بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 31 از 41
حدیث نمبر: 1162 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: جَاءَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي مَا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نَهَانِي عَنِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْجِعَةِ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، أَوْ قَالَ: حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ"، قَالَ: وَأُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا فَاطِمَةَ، أَوْ عَمَّتَهُ، إِسْمَاعِيلُ يَقُولُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں زید بن صوحان آ گئے اور سلام کر کے کہنے لگے: امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جن چیزوں سے آپ لوگوں کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لک کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی)، نیز ریشم، سرخ زین پوش، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں وہ پہن کر باہر نکلا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یا ان کی پھوپھی کو بھجوا دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1162]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1163 مسند احمد
يُونُسُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَاه يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1163]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 1164 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ ، حُصَيْنٍ الْمُزَنِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِلَّا الْحَدَثُ"، لَا أَسْتَحْيِيكُمْ مِمَّا لَا يَسْتَحْيِي مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالْحَدَثُ: أَنْ يَفْسُوَ أَوْ يَضْرِطَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز حدث کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں ٹوٹتی، اور میں تم سے اس چیز کو بیان کرنے میں شرم نہیں کروں گا جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شرم محسوس نہیں فرمائی، حدث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی ہوا نکل جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1164]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حبان بن على و جهالة حصين المزني
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حبان بن على و جهالة حصين المزني
حدیث نمبر: 1165 مسند احمد
قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ أَبُو عَبَّادٍ الذَّارِعُ ، جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عُتَيْبَةُ الضَّرِيرُ ، بُرَيْدُ بْنُ أَصْرَمَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ أَبُو عَبَّادٍ الذَّارِعُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَصْرَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، وَتَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكَ دِينَارًا وَدِرْهَمًا، فَقَالَ:" كَيَّتَانِ، صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! انہوں نے ترکہ میں ایک دینار اور ایک درہم چھوڑے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغا جائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1165]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لجهالة عتيبة و بريد بن أصرم
الحكم: إسناد ضعيف لجهالة عتيبة و بريد بن أصرم
حدیث نمبر: 1166 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ، مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، رَجُلٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ عَادَ مَرِيضًا مَشَى فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وُكِّلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لئے جاتا ہے گویا وہ جنت کے باغات میں چلتا ہے، جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت کے سمندر میں غوطے کھاتا ہے، اور جب وہاں سے واپس روانہ ہوتا ہے تو اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو اس دن اس کے لئے بخشش کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1166]
حکم دارالسلام
حسن، والصحيح وقفه، و هذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل من الانصار
الحكم: حسن، والصحيح وقفه، و هذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل من الانصار
حدیث نمبر: 1167 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، أخبرنا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ فِي جَنَازَةٍ فَقُمْنَا، وَرَأَيْتُهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہو جاتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود بھی بیٹھے رہنے لگے تو ہم بھی بیٹھنے لگے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م : 962
الحكم: إسناده صحيح، م : 962
حدیث نمبر: 1168 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبَا بُرْدَةَ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ"، قَالَ: وَنَهَى، أَوْ نَهَانِي عَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ، أَوْ الْوُسْطَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور سداد کا سوال کرتا ہوں، اور ہدایت کا لفظ بولتے وقت راستے کی رہنمائی کو ذہن میں رکھا کرو، اور سداد کا لفظ بولتے وقت تیر کی درستگی کو ذہن میں رکھا کرو۔ نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریشم، سرخ زین پوش اور سبابہ یا وسطی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1168]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م : 2078
الحكم: إسناده قوي، م : 2078
حدیث نمبر: 1169 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَوْنٍ ، أَبَا صَالِحٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : ذَكَرْتُ ابْنَةَ حَمْزَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1170 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو شِهَابٍ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، أَبِي الْمُوَرِّعِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَقَالَ:" مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعُ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا، وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ؟"، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا، ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا، وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ:" مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ، يَا عَلِيُّ، لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، أَوْ قَالَ: مُخْتَالًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمُسَوِّفُونَ فِي الْعَمَلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کر دے، اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہو گیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا، اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اے علی! تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے، یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1170]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف لجهالة أبي المورع، وقصة طمس الصورة و تسوية القبر المشرف مضت باءسناد صحيح، برقم : 741
الحكم: إسناد ضعيف لجهالة أبي المورع، وقصة طمس الصورة و تسوية القبر المشرف مضت باءسناد صحيح، برقم : 741
حدیث نمبر: 1171 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَوْنٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، قَالَ: فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصہ میں آگئے حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا تھا۔ پھر مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 2614، م : 2071
الحكم: إسناده صحيح، خ : 2614، م : 2071
