بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 818
صفحہ 15 از 41
حدیث نمبر: 842 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَيْسَ الْوَتْرُ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ، وَلَكِنْ سُنَّةٌ فَلَا تَدَعُوهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: وَوَجَدْتُهُ مَكْتُوبًا عِنْدِي:" وَقَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے، لیکن ان کا وجوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے، اس لئے تم اسے ترک نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 842]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 843 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي الْحَسْنَاءِ ، الْحَكَمِ ، حَنَشٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ"، فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا حکم دیا، چنانچہ میں آخر دم تک ان کی طرف سے قربانی کرتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 843]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى الحسناء وضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى الحسناء وضعف شريك
حدیث نمبر: 844 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٍ ، الشَّعْبِيِّ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گودوانے والی پر لعنت فرمائی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 844]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي والحارث الأعور
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي والحارث الأعور
حدیث نمبر: 845 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ غَدَاةٍ، فَإِذَا تَنَحْنَحَ دَخَلْتُ، وَإِذَا سَكَتَ لَمْ أَدْخُلْ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ:" حَدَثَ الْبَارِحَةَ أَمْرٌ، سَمِعْتُ خَشْخَشَةً فِي الدَّارِ، فَإِذَا أَنَا بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقُلْتُ: مَا مَنَعَكَ مِنْ دُخُولِ الْبَيْتِ؟ فَقَالَ: فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَإِذَا جَرْوٌ لِلْحَسَنِ تَحْتَ كُرْسِيٍّ لَنَا"، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا يَدْخُلُونَ الْبَيْتَ إِذَا كَانَ فِيهِ ثَلَاثٌ: كَلْبٌ، أَوْ صُورَةٌ، أَوْ جُنُبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا، اگر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے، اور جب وہ خاموش رہتے تو میں گھر میں داخل نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر نکل کر فرمایا کہ آج رات عجیب واقعہ ہوا ہے، مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے حضرت جبرئیل علیہ السلام کھڑے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ گھر کے اندر کیوں نہیں آ رہے؟ وہ کہنے لگے: آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آگیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آ سکتا، اور واقعی حسن کی کرسی کے نیچے کتے کا ایک پلہ موجود تھا، اور فرمایا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 845]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعلل
الحكم: إسناده ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 846 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ، لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 846]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 847 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، رِزَامُ بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ ، جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا رِزَامُ بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" إِذَا خَذَفْتَ فَاغْتَسِلْ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَإِذَا لَمْ تَكُنْ خاذِفًا فَلَا تَغْتَسِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے کثرت سے خروج مذی کا عارضہ لاحق رہتا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر خروج منی ہو جائے تو غسل کیا کرو جس طرح جنابت کی صورت میں کیا جاتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 847]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، جواب بن عبيد الله التيمي فيه مقال
الحكم: حسن لغيره، جواب بن عبيد الله التيمي فيه مقال
حدیث نمبر: 848 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى ، طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَالَ: انْظُرُوا، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهُ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِالْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حَلْقَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الْحَقِّ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، سِيمَاهُمْ أَنَّ مِنْهُمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ، فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ"، إِنْ كَانَ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ، فَبَكَيْنَا، ثُمَّ قَالَ: اطْلُبُوا، فَطَلَبْنَا فَوَجَدْنَا الْمُخْدَجَ، فَخَرَرْنَا سُجُودًا، وَخَرَّ عَلِيٌّ مَعَنَا سَاجِدًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طارق بن زیادہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خوارج سے جنگ کے لئے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا اور فرمایا: دیکھو! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: عنقریب ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بات تو صحیح کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گی، وہ لوگ حق سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ ان میں ایک شخص کا ہاتھ ناتمام ہوگا، اس کے ہاتھ (ہتھیلی) میں کالے بال ہوں گے، اب اگر ایسا ہی ہے تو تم نے ایک بدترین آدمی کے وجود سے دنیا کو پاک کر دیا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم نے ایک بہترین آدمی کو قتل کر دیا، یہ سن کر ہم رونے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے تلاش کرو، چنانچہ ہم نے اسے تلاش کیا تو ہمیں ناقص ہاتھ والا ایک آدمی مل گیا، جسے دیکھ کر ہم سجدے میں گر پڑے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ ہی سربسجود ہو گئے، البتہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ان کی بات صحیح تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 848]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1066، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طارق بن زياد الكوفي
الحكم: حديث صحيح، م: 1066، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طارق بن زياد الكوفي
حدیث نمبر: 849 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ سورة الواقعة آية 82، يَقُولُ: شُكْرَكُمْ، أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ سورة الواقعة آية 82، تَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، بِنَجْمِ كَذَا وَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن کریم میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم نے اپنا حصہ یہ بنا رکھا ہے کہ تم تکذیب کرتے رہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو: فلاں فلاں ستارے کے طلوع و غروب سے بارش ہوئی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 849]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 850 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ:" وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ سورة الواقعة آية 82" قَالَ مُؤَمَّلٌ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ إِسْرَائِيلَ رَفَعَهُ، قَالَ: صِبْيَانٌ، صِبْيَانٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 850]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره كسابقه
الحكم: صحيح لغيره كسابقه
