أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَإِذَا أَمْذَيْتُ اغْتَسَلْتُ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ، وَقَالَ" فِيهِ الْوُضُوءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے جسم سے مذی کا اخراج بکثرت ہوتا تھا، جب ایسا ہوتا تو میں غسل کر لیتا، پھر میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا حل پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: ”اس میں صرف وضو ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 856]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، هانئ بن هانئ مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، هانئ بن هانئ مجهول