حدیث نمبر: 1172 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، أَبِي زُرْعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا جُنُبٌ، وَلَا كَلْبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو، یا تصویر، یا کتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1172]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، دون ذكر الجنب، وهذا إسناد ضعيف لعلل
الحكم: صحيح لغيره، دون ذكر الجنب، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 1173 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أُتِيَ بِتَوْرٍ، فَأَخَذَ حَفْنَةَ مَاءٍ، فَمَسَحَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ وَوَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے، اور جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1173]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5616
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5616
حدیث نمبر: 1174 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أخبرنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أُتِيَ بِكُوزٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 1175 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَهُ أَنْ" يُسَوِّيَ الْقُبُورَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور تمام قبریں برابر کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1175]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة آبي محمد الهذلي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة آبي محمد الهذلي
حدیث نمبر: 1176 مسند احمد
شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبَةَ ، أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أخبرنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ، وَأَنْ يُلَطِّخَ كُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ:" يَا عَلِيُّ، لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، وَلَا مُخْتَالًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ، فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ، أَوْ مَسْبُوقُونَ، فِي الْعَمَلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ ہر قبر برابر کر دو، اور ہر بت پر گارا مل دو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے گھروں میں داخل نہیں ہونا چاہتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بھیجا، جب میں واپس آیا تو فرمایا کہ تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1176]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
الحكم: إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1177 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: وَأَهْلُ الْبَصْرَةِ يُكَنُّونَهُ أَبَا مُوَرِّعٍ، قَالَ: وَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّد، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1177]
حکم دارالسلام
إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
الحكم: إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1178 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ ، عَبْدَ خَيْرٍ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ. ح وحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، قَالَ:" فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، قَالَ حَجَّاجٌ: ثَلَاثًا ثَلَاثًا، بِيَدٍ وَاحِدَةٍ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي التَّوْرِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، قَالَ حَجَّاجٌ: فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَرَدَّهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، قَالَ حَجَّاجٌ: ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کرسی لائی گئی، میں نے انہیں اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا، پھر ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر ایک ہی پانی سے تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ آگے سے پیچھے کی طرف مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، جو شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہے تو وہ یہی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1179 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، أَبِي الْوَضِيءِ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، قَالَ:" الْتَمِسُوا إِلَيَّ الْمُخْدَجَ، فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى، فَقَالُوا: لَيْسَ نَجِدُهُ، فَقَالَ: ارْجِعُوا فَالْتَمِسُوا، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، فَرَجَعُوا فَطَلَبُوهُ، فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، فَانْطَلَقُوا، فَوَجَدُوهُ تَحْتَ الْقَتْلَى فِي طِينٍ فَاسْتَخْرَجُوهُ، فَجِيءَ بِهِ"، فَقَالَ أَبُو الْوَضِيءِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ: حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ ثَدْيٌ قَدْ طَبَقَ إِحْدَى يَدَيْهِ، مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ مِثْلُ شَعَرَاتٍ تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالوضی کہتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل نہروان کے ساتھ جنگ میں مشغول تھے تو میں وہاں موجود تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مقتولین میں ایک ایسا آدمی تلاش کرو جس کا ہاتھ ناقص اور نامکمل ہو، لوگوں نے اسے لاشوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا، اور لوگ کہنے لگے کہ ہمیں نہیں مل رہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دوبارہ جا کر تلاش کرو، واللہ! نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ کئی مرتبہ اسی طرح ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے دوبارہ بھیجتے رہے، اور ہر مرتبہ قسم کھا کر یہ فرماتے رہے کہ نہ میں تم سے جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔ آخری مرتبہ جب لوگوں نے اسے تلاش کیا تو وہ انہیں مقتولین کی لاشوں کے نیچے مٹی میں پڑا ہوا مل گیا، انہوں نے اسے نکالا اور لا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ابوالوضی کہتے ہیں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میں اب بھی اسے اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی تھا جس کے ہاتھ پر عورت کی چھاتی جیسا نشان بنا ہوا تھا، اور اس چھاتی پر اسی طرح بال تھے جیسے کسی جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1180 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کدو کی تونبی اور لک سے بنے ہوئے برتن کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1180]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 5594 ، م : 1994
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 5594 ، م : 1994
حدیث نمبر: 1181 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَلِيٍّ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةٍ، فَأَخَذَ عُودًا يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ مِنَ الْجَنَّةِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10"، قَالَ شُعْبَةُ : وَحَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ فَلَمْ أُنْكِرْ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے، (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی) جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے، تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ - خواہ جنت ہو یا جہنم - اللہ کے علم میں موجود اور متعین ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ فرمایا: عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے وہی اعمال آسان کئے جائیں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ [الليل: 5-7] » جس شخص نے دیا، تقویٰ اختیار کیا، اور اچھی بات کی تصدیق کی تو یقینا ہم اسے آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1181]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 7552، م : 2647
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 7552، م : 2647