بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 705
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 705
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَبِيهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنَ اللَّيْلِ، فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْنَا، فَأَيْقَظَنَا، وَقَالَ:" قُومَا فَصَلِّيَا"، قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنِي وَأَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ، وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ:" مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا! وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت ہمارے یہاں تشریف لائے اور ہمیں نماز کے لئے جگا کر خود اپنے کمرے میں جا کر نماز پڑھنے لگے، کافی دیر گزرنے کے بعد جب ہماری کوئی آہٹ نہ سنائی دی تو دوبارہ آ کر ہمیں جگایا اور فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو، میں اپنی آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا اور عرض کیا ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لئے لکھ دی گئی ہے اور ہماری روحیں اللہ کے قبضے میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے اٹھا دیتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر مجھے کوئی جواب نہ دیا اور واپس چلے گئے، میں نے کان لگا کر سنا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ران پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم صرف وہی نماز پڑھ سکتے ہیں جو ہمارے لئے لکھ دی گئی ہے انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 705]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، و إسناده حسن
الحكم: حديث صحيح، و إسناده حسن
← پچھلی حدیث (704) باب پر واپس اگلی حدیث (706) →