُلْتُ: لِمَ تَجْعَلُ يَقِينَكَ ظَنًّا؟ فَقَالَ: لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، فَقُلْتُ: أَجَلْ، وَاللَّهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْهُ، أَتَذْكُرُ حِينَ بَعَثَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا، فَأَتَيْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَمَنَعَكَ صَدَقَتَهُ، فَكَانَ بَيْنَكُمَا شَيْءٌ، فَقُلْتَ لِي: انْطَلِقْ مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَاهُ خَاثِرًا، فَرَجَعْنَا، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ فَوَجَدْنَاهُ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَأَخْبَرْتَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَكَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ؟"، وَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ خُثُورِهِ فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ، وَالَّذِي رَأَيْنَاهُ مِنْ طِيبِ نَفْسِهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، فَقَالَ:" إِنَّكُمَا أَتَيْتُمَانِي فِي الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَقَدْ بَقِيَ عِنْدِي مِنَ الصَّدَقَةِ دِينَارَانِ، فَكَانَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ خُثُورِي لَهُ، وَأَتَيْتُمَانِي الْيَوْمَ وَقَدْ وَجَّهْتُهُمَا، فَذَاكَ الَّذِي رَأَيْتُمَا مِنْ طِيبِ نَفْسِي"؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ، وَاللَّهِ لَأَشْكُرَنَّ لَكَ الْأُولَى وَالْآخِرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے فرمایا کہ ہمارے پاس یہ جو کچھ زائد مال بچ گیا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے؟ لوگوں نے کہا کہ امیر المؤمنین! آپ ہماری وجہ سے اپنے اہل خانہ، اپنے کاروبار اور تجارت سے رہ گئے ہیں، اس لئے یہ آپ رکھ رلیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ لوگوں نے آپ کو مشورہ دے تو دیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ آپ بھی تو کوئی رائے دیجئے، میں نے عرض کیا کہ آپ اپنے یقین کو گمان میں کیوں تبدیل کر رہے؟ فرمایا: آپ اپنی بات کی وضاحت خود ہی کر دیں۔ میں نے کہا: بہت بہتر، میں اس کی ضرور وضاحت کروں گا، آپ کو یاد ہو گا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو صدقات و زکوٰۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا، آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، آپ دونوں کے درمیان کچھ اونچ نیچ ہو گئی۔ آپ نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلو، ہم وہاں پہنچے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں وہ نشاط نہ دیکھا جو ہوتا تھا، چنانچہ ہم واپس آ گئے، اگلے دن جب ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو اس وقت ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہشاش بشاش پایا، پھر آپ نے انہیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا، انہوں نے آپ سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مرتبہ میں ہوتا ہے۔ پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے دن کی کیفیت اور دوسرے دن کی کیفیت کے حوالے سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب آپ دونوں پہلے دن میرے پاس آئے تھے تو میرے پاس زکوٰۃ کے دو دینار بچ گئے تھے، یہی وجہ تھی کہ آپ نے مجھے بوجھل طبیعت میں دیکھا اور جب آج آپ دونوں میرے پاس آئے تو میں وہ کسی کو دے چکا تھا اسی وجہ سے آپ نے مجھے ہشاش بشاش پایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ سن کر فرمایا: آپ نے صحیح فرمایا: بخدا! میں دنیا و آخرت میں آپ کا شکر گزار رہوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 725]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو البختري- واسمه سعيد بن فيروز- لم يدرك علياً، و أن عم الرجل صنو أبيه له شاهد صحيح من حديث أبى هريرة فى صحيح مسلم وغيره
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو البختري- واسمه سعيد بن فيروز- لم يدرك علياً، و أن عم الرجل صنو أبيه له شاهد صحيح من حديث أبى هريرة فى صحيح مسلم وغيره
حدیث نمبر: 726 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقَّنَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَأَمَرَنِي إِنْ نَزَلَ بِي كَرْبٌ أَوْ شِدَّةٌ أَنْ أَقُولَهُنَّ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْكَرِيمُ الْحَلِيمُ، سُبْحَانَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی تکلیف یا مصیبت آنے پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھائی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ بڑا بردبار اور مہربان ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 726]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 727 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، زَاذَانَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا مَاءٌ، فَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ"، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 727]
حکم دارالسلام
إسناده مرفوعاً ضعيف، عطاء بن السائب اختلط بأخرة، وعامة من رفع عنه هذا الحديث، فإنما رواه عنه بعد اختلاطه
الحكم: إسناده مرفوعاً ضعيف، عطاء بن السائب اختلط بأخرة، وعامة من رفع عنه هذا الحديث، فإنما رواه عنه بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 728 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات کپڑوں میں دفنایا گیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 728]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن محمد بن عقيل به، ولمخالفة الحديث الصحيح الذى رواه البخاري: 1264، ومسلم: 941 من حديث عائشة إن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم كفن فى ثلاثة أثواب
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن محمد بن عقيل به، ولمخالفة الحديث الصحيح الذى رواه البخاري: 1264، ومسلم: 941 من حديث عائشة إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن فى ثلاثة أثواب
حدیث نمبر: 729 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَاجِشُونُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، وَالْمَاجِشُونُ ، الْأَعْرَجِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَبُو النَّضْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ , وَالْمَاجِشُونُ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ، اسْتَفْتَحَ، ثُمَّ قَالَ:" وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وقَالَ أَبُو النَّضْرِ : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي"، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ"، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ"، فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہہ چکتے تو ثناء پڑھنے کے بعد فرماتے کہ میں نے اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف سب سے یکسو ہو کر اور مسلمان ہو کر پھیر لیا جس نے آسمان و زمین کو تخلیق کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت اس اللہ کے لئے وقف ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، الہیٰ! آپ ہی حقیقی بادشاہ ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ ہی میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے اس لئے آپ میرے تمام گناہوں کو معاف فرمادیں، کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کر ہی نہیں سکتا اور بہتر اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرمائیے، کیونکہ بہترین اخلاق کی طرف بھی آپ ہی رہنمائی کر سکتے ہیں اور مجھے برے اخلاق سے بچائیے کیونکہ ان سے بھی آپ ہی بچا سکتے ہیں، آپ کی ذات تو بڑی بابرکت اور برتر ہے، میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں۔ جب رکوع میں جاتے تو یوں کہتے ہیں کہ الہیٰ! میں نے آپ کے لئے رکوع کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرے کان اور آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے سب آپ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» اور «ربنا ولك الحمد» کہنے کے بعد فرماتے کہ تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی جگہ کو پر کر دیں اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ میں جاتے تو یوں فرماتے کہ الہیٰ! میں نے آپ کے لئے سجدہ کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی بہترین تصویر کشی کی، اس کے کان (سننے) اور آنکھ دیکھنے کے قابل بنائے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جو بہترین خالق ہے۔ اور جب نماز کا سلام پھیرتے تو یوں فرماتے کہ اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے اور جو میں نے تجاوز کیا وہ بھی معاف فرما دے اور جن چیزوں کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ بھی معاف فرما دے، آپ ہی اول و آخر ہیں اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 729]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 771
الحكم: إسناده صحيح، م: 771
حدیث نمبر: 730 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فِطْرٌ ، مُنْذِرِ ، ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنِ مُنْذِرِ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ، أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ، وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَكَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اگر آپ کے بعد میرے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ فرمایا: ہاں! یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے رخصت تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 730]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 731 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ" لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ تم سے بغض کوئی منافق ہی کر سکتا ہے اور تم سے محبت کوئی مومن ہی کر سکتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 731]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م: 78
الحكم: إسناده صحيح. م: 78
حدیث نمبر: 732 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ ، حُجَيَّةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ حُجَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں کہ کہیں ان میں کوئی عیب تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 732]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 733 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ:" كُنَّا نَسِيرُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَإِذَا رَجُلٌ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عَلِيٌّ ، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروان بن حکم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ ایک شخص حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہتے ہوئے نظر آیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس کی ممانعت کا حکم جاری کر دیا ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں لیکن آپ کی بات کے آگے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کو نہیں چھوڑ سکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 1563
الحكم: إسناده صحيح. خ: 1563
حدیث نمبر: 734 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، حُجَيَّةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، فَقَالَ: مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ؟ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ، قَالَ: الْعَرْجَاءُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغَتْ الْمَنْسَكَ فَاذْبَحْ، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہے، اس نے پوچھا کہ اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں، اس نے کہا کہ اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: اگر قربان گاہ تک خود چل کر جا سکے تو اسے ذبح کر لو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جانور کے آنکھ اور کان اچھی طرح دیکھ لیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 734]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 735 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَأَبُو عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَأَبُو عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعَاهُ عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ"، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبِيدَةُ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک قوم نکلے گی، ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہو گا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م: 1066
الحكم: إسناده صحيح. م: 1066
حدیث نمبر: 736 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ خَادِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَتْ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُقِيمَ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَأَتَيْتُهَا، فَوَجَدْتُهَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دَمِهَا، فَأَتَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِهَا فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، أَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی باندی سے بدکاری کا گناہ سرزد ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، میں اس کے پاس پہنچا تو ابھی اس کا خون بند نہیں ہوا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اس کا خون رک جائے تو اس پر حد جاری کر دینا اور یاد رکھو! اپنے مملوکوں پر بھی حدود جاری کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 736]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 737 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ «مسح على الخفين» کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 737]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بمجموع طرقه، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق، وأشار الدارقطني فى العلل إلى الاختلاف فى سند الحديث ومتنه
الحكم: حديث صحيح بمجموع طرقه، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق، وأشار الدارقطني فى العلل إلى الاختلاف فى سند الحديث ومتنه
حدیث نمبر: 738 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں پر گدھوں کو کدوانے سے (جفتی کروانے سے) منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 738]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف بالانقطاع بين سالم بن أبى الجعد وعلي بن أبى طالب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف بالانقطاع بين سالم بن أبى الجعد وعلي بن أبى طالب
حدیث نمبر: 739 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ اسْتَخْلَفْتُ أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ، لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 739]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبدالله الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبدالله الأعور
حدیث نمبر: 740 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنَّ فَاطِمَةَ شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْعَجِينِ فِي يَدَيْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَلَمْ تَجِدْهُ، فَرَجَعَتْ، قَالَ: فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا، قَالَ: فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ، فَقَالَ:" مَكَانَكُمَا"، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَهِ، فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا سَبَّحْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدْتُمَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرْتُمَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑ گئے ہیں، اس دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ملے، چنانچہ وہ واپس آگئیں۔ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ رہو، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس بیٹھ گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، اور فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. خ: 3113، م: 2727
الحكم: إسناده صحيح. خ: 3113، م: 2727
حدیث نمبر: 741 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ : أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ" لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیقابوالھیاج اسدی کو مخاطب کر کے فرمایا: میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م: 969
الحكم: إسناده صحيح. م: 969