بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 18 از 41
حدیث نمبر: 902 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي خَلِيفَةَ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ أَبِي ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَلِيفَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نرم ہے، نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطاء فرما دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 902]
حکم دارالسلام
حديث حسن فى الشواهد، عبدالله بن وهب وأبو خليفة كل منهما مقبول، وله شاهد من حديث عائشة عند مسلم برقم: 2593
الحكم: حديث حسن فى الشواهد، عبدالله بن وهب وأبو خليفة كل منهما مقبول، وله شاهد من حديث عائشة عند مسلم برقم: 2593
حدیث نمبر: 903 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، الْأَعْمَشِ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَكْذَبُ الْكَاذِبِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جسے وہ جھوٹ سمجھتا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 903]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 904 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَهِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ:" فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے واقعی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 904]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1066
الحكم: إسناده صحيح، م: 1066
حدیث نمبر: 905 مسند احمد
مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ الْأَسَدِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِيهِ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَسَكَتَ، فَقَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَسَكَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَقَالَ:" لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت ذیل کا نزول ہوا: « ﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97] » تو لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، تین مرتبہ سوال اور خاموشی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔ اور اسی مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ .....﴾ [المائدة: 101] » اے اہل ایمان! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال مت کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تمہیں ناگوار گذریں ......۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 905]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بالشواهد، وهذا إسناد ضعيف، عبد الأعلى الثعلبي ضعيف، وفيه انقطاع أيضاً، أبو البختري لم يسمع علياً
الحكم: حديث صحيح بالشواهد، وهذا إسناد ضعيف، عبد الأعلى الثعلبي ضعيف، وفيه انقطاع أيضاً، أبو البختري لم يسمع علياً
حدیث نمبر: 906 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، الْحَكَمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْمَسْحِ، فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ: فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا" أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو، انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا، چنانچہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں ایک دن رات موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے، جو مسافر کے لئے تین دن اور تین رات ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 906]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 276، وانظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، م: 276، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 907 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، رَفَعَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 907]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 276، الحجاج مدلس، وقد توبع، وانظر ما قبله
الحكم: صحيح، م: 276، الحجاج مدلس، وقد توبع، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 908 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، شُعْبَةَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيًّا
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کا نام بتاؤں؟ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 908]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 909 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا؟ قَالَ: فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي؟ قَالَ: فَذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِالثَّالِثِ، قَالَ: وَسَكَتَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ، فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، وَإِلَّا صُمَّتَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر ہمدانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو (دوران خطبہ یہ) کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اور میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر فرمایا: اگر میں چاہوں تو تمہیں تیسرے آدمی کا نام بھی بتا سکتا ہوں۔ تاہم وہ خاموش رہے، ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ میں نے راوی سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: رب کعبہ کی قسم! ہاں، (اگر میں جھوٹ بولوں) تو یہ کان بہرے ہو جائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 909]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 910 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ" غَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا) چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے تین مرتبہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 910]
حکم دارالسلام
حديث حسن، مسهر - وإن فى حديثه لين - متابع
الحكم: حديث حسن، مسهر - وإن فى حديثه لين - متابع
حدیث نمبر: 911 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ:" شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا"، قَالَ: ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ: بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً: يَعْنِي: بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 911]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 627
الحكم: إسناده صحيح، م: 627
حدیث نمبر: 912 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، خَيْثَمَةَ ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ، وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: جب میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدبیر اور چال کا ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمریں تھوڑی ہوں گی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتیں کریں گے، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 912]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6930، م: 1066
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6930، م: 1066
حدیث نمبر: 913 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے (اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی)، اور دو سو درہم سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 913]
حکم دارالسلام
صحيح، الأعمش قد توبع
الحكم: صحيح، الأعمش قد توبع
حدیث نمبر: 914 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا؟ قَالَ:" وعِنْدَكَ شَيْءٌ؟"، قُلْتُ: بِنْتُ حَمْزَةَ، قَالَ:" هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، فرمایا: وہ تو میری رضاعی بھتیجی ہے۔ (دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 914]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1446
الحكم: إسناده صحيح، م: 1446
حدیث نمبر: 915 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عِكْرِمَةَ ، الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: أَفَضْتُ مَعَ أَبِي مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ" يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، تا آنکہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تھا تو میں نے انہیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 915]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند أبى يعلى والبيهقي
الحكم: إسناده حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند أبى يعلى والبيهقي
حدیث نمبر: 916 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، مَيْسَرَةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ قَائِمًا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: تَشْرَبُ قَائِمًا؟! فَقَالَ:" إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
میسرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 916]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، ابن فضيل - وإن كان روي عن عطاء بعد الاختلاط - قد توبع
الحكم: حسن لغيره، ابن فضيل - وإن كان روي عن عطاء بعد الاختلاط - قد توبع
حدیث نمبر: 917 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتیٰ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 917]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق، وأشار الدارقطني فى العلل إلى الاختلاف فى سند الحديث ومتنه. وانظر ما بعده
الحكم: صحيح لغيره، والأعمش كان مضطرباً فى حديث أبى إسحاق، وأشار الدارقطني فى العلل إلى الاختلاف فى سند الحديث ومتنه. وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 918 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي السَّوْدَاءِ ، ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ ظَهْرَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ"، لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا: اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 919 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَكِيعٌ ، الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ ، عَبْدِ خَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثم تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو سکھایا اور) فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، اس وضو میں انہوں نے ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 920 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُغِيرَةُ ، أُمِّ مُوسَى ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلَى شَجَرَةٍ، أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ، فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حِينَ صَعِدَ الشَّجَرَةَ، فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَضْحَكُونَ؟! لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ درخت پر چڑھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کچھ لانے کا حکم دیا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو درخت پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کی پنڈلی پر بھی نظر پڑی، وہ ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں ہنس رہے ہو؟ یقینا عبداللہ کا ایک پاؤں قیامت کے دن میزان عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 920]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 921 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، رَجُلٍ ، عَلِيٍّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجَمَلِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةِ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ، فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ، حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ امارت کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی جس پر ہم عمل کرتے، بلکہ یہ تو ایک چیز تھی جو ہم نے خود سے منتخب کر لی تھی، پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، ان پر بھی اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے یہاں تک کہ دین نے اپنی گردن زمین پر ڈال دی (یعنی جم گیا اور مضبوط ہو گیا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 921]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عن علي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عن علي