مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: جَاءَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي مَا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نَهَانِي عَنِ الْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْجِعَةِ، وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، أَوْ قَالَ: حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الْحَرِيرِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ"، قَالَ: وَأُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَكَسَانِيهَا، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا فَاطِمَةَ، أَوْ عَمَّتَهُ، إِسْمَاعِيلُ يَقُولُ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مالک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں زید بن صوحان آ گئے اور سلام کر کے کہنے لگے: امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جن چیزوں سے آپ لوگوں کو روکا تھا ہمیں بھی ان سے روکیے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کدو کی تونبی، سبز مٹکے، لک کے برتن، لکڑی کو کھود کر بنائے گئے برتن کو استعمال کرنے اور جو کی نبیذ سے منع فرمایا (کیونکہ ان میں شراب کشید کی جاتی تھی)، نیز ریشم، سرخ زین پوش، خالص ریشم اور سونے کے حلقوں سے منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا، میں وہ پہن کر باہر نکلا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یا ان کی پھوپھی کو بھجوا دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 1162]
الحكم: إسناده قوي