حدیث نمبر: 851 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ، وَلَا مُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ"، قَالَ زُهَيْرٌ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: أَذَكَرَ عَضْبَاءَ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: مَا الْمُقَابَلَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ، قُلْتُ: مَا الْمُدَابَرَةُ؟ قَالَ: يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ، قُلْتُ: مَا الشَّرْقَاءُ؟ قَالَ: تُشَقُّ الْأُذُنُ، قُلْتُ: مَا الْخَرْقَاءُ؟ قَالَ: تَخْرِقُ أُذُنَهَا السِّمَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ قربانی کے جانور کے کان اور آنکھ اچھی طرح دیکھ لیں، کانے جانور کی قربانی نہ کریں، مقابلہ، مدابرہ، شرقاء یا خرقاء کی قربانی نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابواسحاق سے پوچھا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عضباء کا ذکر بھی کیا تھا یا نہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! پھر میں نے پوچھا کہ مقابلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے پوچھا کہ مدابرہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ جانور جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، میں نے شرقاء کا معنی پوچھا، تو فرمایا: جس کا کان چیرا ہوا ہو، میں نے خرقاء کا معنی پوچھا، تو انہوں بتایا: وہ جانور جس کا کان پھٹ گیا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 851]
حکم دارالسلام
حسن. وهذا إسناد ضعيف، زهير سمع من أبى إسحاق بعد تغيره
الحكم: حسن. وهذا إسناد ضعيف، زهير سمع من أبى إسحاق بعد تغيره
حدیث نمبر: 852 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ، لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 852]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 853 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ، وَقِرْبَةٍ، وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ"، قَالَ مُعَاوِيَةُ: إِذْخِرٌ، قَالَ أَبِي: وَالْخَمِيلَةُ: الْقَطِيفَةُ الْمُخَمَّلَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 853]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 854 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٌّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سینے سے لے کر سر تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہیں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نچلے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
الحكم: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 855 مسند احمد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، لِعَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيٍّ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، يَعْنِي: الْمَنَارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 855]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 1978
الحكم: إسناده قوي، م: 1978
حدیث نمبر: 856 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَإِذَا أَمْذَيْتُ اغْتَسَلْتُ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، وَقَالَ" فِيهِ الْوُضُوءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے جسم سے مذی کا اخراج بکثرت ہوتا تھا، جب ایسا ہوتا تو میں غسل کر لیتا، پھر میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حل پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: اس میں صرف وضو ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 856]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، هانئ بن هانئ مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، هانئ بن هانئ مجهول
حدیث نمبر: 857 مسند احمد
أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ ، أخبرنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنا، وَجَعْفَرٌ، وَزَيْدٌ، قَالَ: فَقَالَ لِزَيْدٍ:" أَنْتَ مَوْلَايَ"، فَحَجَلَ، قَالَ: وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَنْتَ أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي"، قَالَ: فَحَجَلَ وَرَاءَ زَيْدٍ، قَالَ: وَقَالَ لِي:" أَنْتَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْكَ"، قَالَ: فَحَجَلْتُ وَرَاءَ جَعْفَرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں، سیدنا جعفر اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: زید! آپ ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہیں، جعفر! آپ تو صورت اور سیرت میں میرے مشابہہ ہیں، اور علی! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں۔ اس ترتیب میں نبی صلی اللہ علیہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور میرا ذکر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 857]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة هانئ بن هانئ
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة هانئ بن هانئ
حدیث نمبر: 858 مسند احمد
أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، قَالَ: قِيلَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَكَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِن سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ آپ سے بیان کی ہو؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی خصوصی بات نہیں کی جو دوسرے لوگوں سے چھپائی ہو، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرے، اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کے بیج بدل دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 858]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 1978
الحكم: إسناده قوي، م: 1978
حدیث نمبر: 859 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ يَعْنِي الْفَرَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ نُؤَمَّرُ بَعْدَكَ؟ قَالَ:" إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، تَجِدُوهُ أَمِينًا، زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا، رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا، لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَا أُرَاكُمْ فَاعِلِينَ، تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، يَأْخُذُ بِكُمْ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے بعد ہم کسے اپنا امیر مقرر کریں؟ فرمایا: اگر ابوبکر کو امیر بناؤ گے تو انہیں امین پاؤ گے، دنیا سے بےرغبت اور آخرت کا مشتاق پاؤ گے، اگر عمر کو امیر بناؤ گے تو انہیں طاقتور اور امین پاؤ گے، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے - لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے - تو انہیں ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے، جو تمہیں صراط مستقیم پر لے کر چلیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 859]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعلل
الحكم: إسناده ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 860 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، رَجُلًا ، رَجُلٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ عَنَزَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِالْوَتْرِ، ثَبَتَ وِتْرُهُ هَذِهِ السَّاعَةَ"، يَا ابْنَ النَّبَّاحِ أَذِّنْ، أَوْ ثَوِّبْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں تشریف لائے، (لوگوں نے ان سے وتر کے متعلق سوالات پوچھے) انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کر لیا کریں۔ ابن نباح! اٹھ کر اذان دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 860]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل من بني أسد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل من بني أسد
حدیث نمبر: 861 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، رَجُلٌ ، رَجُلٍ ، عَلِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا نُوِتْرٍ، فَثَبَتَ لَهُ هَذِهِ السَّاعَةَ"، ثُمَّ قَالَ: أَقِمْ يَا ابْنَ النَّوَّاحَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، اس وقت مؤذن نماز فجر کے لئے لوگوں کو مطلع کر رہا تھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اس وقت وتر ادا کر لیا کریں۔ ابن نواحہ! اٹھ کر اقامت کہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 861]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه